37

یتیم بچیاں کس کے ہاتھ پر اپنے والد کا لہو تلاش کریں؟۔۔۔ شعور میڈیا نیٹ ورک انٹرنیشنل ۔۔۔

ازقلم: محمد عامر اقبال شاہ

آج صبح یہ تصویر دیکھی بہت دکھ ہوا یہ بندہ پرسوں میرے پاس آیا اور کہنے لگا میرا بھائی زمین کی خاطر مجھے قتل کرنا چاہتا ہے میری بیٹیاں ہیں بیٹا کوئی نہیں آخری عمر ہے میں چاہتا ہوں زمین بیچ کر بیٹیوں کا فرض ادا کردوں بھائی مجھے اپنی زمین بھی نہیں بیچنے دیتا کیس کر کے قبضے کی کوشش کرتا ہے میں غریب آدمی ہوں میرے پاس کچھ نہیں بھائی کے پاس پنشن کے پیسے ہیں سارے پیسے پولیس کو دے کر میرے خلاف استعمال کرتا ہے میری بیٹیوں کو مارتا ہے۔

میں ڈی ایس پی دنیا پور کے پاس گیا تو اس نے بھی ایک نا سنی، الٹا ان کے ساتھ مل کے میری بے عزتی کرتا ہے اور مجھے دفتر سے نکال دیتا ہے کہہ رہا تھا میں ڈی پی او صاحب کے پاس گیا تو انہوں نے مجھے ڈی ایس پی کہروڑ پکا کے پاس بھیج دیا اب میرا بھائی پیسے لے کر ڈی ایس پی کہروڑ پکا کے پاس گیا ہوا ہے کوئی میری سننے والا نہیں میں نے اسے تسلی دی کہ ڈی پی او صاحب ایماندار آدمی ہیں آپ کی سنیں گے اور آپ کا مسئلہ حل کریں گے بے فکر ہو جاؤ۔

آج اس بیچارے غریب کا مسئلہ حل ہو گیا بہت دکھ ہوا سکون نہیں آرہا تھا بار بار اس کی باتیں یاد آرہی تھیں لیکن ہم اپوزیشن میں ہوتے ہوئے کر بھی کیا سکتے تھے سوائے تسلی دینے کے میں نے ڈی ایس پی دنیا پور کو فون بھی کئے مگر اس نے اٹینڈ نہیں کئے چپ ہو گیا۔ کیسی بے حسی ہے اگر پولیس اس کی بروقت مدد کر دیتی تو شاید آج ان یتیم بچیوں سے ان کے سر کا سایہ نا جاتا اگر محترم ڈی پی او صاحب بھی کوئی فوری ایکشن لے لیتے تو ایک غریب کی جان بچ سکتی تھی اگر ڈی ایس پی دنیا پور سوچ لیتا کہ غریب کی بچیوں کو انصاف دے دوں تو شاید یہ واقعہ پیش نا آتا مگر بدقسمتی سے یہاں انصاف لینے کے لئے بھی غریب کو موت کا مزا چکھنا پڑتا ہے۔

سوچ رہا ہوں میں بھی اس غریب کی کوئی مدد نا کر سکا سوائے جھوٹی تسلی کے اب اس کی یتیم بیٹیاں کس کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کریں گی کون ان کی مدد کرے گا کون کون اس کا قاتل ہو گا میں حکومت وقت یا محکمہ پولیس یا اس کے بےدرد بھائی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں