74

معذور خواتین کے حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے کوششیں… شعورمیڈیا نیٹ ورک انٹرنیشنل

ازقلم: اللہ ڈتہ انجم
دھنوٹ (لودھراں)

معاشرے میں عورت کو اس کے رشتوں کی نسبت سے پہچانا جا تا ہے۔ ایک انسان کے طور پر اس کی اپنی کوئی شناخت نہیں ہے۔ عورت محض بیٹی،بیوی،بہن اور کسی کی ماں ہوتی ہے۔یہ یقیناً زندگی کے انتہائی اہم اور خوبصورت رشتے ہیں مگر زلزلے یا دوسری کسی بھی قسم کی قدرتی آفات وغیرہ کی وجہ سے بہت سی عورتیں اپنے کئی رشتوں سے محروم ہوکر رہ جاتی ہیں۔ ایسے میں ان کے سروں سے گھر کی چھت کا اٹھ جانا،چار دیواری چھن جانایا معذورہوجانے کی صورت میں وہ عورت جسے بچپن سے یہ سمجھایا جاتا ہے کہ اُس کے لیے گھر اور رشتے ہی اُس کی کل کائنات ہیں۔ اُن کی عدم موجودگی یا معذوری کی صورت میں ایک نفسیاتی کیفیت میں مبتلا ہوکر خود کو انتہائی غیر محفوظ سمجھنے لگتی ہیں۔

ان حالات میں خصوصاً بے سہارا معذور لڑکیوں اور معذور خواتین کے سماجی اور جنسی استحصال کے امکانات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔زلزلے سے متاثرہ علاقے میں متاثرہ معذور لڑکیوں اور معذور خواتین کو دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔بعض اوقات توکئی عورتیں مخیر لوگوں وسماجی امدادی تنظیموں کے افرادکو راز دارانہ لہجے میں کہتی ہیں کہ ہمیں معلوم ہے کہ امداد ہمیشہ جاری نہیں رہ سکتی۔ آپ ہمارے لیئے زکوٰۃ وغیرہ کا بندوبست کروائیں تاکہ ہمارے لیے آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ بن سکے۔اکثر والدین معذور بچے کی پیدائش کو اپنے لئے ایک مصیبت سمجھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: صحافی و میڈیا کارکنان کے خلاف تشدد و حملوں کے خاتمے کی آگاہی کا دن

اگر یہ معذور لڑکی ہو تو روز اوّل سے ہی اسے عذاب قرار دے دیاجاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں موجود جسمانی طور پر معذور خواتین کو ان کے خواب کی تکمیل کے لیے بے شمار منفی روّیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔1980ء کی دہائی میں معذور افراد کو ”اسپیشل پرسنز“کا ٹائٹل دیا گیا۔ افسوس یہ ہے کہ تیسری دنیا کے اکثر معاشروں میں معذور افراد کو اسپیشل پرسن نہیں بلکہ انہیں مضحکہ خیز ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ اکثر ان کی جانب پتھر بھی پھینکے جاتے ہیں،آوازے کسے جاتے ہیں، انہیں تیسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے، توہین و تضحیک کا عملی مظاہرہ کیاجاتا ہے۔ ہمارے ہاں یہ اسپیشل افراد اپنے حقوق کے لئے احتجاج کریں، آواز اٹھائیں تو ان پر لاٹھیاں برسائی جاتی ہیں۔ڈنڈوں سے پیٹا جاتا ہے، انہیں دھکے دیئے جاتے ہیں، وھیل چیئر سے نیچے گرا دیاجاتا ہے۔ ان کے ساتھ نازیبا ا لفاظ اور غلیظ زبان استعمال کی جاتی ہے۔ معذوری، صنفی عدم مساوات اور امتیازی سلوک ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

معذور خواتین کی معذوری کی ایک وجہ تو پیدائشی معذوری ہے لیکن ان کی ایک بڑی تعداد صنفی استحصال، صنفی تعصب اور تشدد کا شکار ہونے کی وجہ سے معذور ہو جاتی ہے۔ گھریلو اور معاشرتی سطح پر وسائل کی غیر مساوی تقسیم اور خواتین کی رائے کو اہمیت نہ دینا بھی ان خواتین کے مسائل میں اضافہ کا باعث بنتے ہیں۔پسماندہ آبادی اور دیہی علاقوں میں معذوری کی شرح تقریباًدگنی ہو تی ہے۔ کم آمدنی والے ممالک میں معذور افراد کاتین چوتھائی حصہ خواتین پر مشتمل ہے۔ ڈان اخبار کی ایک خبرکے مطابق گزشتہ چھ ماہ کے دوران پاکستان میں تقریباًدو ہزار کمسن بچیاں اور بچے جنسی تشدد کا شکار ہوئے ہیں۔ اگرغور کیا جائے تو دکھائی دے گا کہ عورتوں اوربچیوں کی عصمت دری اور اجتماعی زیادتی کے واقعات اکثروبیشتر ان عورتوں یابچیوں کے ساتھ پیش آتے ہیں جن کا تعلق مزدور،کسان یا دیگر قسم کے غریب یا نچلے متوسط گھرانوں سے ہوتا ہے۔

یہ گھرانے اپنی کمتر معاشی حیثیت کی وجہ سے کسی قسم کا سیاسی و سماجی اثرورسوخ نہیں رکھتے۔ ایک عام پولیس کانسٹیبل یا آفیسر بھی انہیں خوف و دہشت میں مبتلا کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔لیکن ایسا کوئی واقعہ نظر نہیں آتا کہ جس میں غریب،نچلے یا متوسط طبقے کے مردوں نے کسی امیر،بالادست یا سیاسی و سماجی اثرورسوخ رکھنے والے کسی گھرانے کی عورت کو جنسی زیادتی کا شکار بنانے کی کوشش کی ہو۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں ایک محتاط اندازے کے مطابق تیس ملین سے زیادہ ایسے افراد موجود ہیں جنہیں کسی نہ کسی طرح کی معذوری کا سامنا ہے ان میں بہت سی خواتین اور بچیاں بھی شامل ہیں۔پاکستان میں معذوری سے متعلق آگاہی نہ ہونے کے سبب اداروں کی انتظامیہ اور کارکنان خصوصی افراد کی ذہنی صلاحیتوں کا احاطہ نہیں کرپاتے۔ انہیں اعلیٰ تعلیم اور مہارتوں کی بجائے صرف جسمانی معذوری کی بناء پر ملازمت کے لیے رد ّکردیا جاتا ہے یا اُن کی قابلیت کے لحاظ سے بہت کم تنخواہ کی پیش کش کی جاتی ہے۔

اقوام متحدہ کا کنونشن برائے حقوق بھی حکومت پاکستان سے ایسی خواتین اور بچیاں جنہیں کوئی معذوری ہے،کے حقوق کی فراہمی پر زور دیتا ہے۔ تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف کی فراہمی کے ساتھ ساتھ خاندان بنانا بھی جسمانی طور پر معذور خواتین کا بنیادی حق ہے۔ معاشرے میں باعزت مقام اور روزگار کی فراہمی کو یقینی بنانا حکومت کی اوّلین ذمہ داری میں شامل ہے۔لیکن بدقسمتی سے بہت سی خواتین اور بچیاں اپنے ان حقوق سے محروم ہیں۔جبکہ معذور افراد کے حقوق سے متعلق کنونشن کو تسلیم کیا گیا ہے کہ گھروں کے اندر اور باہر تشدد، چوٹ یا زیادتی، نظرانداز یا غفلت برتاؤاوربدسلوکی یا استحصال کے معاملات کے باعث معذور افراد کے حقوق میں خطرہ لاحق ہوتا ہے۔

اس تشویش کو دور کرنے کے لئے معذور افراد کے حقوق سے متعلق کنونشن نے صنفی مساوات کو فروغ دینے اور معذور خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے اصول بنائے ہیں۔جن پر عمل درآمد کرناوقت کی اہم ضرورت ہے اورپائیدار ترقی کے ہدف نمبر 8.5 کے مطابق 2030ء تک نوجوانوں و معذورمرد و خواتین کے لیے مکمل اور مفید روزگار اور مناسب کام نیز یکساں اہمیت کے کام کے لیے یکساں تنخواہ کے حصول کو بھی ممکن بنانا ہوگا۔ معذور خواتین اور معذور ویتیم لڑکیوں میں خود اعتمادی اور مستقبل کے بارے میں بے یقینی کا احساس کم کرنے کے لیے پیداواری سرگرمیوں میں شریک کرنا ضروری ہے۔ تاکہ انہیں یہ احساس ہو کہ وہ فعال شہری کی حیثیت سے اپنے علاقے کی بحالی میں کوئی کردار ادا کرسکتی ہیں۔

پاکستان کی لیبر مارکیٹ میں معذورمرد و خواتین کو شامل کرنے کے لیے جامع اور مربوط حکمت عملی کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ بحالی برائے معذوراں ایکٹ 1981ء کے مطابق تمام نجی و سرکاری اداروں میں ملازمتوں کا 3 فیصد کوٹہ معذور افراد کے لیے مختص ہے۔ لیکن صرف ملازمت کے حصول سے معذورلوگوں کو اُس وقت تک کار آمد نہیں بنایا جاسکتا جب تک دفاتر، فیکٹریوں اور دیگر اداروں کی تعمیرات میں تبدیلی کرکے انہیں معذور افراد کے لیے قابلِ رسائی نہیں بنایا جائے گا۔معذور لڑکیوں اور خواتین کو جسمانی اور دماغی طور پر باقاعدگی سے زیادتی کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔کسی بھی ایمر جنسی میں معذور افراد خصوصاً معذور خواتین اور بچیوں کیلئے بھاگنا مشکل ہے یا پیچھے رہ جانے میں انہیں حملے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔

معذور افراد کے لیے عبادت گاہوں اور تفریح گاہوں کو قابلِ رسائی بنانے کی اشد ضرورت کے ساتھ ساتھ معذور خواتین اور بچیوں کے تحفظ کی بھی بہت ضرورت ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں معذورین کے لیے قابلِ رسائی ٹیکنالوجی اور مددگار آلات کی بدولت سماعت اور بصارت سے محروم افراد بھی آفس ورک باآسانی کرلیتے ہیں۔ آجرین اور کاروباری اداروں کی انتظامیہ کو اس ضمن میں تربیت کی ضرورت ہے اور انہیں معذوری کی اقسام کے مطابق اپنے اداروں میں ملازمتیں پیدا کرنے کی آگاہی ملنی چاہیے۔

ہمارے ملک میں مقامی حکومت، صوبائی و وفاقی اسمبلیوں میں خواتین اور اقلیتوں کی طرح معذور افراد خصو صاً معذور خواتین کے لیے بھی نشستیں مختص ہونی چاہئیں تاکہ معذورافراد سے متعلق بننے والی تعمیر و ترقی کی تمام پالیسیوں کے بارے میں اُن کی رائے شاملِ حال رہے۔ کیونکہ وہ اپنے مسائل اور اُن کے حل کی بہتر طور پر نشاندہی کرسکتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک خصوصاً جاپان، امریکا، کینڈا وغیرہ میں شدید ترین معذور افراد کی ذہنی صلاحیتوں سے بھی فائدہ اٹھانے اور معاشرے کا فعال شہری بنانے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کو 100 فیصد قابِل رسائی بنا دیا گیا ہے۔ گزشتہ چند سالوں سے اسلام آباد، لاہور اور ملتان میں میڑو بس اوراسپیڈو بس سروس کا آغاز ہوچکا ہے جو کہ وہیل چیئر استعمال کرنے والوں کے لیے قابلِ رسائی ٹرانسپورٹ قابلِ تحسین ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مالی بحران کا شکارکسان اورصنعتی پیکج کا اعلان

2030ء تک اُمید کی جاسکتی ہے کہ معذور عورتوں، بچوں و بزرگوں کے لیے پاکستان کی تمام پبلک ٹرانسپورٹ قابلِ رسائی بن جائے گی۔ترقی یافتہ ممالک کی طرح پاکستان میں بھی موٹر سائیکل اور موٹر کار کمپنیاں معذور افراد کیلئے مقامی سطح پر موٹر سائیکل اور گاڑیاں ڈیزائن کرکے نہ صرف اپنے صارفین کی تعداد بڑھا سکتی ہیں بلکہ لاکھوں معذور افراد کو متحرک بھی کرسکتی ہیں۔پائیدار ترقی کے ہدف نمبر 17-18 کے مطابق 2030ء تک ترقی پذیر ممالک، بالخصوص کم ترقی یافتہ ممالک کے معذور افراد کی صلاحیت سازی کے لیے دی جانے والی امداد میں اضافہ کرنا ہوگا۔ملک کی آبادی کا تخمینہ لگانے اور کُل آبادی کے مطابق معاشی پالیسیاں ترتیب دینے کے لیے پاکستان کی چھٹی مردم شماری کا انعقاد سال 2017ء میں ہوا۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے ملک میں جس طرح معذور افراد کا ہر سطح پر معاشی اور معاشرتی استحصال جاری ہے۔

حالیہ مردم شماری میں بھی انہیں بُری طرح نظر انداز کردیا گیا ہے۔ مردم شماری کے فارم 2 میں معذور افراد کے بارے میں معلومات کے اندراج کا خانہ بروقت شامل نہ ہونے سے پاکستان میں معذورافرادکے درست اعداد و شمار معلوم نہیں کیئے جاسکے تھے۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ چیئرمین قومی ادارہ برائے شماریات عالمی پائیدار ترقی کے ہدف نمبر 17-18 کو حاصل کرنے کے لیے ہنگامی پلان کا اعلان کریں۔والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے معذور بچے خصوصاً معذور بچی کو بھی دیگر صحتمند بچوں کی طرح سمجھیں۔ انہیں بھی اہمیت ومحبت دیں ا ور گھر میں قید کر کے رکھنے کی بجائے انہیں معاشرے کا باعزت شہری بنانے کیلئے کوشش کریں۔ اگر والدین خصوصی بچوں کی تربیت بھی خصوصی خطوط پر کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ ملک و قوم کے لئے مفید ثابت نہ ہو سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں