57

ہم تو لکھتے ہیں کہ تم پڑھو شاید … شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: سید عامر اقبال شاہ
سابق ایم پی اے
(مخدوم عا لی ) ضلع لودھراں

ہم تو لکھتے ہیں … کہ تم پڑھو شاید
داد پانے کو …. کون لکھتا ہے

کافی دنوں سے لکھنے لکھانے کا کام میں نے چھوڑ دیا صرف اس لئے کہ میرا تعلق کیونکہ سیاست سے ہے اور سیاست میں ہوتے ہوئے عوامی مسائل کی نشاندہی اور ان کا حل ہی لکھنا بنتا ہے جب مسائل کے بارے میں لکھا جاتا ہے تو حل تو حکومت کے پاس ہی ہوتا ہے تو نا چاہتے ہوئے بھی تنقید ہو ہی جاتی ہے میرا تعلق جس پارٹی سے ہے میں نے کبھی ان کے بارے میں بھی تعریفی کلمات نہی لکھے کوشش کرتا ہوں اگر کچھ لکھا بھی جائے تو سچ ہی لکھا جائے آج کل جو موضوع زیر بحث ہیں میں ان کے بارے میں بھی لکھنا مناسب نہیں سمجھتا اپنے اداروں یا اپنے ملک کے سیاست دانوں کے بارے میں توہین آمیز باتیں لکھنا اچھی بات نہیں.

یہ بھی پڑھیں: قوم کے معماروں کی تذلیل اور حکومت وقت کے دعوے

میں نے کبھی اپنے مدمقابل سیاست دانوں کے متعلق بھی کچھ نہیں لکھا میرے لئے سب قابل احترام ہیں ہاں میں کافی دنوں سے سوچ رہا تھا کہ اپنے محترم وزیر اعظم کے بارے میں کچھ اچھا لکھوں جس سے ہمارے پی ٹی آئی والے دوست بھی خوش ہو جائیں اچھے مواد کی تلاش میں تھا کہ کوئی ایسا کارنامہ نظر آ جائے جس سے میں اپنے محترم وزیراعظم کے بارے میں تعریفی کلمات لکھ سکوں مجھے میرے محترم وزیراعظم کے انٹر ویو دیکھنے اور سننے کا شرف حاصل ہوا کمال مہارت سے انٹرویو دئے ہر ہر لفظ میں موتی پروئے ہوئے تھے.

میرے محترم وزیراعظم ایسے مدلل طریقے سے گفتگو کرتے ہیں کہ جھوٹ سے بھی سچ کا گمان ہونے لگ جاتا ہے انٹرویو لینے والا بھی ماشاللہ خوب محب وطن تھا کمال کی صحافت تھی تمام مسائل اسی انٹرویو میں ہی حل کرادئے ملک تیزی سے ترقی کی طرف گامزن ہوتا دکھائی دے رہا تھا میرے محترم وزیر اعظم کا ویژن کمال کا ہے جو جو باتیں بھی وہ کرتے ہیں کمال کی ہیں سننے لائق ہیں کاش ایسا ہوتا کہ میرے محترم وزیراعظم کی باتوں سے غریب سفید پوش لوگوں کا پیٹ بھی بھر جاتا تو کیا کہنے تھے.

یہ بھی پڑھیں: ہماری تعلیمی پالیسیاں 

کاش میرے محترم وزیراعظم نئے شہر بسانے سے پہلے پرانے شہریوں کی زندگیاں آسان کر دیتے ان کے لئے کھانے پینے کی اشیاء سستی کرا دیتے بجلی کے بلوں میں کوئی ریلیف دے دیتے کسانوں کے لئے کوئی ریلیف پیکیج دے دیتے ان کے لئے کوئی آسانیاں پیدا کر دیتے عام آدمی کے لئے کوئی ریلیف پیدا کر دیتے بھلے آٹا چینی والوں کو نا پکڑتے ریٹ ہی کچھ مناسب کرادیتے گھی دال چاول وغیرہ سستے کرا دیتے تاکہ عام آدمی کو ریلیف مل جاتا اور وہ بھی سکون کی زندگی گزار کر میرے محترم وزیراعظم کو دعائیں دیتے بہر حال ان سب مسائل کے باوجود میرے محترم وزیراعظم کے انٹر ویو کمال کے تھے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں