209

صفوراں بی بی قتل کیس: پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن کی جانب سے گلزار ہسپتال اینڈ میٹرنٹی ہوم کا ڈاکٹر محمد سلیم وینس مجرم قرار، جھوٹے گواہ کیخلاف بھی فوری کارروائی کے احکامات جاری

ملتان (عبدالشکورحیدری سے) صفوراں بی بی قتل کیس: پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن کی جانب سے گلزار ہسپتال اینڈ میٹرنٹی ہوم کا ڈاکٹر محمد سلیم وینس مجرم قرار، 5 لاکھ جرمانہ، کیس پی ایم اینڈ ڈی سی میں بھیجنے کے احکامات۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن نے صفوراں بی بی قتل کیس کا حتمی اور تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے گلزار ہسپتال اینڈ میٹرنٹی ہوم کے ڈاکٹر محمد سلیم وینس کومجرم قراردے دیا ۔ اور ڈاکٹرمحمد سلیم وینس کو پانچ لاکھ جرمانہ اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو ڈاکٹرمحمد سلیم وینس کیخلاف کارروائی کرنے کے احکامات بھی جاری کئے گئے ہیں۔ اور جھوٹی گواہی دینے پر حاجی محمد اسلم کیخلاف بھی کارروائی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں ۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر محمد سلیم وینس کے ‘گلزارہسپتال اینڈ میٹرنٹی ہوم’ میں ڈاکٹر محمد سلیم وینس اور اسکی اہلیہ ڈاکٹر نفیسہ سلیم کی نااہلی اور غفلت کی وجہ سے دوران آپریشن شہری محمد اکرم کی بیوی صفوراں بی بی کی موت واقع ہو گئی تھی۔ جس کا کیس پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن میں چل رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: نشترمیڈیکل یونیورسٹی ملتان: ڈاکٹرمحمد سلیم سرکاری الاؤنس میں غبن ثابت ہونے پر پیڈا ایکٹ کے تحت چارج شیٹ

پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن نے مدعی محمد اکرم اور مجرم ڈاکٹر محمد سلیم وینس کے بیانات لینے اور حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے جس کے مطابق ڈاکٹر محمد سلیم وینس کے ہسپتال “گلزار ہسپتال اینڈ میٹرنٹی ہوم” کو پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن کی جانب سے مرحومہ صفوراں بی بی کے آپریشن سے دو روز قبل ہسپتال میں صفائی کی ناقص صورتحال اورتجربہ کارعملہ کی کمی کی وجہ سے ہسپتال میں ہمہ قسم کے آپریشن سے منع کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود بھی ڈاکٹر محمد سلیم اور اسکی اہلیہ ڈاکٹر نفیسہ سلیم نے مرحومہ کا آپریشن کرتے ہوئے اسے اپنی لالچ کی بھینٹ چڑھا دیا۔

ڈاکڑ محمد سلیم                                                                                                                                             محمد اکرم

یاد رہے کہ اس سے قبل ڈاکٹر محمد سلیم کوذاتی ہسپتال ‘گلزارہسپتال اینڈ میٹرنٹی ہوم’ چونگی نمبر 6 بوسن روڈ ملتان میں غیر قانونی آٌپریشن کرنیکے ساتھ ساتھ گورنمنٹ آف پاکستان سے نان پریکٹس الاؤنس وصول کرنے کے جرم میں نشتر ہسپتال کے پرو وائس چانسلر ڈاکڑ احمد اعجاز مسعود کی زیرنگرانی چار رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے اپنی انکوائری رپورٹ مکمل کرکے ڈاکٹر محمد سلیم کو مجرم قرار دے دیا تھا۔ اور فوری طور پر ڈاکٹر محمد سلیم سے غبن شدہ رقم وصول کرنیکا حکم کرتے ہوئے پیڈا ایکٹ 2006 کے تحت بھی کارروائی کی سفارش کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: نشترمیڈیکل یونیورسٹی کے ڈاکٹرمحمد سلیم پرسرکاری الاؤنس کے غبن کا الزام ثابت، انکوائری رپورٹ جاری

شہری محمد اکرم نے الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر محمد سلیم اور اسکی اہلیہ ڈاکٹر نفیسہ سلیم عرصہ دراز سے گلزار ہسپتال اینڈ میٹرنٹی ہوم چلا رہے ہیں اور انکے ہسپتال میں اس سے قبل بھی کئی خواتین کی اموات واقع ہوچکی ہیں لیکن اپنے سیاسی اثرورسوخ اور پیسے کے استعمال کی وجہ سے اب تک ان ظالم ڈاکٹر میاں بیوی کےخلا ف کوئی کارروائی نہ کی گئی ہے۔

علاوہ ازیں شہری محمد اکرم نے حکام بالاکو درخواست کی ہے کہ ڈاکٹرمحمد سلیم اپنے سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے مجھے جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کی کوشش کر رہا ہے جس کی شفاف انکوائری کروا کر سائل کو تحفظ فراہم کیا جائے اور ڈاکٹر محمد سلیم اور اسکی اہلیہ ڈاکٹر نفیسہ سلیم کو قرارواقعی سزا دے کر باعث عبرت بنایا جائے تاکہ میرا، میرے بچوں اور دیگر اس خونی ہسپتال میں ہونیوالی اموات کے خاندانوں کے دکھوں کا کچھ مداوا ہو سکے اور آئندہ کوئی سادہ لوح انسان ان درندہ صفت بھیڑیوں کی بھینٹ نہ چڑھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں