63

ملک میں ریپ کے واقعات، لمحہ فکریہ … شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: ذوالفقار علی قائم خانی
حاصل پور

سانحہ موٹر وے سیالکوٹ کو جس طرح پرنٹ الیکٹرونک میڈیا اور شوشل میڈیا نے اجاگر کیا اس سے حکومتی ایوانوں میں لرزہ طاری ہوگیا تمام تر لا اینڈ انفورسمنٹ ایجنسیاں اس بھیانک وقوعہ کے بعد متحرک ہو گئی اور وقوعہ کے اصل حقائق کو جاننے و ملزمان کو قانون کے شکنجے میں لانے کے لیے متحرک ہو گئی ہیں وہاں پورے ملک میں ایسے بھیانک روح فرسا واقعات میں بہت اضافہ ہو گیا ہے روز تھانوں میں معصوم بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں یہ ریاست مدینہ و مسلم معاشرے کے ہر فرد کے لیے ایک المیہ کی حیثیت رکھتے ہیں.

یہ بھی پڑھیں: انسانیت کی خدمت، اسلام کی بنیادی تعلیم

سانحہ سیالکوٹ کے بعد ایسے واقعات میں اچانک اضافہ سوچنے کی بات ایسا کیوں ہورہا ہے اور اس کا سدباب کس طرح ممکن ہو سکتا ہے بچے بچیوں سے ریپ کے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کی سخت ضرورت ہے ریپ کے واقعات میں اچانک اضافہ کی سب سے بڑی وجہ سیالکوٹ کے وقوعہ کو میڈیا اور شوشل میڈیا پر حد سے زیادہ پزیرائی دے کر اس کی تشہیر ہے اس وقوعہ کے بعد ملک میں ریپ کے واقعات کا ایک سیلاب آگیا سیالکوٹ واقعہ کو بنیاد بنا کر اب بلیک میلنگ جھوٹے مقدمات کا اندراج ایک معمول بن گیا ہے.

ضلع بھاول پور کی تحصیل خیر پور ٹامیوالی میں اسی نوعیت کا ایک وقوعہ رونما ہوا جس میں لڑکی نے زہریلی دوائی پی کر خود کشی کرلی اور خود کشی سے قبل اپنے باپ سے کہا کہ ۔۔۔ بابا اب تم سر اٹھا کر چلو گے لیکن اس وقوعہ کا پس منظر و حقائق جاننے کی کسی نے تکلیف نہی کی تھانہ خیرپور ٹامیوالی کے ایس ایچ او انسپکٹر انوارلحق جو دو مہینے بعد ریٹائرڈ ہورہاتھا کے علاوہ تفتیشی اے ایس آئی اور مححرر تھانہ کو حوالات میں دے کر ان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا لڑکی کی خود کشی کے وقوعہ میں حقائق کچھ اور تھے.

اسی طرح بے شمار ریپ کے مقدمات درج کرانے کے بعد کچھ روز بعد ہی متاثرہ خاتون بھاری تاوان وصول کرنے کے بعد صلح کر لیتی ہے زنا آرڈی ننس کی تعزیرات پاکستان کی دفعہ 376 ت پ میں صرف عورت کے یک طرفہ بیان پر ہی مقدمہ درج ہوجاتا ہے جب مشرف دور سے تعزیرات پاکستان کی زنا آرڈی ننس کی دفعہ 10 زنا آرڈی ننس میں ترمیم کرکے 376 ت پ لاگو ہوئی ہے اس سے زنا کے مقدمات میں اضافہ ہوا ہے اور 95 فی صد مقدمات جھوٹے ہونے پر یا تاوان دے کر صلح ہونے پر خارج ہوگئے ہیں.

یہ بھی پڑھیں: ہم تو لکھتے ہیں کہ تم پڑھو شاید

دس زنا آرڈیننس میں عورت اور مرد دونوں مقدمہ میں چالان ہوتے تھے لیکن اب عورت کے سمپل بیان پر مرد کے خلاف مقدمہ درج ہوجاتا ہے ڈی این اے ٹیسٹ تین سے چار ماہ بعد آتا ہے جب تک بے گناہ مرد جیل میں صعوبتیں برداشت کرتا رہتا ہے یا پھر تاوان دے کر صلح کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے پیشہ ور عادی عورتوں نے اب تعزیرات پاکستان کی دفعہ 376 کو بلیک میلنگ کا ذریعہ بنا لیا ہے جب تک یہ دفعہ رہے گی اس میں ترمیم نہی ہو گی ریپ کے واقعات تیزی سے بڑھتے جائیں گئے پہلے زنا بالرضا ہوتا ہے بعد میں ڈیمانڈ بلیک میلنگ کے لیے زنا بالجبر بن جاتا ہے اس کی روک تھام کے لیے قانون سازی ضروری ہے اور اسلامی نظریاتی کونسل کی اس بارے میں رائے ضروری ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں