62

مالی بحران کا شکارکسان اورصنعتی پیکج کا اعلان … شعورمیڈیا نیٹ ورک انٹرنیشنل

ازقلم: محمد عامر اقبال شاہ

صنعتی پیکیج کا تو اعلان کر دیا گیا لیکن کسان جو اس وقت شدید مالی بحران کا شکار ہے ان کی آواز کون سنے گا ان کی اشک شوئی کرنے والا کوئی نہیں ان کی آواز کون اٹھائے گا آج کپاس کی فصل تباہ و برباد ہو گئی لیکن کسی نے اس کے بارے میں نا سوچا جب ملک میں کاٹن کی پیداوار کم ترین سطح پر ہے تو کسان کی کپاس خریدنے والا کوئی نہیں باہر سے روئی منگوا لی گئی ملک کا کسان دھکے کھانے پر مجبور ہے بجلی کے بل آسمان سے باتیں کر رہے ہیں کوئی ریلیف نہیں آبیانہ زرعی ٹیکس ڈبل کر کے زبردستی وصول کئے جارہے ہیں کپاس جو بہت ہی کم ہوئی ہے کسان کے خرچے پورے ہونے تو دور کی بات اتنا گھاٹا ہے کہ کسان کی نیندیں اڑ گئی ہیں ڈپریشن کا شکار کسان ایک طرف کپاس کو دیکھتا ہے تو دوسری طرف گندم کی کاشت ان کے لئے مسئلہ بنی ہوئی ہے.

یہ بھی پڑھیں: یتیم بچیاں کس کے ہاتھ پر اپنے والد کا لہو تلاش کریں؟

گندم کی کاشت کا اول سیزن 10 نومبر تک ہے جس سے اچھی پیداوار کی توقع ہے لیکن بدقسمتی سے آج تک حکومت نا تو گندم کی امدادی قیمت کا تعین کر سکی ہے اور نا ہی کھاد پر سبسڈی کا کوئی فیصلہ کر سکی ہے جب کسان ڈی اے پی ڈال چکا ہو گا تو پھر اگر کوئی فیصلہ کیا گیا تو اس کا کوئی فائدہ کسان کو نا ہو گا وقت اور حالات کا مارا کسان جو دن رات محنت کر کے فصل کاشت کرتا ہے اگر اس کو اجرت نا ملے تو اس کے سارے خواب چکنا چور ہو جاتے ہیں کپاس جو وائٹ گولڈ کہلاتی تھی آج اس کا خریدار کوئی نہیں کسان اس گولڈ کو دیکھ دیکھ کر پریشان ہے لیکن میری حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ان کی ترجیحات کچھ اور ہیں کسان بیچارہ مقروض ہوتا جا رہا ہے یاد رکھیں اگر کسان کے بارے میں نا سوچا گیا اور اسے کوئی مناسب ریلیف نا دیا گیا تو ملک جو پہلے ہی شدید ترین معاشی بحران کا شکار ہے اب اس کے لئے کھڑا ہونا مشکل ہو جائے گا.

گندم اور کماد میں خود کفیل ملک آج باہر سے چینی اور گندم منگوا رہا ہے جس سے ملک کا زرمبادلہ باہر جارہا ہے اتنی مہنگی گندم اور چینی باہر سے منگوائی جا رہی ہے جس سے ملکی معیشت کو زبردست جھٹکا لگ رہا ہے اس کے باوجود بھی ملک کے کسانوں کے بارے میں سوچنے والا کوئی نہیں میرے محترم وزیراعظم آج ہی فیصلہ کریں کہ آپ ملک کے کسانوں کو کیا دے رہے ہیں اگر فیصلہ نا کیا گیا تو آپ اپوزیشن کو تو جیلوں میں بند کر سکتے ہیں اگر کسان نکل کھڑے ہوئے تو یہ آپ کی حکومت کی بنیادیں ہلا دیں گے یاد رکھیں بھوک سے جب بندے باہر نکلتے ہیں تو پھر وہ تحریکیں ہمیشہ کامیاب ہو تی ہیں.

یہ بھی پڑھیں: انڈے دوسوروپے کلو

محترم وزیراعظم وہ آپ ہی تھے جو بجلی کے بل جلایا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اتنے مہنگے بجلی کے بل میں کیوں ادا کروں کرپشن ہو رہی ہے آج کرپشن بھی نہیں ہے اور اتنے مہنگے بجلی کے بل عوام کیوں ادا کریں آپ ہی سول نا فرمانی کی تحریکیں چلایا کرتے تھے اور کنٹینر پر کھڑے ہو کر حکومت کے خلاف مہنگائی اور سول نافرمانی کے درس دیتے تھے آج مہنگائی اس سے کئی گنا زیادہ ہے وقت آگیا ہے کہ لوگ باہر نکلیں اور آپ ہی کے فرمان کے مطابق سول نافرمانی کریں بجلی کے بل جلائیں اور آپ کی حکومت کے منہ پر ماریں کیونکہ اس وقت قانون اور تھا آج قانون اور ہے آج ایسا کہنے سے بھی غداری کے فتوے لگتے ہیں قانون حرکت میں آتا ہے ایف آئی آر درج ہوتی ہیں لیکن جب عوام تنگ آ جائے تو پھر کچھ نہیں ہو گا اگر آپ کو باعزت بری کر دیا گیا ہے تو کوئی اللہ کا بندہ عوام کو بھی باعزت بری کر دے گا ذرا سوچیں ایسا نا ہو کہ دیر ہو جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں