31

کروڑلعل عیسن: دریائے سندھ کا کٹاؤ جاری، ارباب اختیارسے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ

کروڑ لعل عیسن (یوسف رانا سے) موضع واڑہ سیہڑاں کی آٹھ بستیاں صفحہ ہستی سے مٹنے کے بعد دریائے سندھ کارخ بستی راکہواں بستی گاذراں بستی مکوڑی کی طرف بڑھ رہاہے اوردریا کے شدید کٹاؤ کی زد میں ھیں اگریہ جاری رھا تو بہت ساری بستیاں اسکی زد میں آجائیں گی اور ھزاروں لوگ گھر سے بے گھر ھو جائیں گی اور اسکا روکنا مشکل ھوجاۓ گا اسلیئے جلدی اسکی روک تھام کیلئے بندوبست کیا جائے.

تفصیلات کے مطابق بستی منجوٹہ کے مکینوں کے گھر دریا برد ھو چکے ھیں اور ان بیچاروں کے مکان زمینیں اور لہلہاتی فصلیں دریا کی نظر ھوچکی ہیں سنکڑوں ایکڑزرعی زمین دریا کے نگل گیا اور کئ مساجد اور سکول بھی دریا کی نظر ھو چکے ھیں اب ان غریبوں کیلئے نہ رہنے کو مکان ھے نہ کھانے کو راشن اب سواۓ آسمان کے ان کیلئے کوئ چھت نھیں.

اس گرمی میں بغیر مکان کے زندگی گزار رھے متاثرین حلقے کے تمام پارٹیوں کے تمام ذمہ داران اورایم این اے ایم پی اےاور حکومتی اداروں اور وزیر اعلی پنجاب عثمان بزداراور وزیر اعظم عمران خان سے مطالبہ ھے کہ ان تمام متأثرین کو حکومت کی جانب سے فی الفور مکان بنانے کیلئے زمین آلاٹ کی جائے اور مکان بنانے کیلئے مکمل ان کا تعاون کیا جاۓ اور ان کیلئے راشن کا خصوصی بندوبست کیا جاۓ.

فی الوقت ان کو عارضی طور پر مکان دیے جائیں اور یھاں پرمکمل سپر بند باندھا جاۓ اور انکا سامان محفوظ جگہ منتقل کرنے کیلئے مقامی حکومتی ذمہ داران مکمل تعاون کریں اور ان تمام حضرات سے گزارش ہیکہ اس دریائے کٹاؤ اور سیلاب کی روک تھام کیلئے مکمل بندوبست کیا جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں