62

لودھراں: پولیس نوبیاہتا دلہن پر تیزاب ڈالنے والے افراد کو گرفتار کرنے سے گریزاں، حکام بالا سے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ

لودہراں (ملک عبدالشکورحیدری ایڈووکیٹ سے) شادی کے چھ روز بعد شوہر نے دیگر رشتہ داروں کیساتھ مل کر نوبیاہتا دلہن پر تیزاب ڈال دیا۔جس سے چہرہ اور جسم جھلس گیا۔ بینائی ختم ہوگئی۔ ملزم خود ہی مدعی بن گئے۔تفتیشی تھانے دار نے متاثرہ لڑکی کے 161 کے اصل بیان لکھنے کی بجائے تفتیشی نےاپنی مرضی سے لکھ دیئے۔ دو ملزمان کو جوڈیشل کردیا۔ پانچ ماہ گزرنے کے باوجود باقی تین ملزمان کو گرفتار نہیں کر رہی۔ ملزمان سے ساز باز ہو چکی ہے تیزاب گردی کا شکار ہونے والی بدقسمت دلہن کی اپنے والد اور رشتہ دار کے ہمراہ پریس کانفرنس۔

تفصیل کے مطابق تھانہ دھنوٹ کے علاقہ بستی جٹووالا موضع واہی نو کی رہائشی شریفاں بی بی عرف سمیرا بی بی نے اپنے والد غلام یاسین اور اپنے رشتہ دار محمد اعجاز کے ہمراہ پریس کلب لودھراں میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ماہ جون میں میری شادی میری خالہ کے بیٹے الطاف سے ہوئی تھی۔

شادی کے چھ روز بعد 21 اور 22 جون کی درمیانی شب میرے شوہر نے اپنے دیگر اہل خانہ کے ہمراہ مبینہ طور پر ساز باز ہو کر مجھے نشہ آور دودھ پلانے کے بعد مجھ پر تیزاب پھینک دیا جس سے میری آنکھیں ضائع ہونے کے علاوہ میرا چہرہ اور جسم کا کافی حصہ بھی جھلس گیا شریفاں کے والد غلام یاسین اور رشتہ دار اعجاز نے بتایا کہ میری شریفاں کی شادی کے چھ روز بعد ظالم شوہر نے اپنے رشتہ داروں سے مبینہ ساز باز ہو کر پہلے تو اسے نشہ آور دودھ پلایا جس کے بعد اس پر تیزاب انڈیل دیا جس کے نتیجے میں اس کا چہرہ اور جسم بری طرح جھلس گئے۔

اس کے سسرالیوں نے اس واقعہ کے تقریبا سوا گھنٹے بعد ریسکیو 15 اور ریسکیو 1122 پر کال کی اور میری بیٹی کا دیور محمد ممتاز خود ہی مدعی بن گیا۔حالانکہ الطاف اس کا بھائی ممتاز وغیرہ اس تمام منصوبہ بندی میں شامل تھے۔یاسین نے الزام لگایا کہ الطاف کےاپنی بھابھی نسرین کے ساتھ مبینہ طور پر ناجائز تعلقات تھے جس کے کہنے پر میری بیٹی کو راستے سے ہٹانے کے لئے یہ تمام منصوبہ بندی کی گئی تاکہ اس راستے سے ہٹا دیا جائے۔

پولیس تھانہ دھنوٹ نے مبینہ طور پر ساز باز ہو کر مقدمہ نمبر 244/20 بجرم 336.B ظالم شوہر کے بھائی ممتاز کی مدعیت میں درج کرلیا تھا۔جس کے بعد مجھے مدعی بنایا گیا ہے۔ تفتیشی تھانیدار نے 161 کے بیانات جو اس نے لکھوائے تھے لکھنے کی بجائے اپنی مرضی کا بیان لکھ لیا پولیس چونکہ ملزمان سے مبینہ طور پر سازباز ہوچکی ہے پولیس نے 2 ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا ہے جبکہ باقی تین ملزمان نسرین اسکا بھائی راشد اور اختر کو تقریبا 5 ماہ کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی گرفتار نہیں کر رہی۔

بدقسمت دلہن شریفاں بی بی عرف سمیرا بی بی نے الزام لگایا ھے کہ میرے ماموں عبدالرشید اور عبداللہ مبینہ طور پر ملزمان سے ساز باز ہو چکے ہیں۔ میری مدد کرنے کی بجائے اپنے بھانجے کو بچانے کے لئے اثر انداز ہو رہے ہیں۔سائلہ نے وزیراعظم، وزیراعلی پنجاب،آئی جی پنجاب پولیس،ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو گرفتار کیا جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دیتے ہوئے مجھے انصاف فراہم کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں