17

چیف الیکشن کمشنردس یوم کے اندر اندر الیکشن شیڈول جاری کریں: آل پارٹیز کانفرنس

گلگت (ویب ڈیسک) گلگت میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس نے انتباہ کیا ہے کہ دس روزمیں الیکشن شیڈول کا اعلان نہ کیا گیا تو اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ اے پی سی کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ صدر پاکستان نے گلگت بلتستان اسمبلی کے )عام انتخابات کیلئے تاریخ کا اعلان کیا لیکن چیف الیکشن کمشنر نے چیف کورٹ کے عبوری حکم کو بنیاد بنا کرانتخابات ملتوی کردیئے جبکہ عدالت عالیہ گلگت بلتستان نے تیرہ اگست کو حتمی فیصلہ جاری کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کو حکم دیا ہے کہ تین ماہ کے اندر شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنایا جائے، لہٰذا چیف الیکشن کمشنر دس یوم کے اندر اندر الیکشن شیڈول جاری کریں۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر آمدہ انتخابات کو شفاف اور غیر جانبدار بنانے کیلئے عملی اقدامات کریں تاکہ انتخابی نتائج سب کیلئے قابل قبول ہوں، اعلامیہ پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں عاشورہ محرم کے بعد تمام سیاسی و دینی جماعتیں آئندہ کے مشترکہ لائحہ عمل کا اعلان کرینگی۔ جمعرات کے روز اسلامی تحریک پاکستان کے زیر اہتمام گلگت میں آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، اے پی سی میں تحریک انصاف، مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی، ایم ڈبلیو ایم، جماعت اسلامی ، اسلامی تحریک، جمعیت علماء اسلام، آل پاکستان مسلم لیگ کے نمائندوں نے شرکت کی۔

آل پارٹیز کانفرنس سے خطا ب کرتے ہوئے صدر پیپلز پارٹی امجد ایڈووکیٹ نے کہا کہ الیکشن ملتوی کرنے کی کوئی خاص وجہ نہیں، ووٹر لسٹیں اب تک کیوں مرتب نہیں کی گئیں، ذمہ داروں کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے الیکشن شیڈول کا اعلان لوگوں کو بے وقوف بنانے کے لیے کیا گیا الیکشن ملتوی کرانے اور تاخیر میں گورنر ،گنڈا پور اور وفاقی حکومت ملوث ہے اور الیکشن وقت پر ہوتے ہوئے نظر نہیں آرہے۔

اسلامی تحریک کے رہنما شیخ میرزا علی نے کہا کہ آئین اور قانون کے مطابق نگراں حکومت کے قیام کے 90 دن کے اندر الیکشن ہونے چاہیے جبکہ جی بی کے عوام کو حق حکومت سے محروم رکھا جارہا ہے کسی ادارے کی عدم توجہی کی سزا 20 لاکھ عوام کو کیوں دی جارہی ہے 8 لاکھ ووٹرز کے لیے بروقت الیکشن کی تیاری نہ ہونا اور اسمبلی کو معطل رکھنا سوالیہ نشان ہے مسلم لیگ ن کے رہنما و سابق وزیر اورنگزیب ایڈووکیٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی بروقت تیاری نہ ہونے کی وجہ سے الیکشن ملتوی ہوئے ہم نے حکومت میں رہ کر بھی بروقت الیکشن کے انعقاد کو ممکن بنانے کے لیے کہا کنٹرولڈ جمہوریت علاقے کے مفاد میں نہیں عوام کو آزادانہ حق رائے دہی استعمال کرنے کی اجازت ہونی چاہیے.

تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر کاکا جان اور جہانگیر جگری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کے ملتوی ہونے کی تحریک انصاف ذمہ دار نہیں ہے بروقت آزادانہ اور غیر جانبدارانتخابات ہونے چاہیے تاکہ عوامی رائے کا احترام ہوسکے تحریک انصاف روز اول سے انتخابات میں تاخیر کی مخالف تھی ہے اور رہے گی جمعیت علماء اسلام کے امیر مولانا عطااللہ شہاب نے کہا کہ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کا مشترکہ موقف ہے کہ بروقت صاف شفاف انتخابات کو یقینی بنایا جائے اور الیکشن میں تاخیر کے ذمہ دار وہ ہیں جو مراعات پروٹوکول لے کر کام نہیں کرتے وفاق کی طرح کے الیکشن جی بی میں نہیں ہونے چاہیے انتخابات صاف شفاف انتخابات ہونے چاہیے.

مجلس وحدت المسلمین کے رہنما کمیل ایڈووکیٹ نے کہا کہ الیکشن میں تاخیر کی ذمہ دار موجودہ وفاقی حکومت سابق صوبائی حکومت اور الیکشن کمیشن ہے الیکشن میں تاخیر کی کسی صورت حمایت نہیں کرسکتے جماعت اسلامی کے رہنما نظام الدین نے کہا کہ بروقت الیکشن ہوتے ہوئے نظر نہیں آتے الیکشن میں تاخیر سے مزید مسائل بڑھ سکتے ہیں الیکشن کمشنرنے تعیناتی کے 6 ماہ تک کوئی کام نہیں کیا جس کی وجہ سے الیکشن میں تاخیر ہوئی گلگت بلتستان کے انتخابات 2018ء کے وفاقی الیکشن جیسے نہیں ہونے چاہیے بلکہ صاف شفاف ہونے چاہیے آل پاکستان مسلم لیگ کے رہنما کریم خان عرف کے کے نے کہا کہ 2015 کی ووٹروں لسٹوں کے تحت انتخابات پر اعتراض ہے نئی ووٹر لسٹیں مرتب کی جائیں اور جنرل الیکشن کے ساتھ بلدیاتی انتخابات بھی کرائے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں