27

مسئلہ فلسطین اور عالم اسلام …. شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: راؤعمرجاوید ایڈووکیٹ

فلسطین دنیا کے قدیم ترین علاقوں میں سے ایک ہے اسے انبیاء کی سرزمین بھی کہا جاتا ہے فلسطین لبنان اور مصر کے درمیان والے علاقے کو کہتے تھے اس کے بڑے حصے پر جون 1967 ء میں اسرائیل نے قبضہ کرلیا تھا اسرائیلی ریاست اس وقت اکیس ہزار مربع کلومیٹر رقبہ پر قائم ہے جس کی آبادی 59 لاکھ ہے جس میں 82 فیصد یہودی جبکہ 18 فیصد مسلمان ہیں اس علاقے میں سے ایک علاقہ دریائے اردن کے مغربی کنارے سے اسرائیل کی سرحد تک ہے جو چھ ہزار مربع کلومیٹر کے لگ بھگ ہے اس کی آبادی 20 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے اسے عرف عام میں ویسٹ بنک یا غرب اردن کہا جاتا ہے دوسرے علاقے کو غزہ کی پٹی کہا جاتا ہے جو اسرائیل کی مغربی سرحد، مصر اور بحیرہ روم میں گھری ہوئی پٹی ہے جس کا رقبہ 360 مربع کلومیٹر ہے اس کی آبادی 11 لاکھ ہے یہ وہ سرزمین ہے جو مجوزہ فلسطینی ریاست ہے یعنی اس کی کل آبادی 31 لاکھ ہے جو فلسطینیوں پر مشتمل ہے.

یہ بھی پڑھیں: محسن پاکستان اور نصاب

یہی وہ علاقہ ہے جس پر 1967 ء میں اسرائیل نے قبضہ کرلیا تھا 1948 ء سے قبل یہ تمام علاقہ فلسطین کہلاتا تھا جو خلافت عثمانیہ میں قائم رہا لیکن بعد ازاں اس پر فرانسیسی اور انگریز قابض رہے 1948 ء میں ہی اس علاقے کے بیشتر حصے پر یہاں اسرائیلی ریاست قائم کی گئی جس کا دارالحکومت بیت المقدس تھا جسے یہودی یروشلم کہتے ہیں جو عیسائیوں، یہودیوں اور مسلمانوں تینوں کے لئے مقدس مقام ہے مسلمانوں کا قبلہ اول بھی یہیں ہے فلسطینی مسلمان اسرائیلی تسلط سے نجات اور یہودیوں سے اپنا قبلہ اول آزاد کرانے کے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔ فلسطین ایک حساس، پیچیدہ اور دنیا کا سب سے قدیم حل طلب مسئلہ ہے جس میں مسلمان، یہودی اور عیسائی تینوں آسمانی مذاہب، تہزیب اور نسل کے تضادات اپنی انتہائی شدت کے ساتھ موجود ہیں ۔

26 مارچ 1979 ء میں امریکہ کے مقام کیمپ ڈیوڈ میں مصر کے صدر انور سادات، امریکی صدر جمی کارٹر اور اسرائیلی وزیر اعظم مناخیم بیگن کے درمیان ایک امن معاہدے پر دستخط ہوئے جو بعد ازاں کیمپ ڈیوڈ معاہدہ مشہور ہوا یہ معاہدہ کسی بھی عرب ریاست اور اسرائیل کے ساتھ طے پانے والا پہلا امن معاہدہ تھا جو مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے سلسلے میں آج بھی اہم سمجھوتہ تسلیم کیا جاتا ہے تاہم فلسطینیوں نے اسے تسلیم نہیں کیا تھا اگر موجودہ حالات پر نظر دوڑائی جائے تو ہمیشہ کی طرح امریکہ بہادر اسرائیل کی پشت پر کھڑا ہے اور اس کے حلیف بھی کسی نہ کسی انداز سے امریکی خواہش پر اسرائیل سے نرم رویہ اختیار کئے ہوئے ہے فلسطین صرف عربوں کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ پورے عالم اسلام کے لئے سب سے اہم ایشو ہے کیونکہ قبلہ اول اسلام دشمن یہودیوں کی گرفت میں ہو یہ کوئی مسلمان قبول نہیں کرسکتا.

لیکن بد قسمتی سے بعض مسلمان ملکوں کے سربراہ اپنی حکومتوں کے دفاع کے لئے امریکی احکامات ماننے پر مجبور ہیں آج کل سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حکمران امریکی دباؤ کے تحت اسرائیل سے ہاتھ ملائے ہوئے ہے جبکہ کشمیر کے معاملے پر بھی عرب ممالک کی سرد مہری تشویشناک ہے جس طرح اسرائیل نے مظلوم فلسطینیوں کی سرزمین پر ناجائز قبضہ کررکھا عین اسی طرح کشمیر پر بھی بھارت ناجائز قابض ہے اگر 56 اسلامی ممالک ہم آواز ہو کر فلسطینیوں اور کشمیریوں کے لئے قدم اٹھاتے تو فلسطین اور کشمیر کے مظلوم مسلمان اپنی ہی دھرتی پر بے وطن نہ ہوتے ان پر اسلام دشمن کبھی مسلط نہ ہوتے ستم ظریفی تو یہ ہے کہ فلسطین عربوں کی سرزمين ہے اور وہی اپنے بدترین دشمن سے ہاتھ ملانے کے لئے بیتاب نظر آتے ہیں.

یہ بھی پڑھیں: محمد صدیق خان کانجو”شہید“

پاکستان اور ترکی کا اسرائیل سے براہ راست کوئی جھگڑا نہیں ہے لیکن اپنے مظلوم۔فلسطینی مسلمان بھائیوں کی خاطر اسرائیل کو تاحال نہ صرف تسلیم نہیں کیا ہے بلکہ اس سے کسی قسم کے کوئی سفارتی تعلقات بھی قائم نہیں کئے ہیں اگر عربوں نے وقت کی نزاکت کو نہ سمجھا تو خدانخواستہ وہ کہیں امریکی خوشنودی میں اسرائیل کو حجاز مقدس پر ہی قدم جمانے کا موقع فراہم نہ کردیں دوسری جانب اقوام متحدہ بھی فلسطین اور کشمیر کے معاملے پر امریکہ کے زیر اثر ہے یوں اس کا کردار بھی افسوس ناک ہے فلسطینی اور کشمیری ایک طرح کے حالات سے دوچار ہیں جبکہ عالم اسلام چین کی نیند سو رہا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں