69

ہماری تعلیمی پالیسیاں … شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: اللہ ڈتہ انجم
دھنوٹ (لودھراں)

پالیسی یا حکمتِ عملی سے مراد ایسے قاعدے یا اصول ہوتے ہیں جس کے تحت فیصلے کئے جاتے ہیں یا کوئی منطقی نتیجہ حاصل کیا جاتا ہے۔ہر ادارہ اپنے کامیاب نتائج حاصل کرنے کیلئے پالیسیاں بناتا ہے۔ اگر ہم پاکستان کی تعلیمی پالیسیوں کا بغور جائزہ لیں تو پاکستان کی تعلیمی پالیسیاں زیادہ تر اردو کی طرف مائل رہیں۔ لیکن اردو اور انگریزی کے متعلقہ رتبے ہمیشہ مبہم رہے۔ البتہ ان پالیسیوں سے علاقائی زبانوں پر ہمیشہ اردو کو فوقیت دی گئی۔ دوسرا بڑا چیلنج جو زبانوں سے متعلق برقرار رہا وہ زبانوں کی تعلیمی افادیت اور قومیت سازی میں زبانوں کے کردار کا باہمی ٹکراؤ رہا۔ انگریزی کو اس کی علمی وسعت کی وجہ سے مسترد نہیں کیا جاسکا اور علاقائی یا صوبائی زبانوں کو قومی وحدت کے لیے خطرہ سمجھا گیا۔

ان پالیسیوں میں انگریزی زبان کو لعن طعن کا نشانہ تو بنایا گیا لیکن کہیں بھی اس سے جان نہیں چھڑا ئی جا سکی۔قومی تعلیمی پالیسیوں کے سامنے کئی سوالات مثلاً ملک کے لئے ایک زبان کون سی ہونی چاہئے؟ انگریزی کی کیا حیثیت ہو؟ کون سی زبان ذریعہ تعلیم ہو؟ علاقائی زبانوں کی حیثیت کیا ہو؟ اور کون سی زبان تعلیمی اداروں میں بطور مضمون کس جماعت سے شروع ہو؟ نے ہمیشہ تعلیمی پالیسی سازوں کو پریشان کئے رکھا۔ دوسری طرف علاقائی اور دیگر زبانوں کو قومی وحدت کیلئے خطرہ سمجھ کر ان سے انکار نے ہی اس قومی وحدت کو پاش کرکے رکھ دیا۔جس کی اہم مثال بنگلہ دیش کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔

1947ء میں کراچی میں پہلی پاکستانی تعلیمی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں نئی مملکت کے لئے تعلیمی خدوخال کے لئے سفارشات ایک رپورٹ کی صورت میں مرتب کئے گئے۔ اس وقت کے وزیر داخلہ فضل الرحمان نے اپنی تقریر میں اس نئی مملکت کے لئے بنیادی تعلیمی اصولوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ”اردو نے ایک غیر معمولی قوّت اور حساسیت دکھائی ہے۔ اردو خیالات کی ساری سطحیں اور تخیل کے پیچیدہ اور نازک پروازوں کے اعلیٰ اظہار اور ابلاغ کا ذریعہ ثابت ہوئی ہے“۔ (حوالہ گورنمنٹ آف پاکستان رپورٹ 1947ء)۔

یہ بھی پڑھیں: محمد صدیق خان کانجو شہید

اس کانفرنس میں اردو کو رابطے کی زبان قرار دیا گیا۔ فضل الرحمان نے اپنی تقریر میں کہاکہ جس آسانی سے اردو دوسری زبانوں سے الفاظ مستعار لیتی ہے۔ اردو کا فارسی، عربی اور سنسکرت سے تاریخی رشتہ اور شاعری و نثر میں اردو کی اعلیٰ تخلیقی صلاحیت اس کو پاکستان کے رابطے کی زبان بنانے کے لئے ناقابل تردید جواز ہیں۔ اس کانفرنس میں انگریزی زبان کو بطور ذریعہ تعلیم مضر گردانا گیا۔تاہم اسے مغرب کے سارے سائنسی خزانوں اور تہذیبوں کو رسائی کا ذریعہ مانا گیا۔ اسی اجلاس میں صوبائی زبانوں کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ زبانیں نہ صرف ذریعہ تعلیم ہیں بلکہ ثقافت کی ابلاغ کے وسیلے بھی ہیں۔ اسی کانفرنس پر کمیٹی نے تجویز کیا کہ تعلیم میں ذریعہ تعلیم کا اختیار صوبوں کے پاس ہونا چاہئے۔

تاہم اردو کو ہر صوبے میں ایک لازمی دوسری زبان کی حیثیت ضرور ہو۔ اسی طرح انگریزی کو بھی نصاب میں ایک لازمی زبان کے طور پر رکھنے کی سفارش اس کانفرنس میں کی گئی۔جبکہ اگلے بارہ سالوں کے لئے پاکستان میں تعلیمی پالیسی پر کوئی دستاویز نہیں ملتی۔تاہم ان سالوں میں بڑے اہم واقعات رونما ہوئے۔ ان میں اہم ترین واقعہ بنگالی زبان کو بطور قومی زبان تسلیم کروانے کے لئے مشرقی پاکستان کے لوگوں کی تحریک ہے۔بنگالی لوگ تقسیم سے پہلے ہی اردو کو مسلمانوں کی واحد زبان بنانے پر ناراض تھے۔ وہ بنگالی کو بھی مسلمانوں کی زبان سمجھتے تھے۔ تقسیم کے بعد اس وقت کی پاکستانی قیادت نے بنگالیوں کے اس مطالبے کو یکسر نظر انداز کیا۔

خود بانی پاکستان نے 1948ء میں ڈھاکہ میں واضح کیا کہ پاکستان کی قومی زبان صرف اردو ہوگی۔ یوں بنگالیوں میں اضطراب بڑھتا گیا۔ انہوں نے بنگالی زبان کے لئے قومی زبان کی حیثیت کے لئے تحریک شروع کی۔ اس تحریک کے زیر اثر 1952ء میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے مشتعل طلباء پر پولیس نے گولی چلائی۔ جس کے نتیجے میں کم از کم سات طالب علم ہلاک ہوئے۔ اس تحریک کا اثر تھا کہ پاکستان نے 1954ء میں اردو کے ساتھ بنگالی زبان کو بھی قومی زبان تسلیم کیا اور 1956ء کے آئین میں اس کا باقاعدہ اعلان کیا گیا۔ ابھی اس آئین کو دو سال ہی ہوئے تھے کہ ملک میں 1958ء میں مارشل لاء لگا اور جنرل ایوب خان ملک کے حکمران بن گئے۔

جنرل ایوب خان کے دورحکمرانی کے دوران ہی 1959ء میں تعلیم پر قومی کمیشن بنا۔ اس کمیشن کی رو سے اردو اور بنگالی دونوں زبانوں کو پاکستان کی قومی زبانیں تسلیم کیا گیا۔ اس کمیشن نے سفارش کی کہ قومی زبانیں بتدریج انگریزی کی جگہ ہر سطح پر ذریعہ تعلیم ہوں گی۔تاہم انگریزی کو چھٹی جماعت سے آگے ڈگری سطح کی تعلیم تک ایک لازمی مضمون کی حیثیت سے برقرار رکھا گیا۔ اسی پالیسی میں کہا گیا کہ اگلے پندرہ سالوں میں یونیورسٹی سطح پر اردو ذریعہ تعلیم کے طور پر انگریزی کی جگہ لے گی۔ دوسری تعلیمی پالیسی 1969ء کو آئی۔ اس دوران ملک کے حکمران جنرل یحیٰی خان تھے۔ اس پالیسی میں جو نئی باتیں شامل کی گئیں وہ اردو کو مغربی پاکستان میں اور بنگالی کو مشرقی پاکستان میں سرکاری زبان کا درجہ دینا تھا۔

اسی پالیسی میں یہ بھی سفارش کی گئی کہ انگریزی کی تدریس بتدریج گھٹا کر اسے قومی زبانوں (اردو اور بنگالی) میں تبدیل کیا جائے گا۔اگلے سال 1970ء میں ایک اور تعلیمی پالیسی مرتب کی گئی جس میں کوئی نئی بات نہیں تھی ماسوائے اس سفارش کے ذریعہ تعلیم کے طور پر زبان اپنانے کے وقت دیکھا جائے کہ وہ زبان تعلیم کے حصول میں آسانی پیدا کرے۔ جس میں ابلاغ واضح اور معروضی طور پر کیا جاسکے اور جس سے تخلیقی اور تنقیدی فکر فروغ پائے۔ 1972ء میں ایک اور تعلیمی پالیسی سامنے آئی۔ اس وقت ملک پر ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت تھی۔ اس تعلیمی پالیسی میں زبان کے مسئلے کو سرے سے نہ چھیڑا گیا اور نہ ہی ذریعہ تعلیم کا ذکر کیا گیا۔1973ء میں پاکستان میں ایک جمہوری حکومت نے پہلا متفقہ آئین منظور کروایا۔

یہ بھی پڑھیں: محسن پاکستان اور نصاب

اس آئین میں زبان اور ثقافت کے حوالے سے آرٹیکلز 251 اور 28 اہم ہیں۔ ملک میں شہریوں کو اپنی زبان و ثقافت کے فروغ کا حق دیا گیااور اردو کو پاکستان کی قومی زبان قرار دیا گیا۔ صوبائی اسمبلی کو اختیار دیا گیا کہ وہ صوبے کی کسی زبان کے فروغ و ترقی کے لئے ادارے بنائے لیکن یہ اقدامات اردو سے تعصب پر مبنی نہ ہوں۔ آئین میں وعدہ کیا گیا کہ آئندہ پندرہ سالوں میں اردو کو دفتری/ سرکاری زبان بنانے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے۔1977ء میں جنرل ضیاء الحق نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں مارشل لاء لگایا۔ جنرل ضیاء الحق نے پورے ملکی نظام کو اپنی فہم کے مطابق اسلامی بنانے کی ٹھانی۔ ان کے ہی دور میں 1979ء میں چھٹی تعلیمی پالیسی آگئی۔ اس پالیسی میں اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے پر زور دیا گیا۔ نجی سکولوں میں بھی اردو کو بطور ذریعہ تعلیم نافذ کیا گیا۔

اس پالیسی میں سفارش کی گئی کہ اردو ذریعہ تعلیم ہوگی۔ تاہم اس کے ساتھ تیسری جماعت سے ایک علاقائی زبان کو بھی پڑھایا جائے گا۔1989ء میں ملک میں جمہوریت بحال ہوئی۔ بے نظیر بھٹو کے پہلے دور میں تعلیمی پالیسی پر کوئی کام نہ ہوسکا۔ ان کی حکومت کو جلد فارغ کردیا گیا۔محمد نواز شریف کی پہلی حکومت نے 1992 ء میں تعلیمی پالیسی بنائی۔ جس کی رو سے ذریعہ تعلیم کا فیصلہ صوبوں کو دیا گیا۔ جہاں وہ کسی ایک صوبائی زبان اردو یا انگریزی کو ذریعہ تعلیم بناسکتے ہیں۔ اس پالیسی نے آگے سفارش کی کہ اعلیٰ سائنسی و تیکنیکی تعلیم انگریزی میں دی جائے گی۔عام انتخابات کے نتیجے میں دوسری مرتبہ محمد نواز شریف کی حکومت آئی جس میں 1998ء میں ملک کی آٹھویں تعلیمی پالیسی مرتب کی گئی۔

اس پالیسی میں کوئی نئی بات نہیں کی گئی ماسوائے عربی زبان کے فروغ کے۔1999ء میں فوج نے پھر حکومت کو چلتا کیا اور ملک کے حکمران اس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف بن گئے۔ ان کی حکومت کے دوران خطے میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔اس کی حکومت کے دوران کئی تعلیمی و نصابی اصلاحات کی باتیں کی گئیں۔ مشرف کی حکومت نے تعلیمی پالیسی بنائی جسے 2009ء کو پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے پیش کیا۔اس پالیسی میں ایک طرف انگریزی کو اہمیت دی گئی تو دوسری طرف اسے ملک میں عدم مساوات کی ایک اہم وجہ بھی مان لیا گیا۔ اس پالیسی کی رو سے انگریزی زبان کچی جماعت (KG) سے مضمون کے طور پر شامل ہوگی اور اس کے لئے منصوبہ بندی کا اعلان کیا گیا۔

ملک میں تعلیم میں پیچھے رہ گئے طبقات پر خصوصی توجہ کا وعدہ کیا گیا۔ جماعت اوّل سے ہی اردو، انگریزی، ایک صوبائی زبان اور حساب کو مضامین کی صورت میں رکھنے کی سفارش کی گئی۔ پانچویں جماعت تک ذریعہ تعلیم اپنانے کا اختیار صوبوں کو دیا گیا۔ چھٹی جماعت اور اس سے آگے سائنس اور حساب کے لئے انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنایا گیا۔ معاشرے کے نچلے طبقات کے بچوں کو انگریزی پڑھانے کی بات بھی اس پالیسی میں کی گئی۔ آخر میں ایک جامع پالیسی زبانوں کے حوالے سے صوبوں، وفاق اور دوسرے تمام شرکاء کی مشاورت سے مرتب کرنے کی بات کی گئی۔2009 ء کے بعد وفاقی سطح پر کوئی تعلیمی پالیسی مرتب نہیں کی گئی۔ اس کی بنیادی وجہ 2010 ء میں پاکستان کے آئین میں اٹھارویں ترمیم ہے۔ جس کی رو سے تعلیم کا شعبہ صوبائی بن گیا۔

اس ترمیم کے بعد پاکستان میں تعلیمی پالیسیوں میں زبانوں اور ذریعہ تعلیم کا مسئلہ ہنوز باقی ہے۔ صوبوں نے اب تک اس سلسلے میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں کی۔ البتہ 2012 ء صوبہ خیبر پختونخوا کی اس وقت کی حکومت نے علاقائی زبانوں کے فروغ کے لئے قانون سازی کرکے ایک ایکٹ پاس کرایا جس کی رو سے صوبے میں ان علاقائی زبانوں کے فروغ و بقا کے لئے ایک ادارے کا قیام عمل میں لایا جائے گا اور سکولوں کے نصاب میں صوبوں میں بولی جانی والی زبانوں کی بتدریج تدریس کا انتظام کیا جائے گا۔ اس قانون کی رو سے ابتدائی دو سالوں (2013 اور 2014) کے لئے صوبے میں دیگر چار زبانوں ہندکو، کوہستانی، کھوار اور سرائیکی کو ابتدائی جماعتوں میں پڑھانے کا اہتمام ان علاقوں کے سرکاری سکولوں میں کیا جائے گا جہاں یہ زبانیں بولی جاتی ہیں۔

پاکستان میں کئی دہائیوں تک تعلیم کے شعبے کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ اساتذہ کی بھرتیاں بھی سفارش کی بنیاد پر ہوتی رہیں۔زیادہ تر سیاست دان اور بیوروکریسی میں شامل با اثر شخصیات اپنے قریبی لوگوں کو نوازنے کے لیے محکمہ تعلیم کی نوکریاں بانٹا کرتے تھے۔سال2009 میں این ٹی ایس کے ذریعے میرٹ کی بنیاد پر بھرتیوں کا آغاز ہوا۔جس کے بعد 2018 تک یہ عمل جاری رہا۔ 2018 میں پنجاب میں پہلی بار حکومت میں آنے والی جماعت تحریک انصاف کے وزیر تعلیم نے مزید بھرتیوں سے انکار کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ صوبے میں اساتذہ کی کوئی کمی نہیں بلکہ سابق حکومت ضرورت سے زائد بھرتیاں کر چکی ہے۔ اور مزید بھرتیوں کی بجائے ریشنلائزیشن کی پالیسی اختیار کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: مسئلہ فلسطین اور عالم اسلام

یہ اعلان اس وقت کیا گیا جب حکومت کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق صوبے بھر میں اساتذہ کی 76 ہزار سے زائد آسامیاں خالی تھیں۔ گو کہ ریشنلائزیشن کی تاریخ اور پالیسی کا اعلان متعدد بار کیا جا چکا ہے لیکن دو سال گزرنے کے بعد بھی اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔تاہم تمام پالیسیاں اردو اور انگریزی کی اسیر رہیں۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق پہلی کلاس سے پانچویں تک کے انگلش میڈیم نصاب کو تبدیل کر کے اردو میڈیم کی طرف لے جارہے ہیں جوکہ2021ء میں نافذالعمل ہو گاجبکہ مڈل2022ء اور میٹرک تا انٹرمیڈیٹ کا یکساں نصابِ تعلیم 2023ء میں نافذ ہو گا۔ وفاق کا تیار کردہ نصاب ِ تعلیم پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں بھی لاگو ہو گا،تاہم یہ نصاب انگریزی میں ہو گا یا اردو زبان میں اس کا حتمی فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔

تاہم یہ معلوم ہونا چاہیئے کہ سابقہ ادوار میں انگلش میڈیم اس لیے کیا گیا تھا کہ ہمارامیڈیکل اور جدید میتھ کا سارا نصاب انگلش میں ہے۔علاوہ ازیں کالج اور یونیورسٹیز لیول پر ٹیکنیکل ایجوکیشن کا 80 فیصد سارا تعلیمی لٹریچر بھی انگلش میں ہے۔ جسے ہمارے اردو میڈیم طلباء تبھی اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں جب ابتدأ سے ہی انگلش لینگویج پر عبور لیکر چل رہے ہوں گے۔یا پھر یکساں نصابِ تعلیم کیلئے سائنس میتھ اور اکاونٹس کی بکس کو اردو سانچے میں ڈھالنا ہو گا ورنہ پرائمری سے آگے جا کر طالب علم مشکلات کا شکار ہو گا۔ انتہائی ضروری ہے کہ ایجوکیشن پالیسیاں ماہرینِ تعلیم بنائیں اور ماہرین تعلیم بھی وہ کہلا سکتے ہیں جو کئی سالوں سے روزانہ پرائمری، مڈل، ہائی سکول اور کالجز، یونیورسٹیز میں پڑھا رہے ہیں۔ایسا نہ ہو کہ ان پڑھ مقامی نمائندے کو سکول وکالج کی مانیٹرنگ دے دی جائے یا پھر کسی تعلیمی بورڈ کے اراکین پی ایچ ڈی ہوں اور چیئرمین بورڈمیٹرک پاس ہو۔

اگر بات پرائیویٹ سکولوں کی کرنی ہو تو پھر ٹاک شوز میں ساتھ کسی سکول اونرز کو بھی بٹھایاجائے کیوں کہ ہمارے ملک میں جہاں پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے شرح خواندگی میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے وہاں ٹیکنیکل ایجوکیشن کے طلبا 80 فیصد پرائیویٹ تعلیمی اداروں سے تیار ہو کر نکل رہے ہیں۔اب کئی مہینوں سے پورے ملک کے تمام تعلیمی ادارے بند ہیں اور مزید بھی نہ جانے کتنے کب تک بند رہیں۔ بلاشبہ کرونا وائرس سے احتیاط ضروری ہے مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ بازاروں، غلہ منڈیوں،سبزی منڈیوں، ملوں، فیکٹریوں وغیرہ میں تو یہ وائرس کنٹرول ہوسکتا ہے لیکن سکولوں،کالجوں اوریونیورسٹیوں میں کیوں کنٹرول نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ ہماری نوجوان نسل کی ایجوکیشن کی حفاظت فرمائے جس نے اس ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے اور پاکستان کو سائنسی ومعاشی ٹیکنالوجی میں دنیا کے ہم پلہ لیکر جانا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں