44

لیہ ڈویثرن کی بندر بانٹ کی کہانی … شعورمیڈیا نیٹ ورک

از قلم: خضرکلاسرا

لیہ، بھکر، منکیرہ کے وہ تمام علاقے جوکہ دیوان ساون مل کے بیٹے دیوان مولراج کے ماتحت تھے جون 1848ء میں لیفٹنیٹ ایڈورڈ کے قبضے میں آگئے تھے۔ رنجیت سنگھ کی زندگی میں ہی انگریزوں اور سکھوں کے درمیان اپریل 1809ء میں عہد نامہ امرتسر ہوا۔ اس عہد نامہ کے اقرار نامہ کے مطابق یہ قرارپایا کہ انگریز حکومت رنجیت سنگھ کے مقبوضات کی پنجاب کے ان علاقوں سے کوئی واسط نہ رکھے گی جوکہ ستلج پار کے اطراف یعنی لہور اور ستلج کے شمال میں واقع ہیں۔

جبکہ رنجیت سنگھ دریائے ستلج کے مشرق اور جنوب کے علاقوں سے کوئی واسط نہ رکھے۔رنجیت سنگھ کی زندگی تک تو اس معائدے پر عمل ہوتارہا لیکن جونہی رنجیت سنگھ کی وفات ہوئی۔ سکھ حکومت اور پنجاب میں افراتفری پھیل گئی،ا نگریز جوکہ سارے ہندوستان پر قبضے کے خواب دیکھ رہے تھے، انہوں نے اس افرتفری سے خوب فائدہ اٹھایا، آگے بڑھ کر سکھ ریاست کے علاقوں پر قبضہ جمانے لگے۔ سکھوں سے انگریزوں کی پہلی جنگ 1845-46 ء میں ہوئی۔ پنجاب پر اسوقت راجہ دلیپ سنگھ حاکم تھا۔جنگ کے بعد 1846ء میں انگریز لاہور میں داخل ہوگئے، سکھوں اور انگریزوں کے درمیان ایک نیا معائدہ ہوا جوکہ عہد نامہ لاہور کہلاتاہے۔

اس عہد نامے کے مطابق جالندھر دوآب پر انگریزوں کا قبضہ تسلیم کرلیا گیا، سکھ حکومت پر ڈیڑھ کروڑ روپیہ تاوان جنگ عائد کیا گیا۔ پچاس لاکھ رپنجاب کے خزانہ سے اداکیے گئے جبکہ ایک کروڑ روپے گلاب سنگھ کے پاس کشمیر فروخت کرکے وصول کیے گئے۔کرنل ہنری لارنس کو سکھ دربار میں ریذیڈنٹ مقرر کیاگیا۔ خالصہ فوج ختم کرکے برطانوی افواج کو نقل وحمل کی اجازت مل گئی اور لاہور میں انگریز فوج تعینات کردی گئی۔اس معاہدے سے دلیپ سنگھ کے روپ میں پنجاب پر انگریز حکومت کرنے لگے۔اس دوران حاکم ملتان دیوان مل سنگھ قتل ہوگیاتو اس کا بیٹا مولراج حکمران بنا۔1848ء میں گجرات میں سکھوں کو مکمل شکت ہوئی انگریزوں نے پشاور پر قبضہ کرلیا۔

1848ء میں ملتان میں بھی مولراج ہتھیار ڈال دیئے۔خالصہ افواج پر قبضہ پانے کے بعد اور پنجاب پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد گورنر جنرل لارڈ ڈلہوز ی نے فیصلہ کیا کہ اب مہاراجہ دلیپ سنگھ کو معزول کرکے پنجاب کو ممالک معروسہ میں شامل کیاجائے۔چنانچہ 29 مارچ 1848 ء لاہو رمیں ایک دربار منعقد ہوا۔ اس دربارمیں کمسن مہاراجہ دلیپ سنگھ اور لارڈز ڈلہوزی برابر تخت پر بیٹھے۔ مہاراجہ نے پنجاب کے تخت وتاج سے دستبردار ی کی علامت کے طورپر مشہور عالم کوہ نور ہیرا لارڈ ڈلہوزی کو پیش کیا، جو اس وقت ملکہ معظمہ کی نمائندگی کررہاتھا۔ یہ رسم ادا کرنے کے بعد مہاراج کو تخت سے اتاردیاگیا۔

اس رسم ادا ہوتے ہی تمام پنجاب پر انگریزکا اقتدار شروع ہوگیا۔انگریز نے پنجاب میں مختلف انتظامی ڈویثرن قائم کیے۔ اس دوران بھکر کو لیہ ڈویثرن میں شامل کردیاگیا۔یہ ڈویثرن موجودہ ضلع میانوالی،بنوں،ٹانک،لکی، ڈیرہ اسماعیل خان،بھکر،خوشاب،لیہ،مظفرگڑھ، ڈیرہ غازی خان اور راجن پورکے علاقوں پر مشتمل تھا۔1850ء میں انگریز وں نے اپنی انتظامی ضروریات کے تحت لیہ ڈویثرنل ہیڈکوارٹر مقررکیا۔ اور یہ ڈویثرن 1860 ء تک قائم رہا۔کرنل راس لیہ ڈویثرن کے پہلے کمشنر تھے جوکہ اپنی وفات 18اگست 1857ء تک کمشنر رہے، وفات کے بعدلیہ میں دفن ہوئے،چند سال قبل تک ان کی قبر کا نشان باقی تھا لیکن اب یہ نشان ختم ہوچکاہے۔

لیہ ڈویثرن کے انگریز کمشنر کرنل راس 1850ء تا 1857ء تک اپنے عہدے پر فائزرہے اور میجر پولک 1857ء سے 1858ء تک لیہ کے کمشنر رہے جبکہ میجر براؤن 1858ء سے1860ء تک لیہ میں بحیثیت کمشنر تعینات رہے۔لیہ ڈویثرن کے انتظامی یونٹ یونٹ میں ضلع لیہ تحصیل سنانواں،(کوٹ ادو) تحصیل لیہ، تحصیل دریا خان،بھکر،تحصیل منکیرہ، تحصیل کچھی(میانوالی)ضلع ڈیرہ غازی خان، تحصیل سنگھڑ(تونسہ)،تحصیل بنوں،(ہیڈ کوارٹر بنوں)تحصیل ٹانک، تحصیل کلاچی، تحصیل لکی مروت تک کے علاقے شامل تھے۔

مہرنور محمد تھند صاحب نے اپنی کتاب تاریخ بھکر میں لکھا ہے کہ،انگریز حکومت نے 1859 ء میں ضلعی ہیڈکوارٹر خان گڑھ کی بجائے مظفرگڑھ قائم کیا گیا اورتحصیلات میں بھی ردوبدل کیاگیا۔ان تحصیلوں کے نام رنگ پور، مظفرگڑھ، خان گڑھ کینجھر اور سیت پور تھے۔جبکہ سانواں کی بجائے کوٹ ہیڈکوارٹر بناکر ضلع مظفرگڑھ میں شامل کردیاگیااور مظفرگڑھ کو ملتان ڈویثرن میں شامل کردیاگیا،1861ء میں رنگ پور تحصیل ختم کردی گئی۔گڑھ مہاراجہ اور احمد پور کے تعلقے ضلع جھنگ میں شامل کردئیے گئے۔

سیت پور تحصیل ہیڈکوارٹر ختم کرکے علی پور تحصیل کا درجہ دے دیاگیا۔دریا خان تحصیل 1860ء میں توڑ دی گئی اور بھکر کو تحصیل ہیڈ کوارٹر مقررکیاگیا۔1853-54ء میں تحصیل منکیرہ توڑ دی گئی۔تحصیل خوشاب جوکہ تحصیل منکیرہ کا حصہ تھی، اس شاہ پور(سرگودھا) میں شامل کردیاگیا۔ پیپلاں اور ہرنولی کے علاقے تحصیل دریا خان سے الگ کرکے تحصیل کچھی میانوالی میں شامل کردئیے گئے۔مٹھ ٹوانہ اور نورپور کے علاقے جوکہ تحصیل کچھی (میانوالی)میں شامل تھے، شاہ پور میں شامل کردیئے گئے۔

1857ء میں 19گاؤں جوکہ دریائے سندھ کے مشرقی کنارے پر تھے لیکن تحصیل ڈیرہ اسماعیل خان سے منسلک تھے اور گشکوری وبیٹ بوگھا کے درمیان تھے، تحصیل بھکر میں شامل کردئیے گئے۔بھکر تحصیل اسوقت کلور کوٹ،دریا خان،نواب پور (کانجن)کوٹلہ جام، بھکر، چھینہ،چنگ شیخانی، نوتک،بہل، پیر اصحاب،خان پور،جنڈوالہ،دلے والا،منکیرہ اور حیدر آباد پر مشتمل تھی۔یکم جنوری 1861ء کو ضلع لیہ توڑ دیاگیا۔ضلع بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان کو اضلاع کا درجہ دیاگیا۔ ضلع بنوں میں تحصیل بنوں، تحصیل مروت، تحصیل عیسی خیل اور تحصیل میانوالی جوکہ ضلع لیہ کا سب ڈویثرن تھا، ضلع بنوں میں شامل کردئیے گئے۔

جبکہ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان، تحصیل کلاچی اور تحصیل ٹانک شامل کی گئیں۔کمشنری ہیڈکوارٹر لیہ سے ڈیرہ اسماعیل خان میں منتقل کردیاگیا۔لیہ بالخصوص تھل کی کہانی کو جب تاریخ کے اوراق میں پڑھ رہاتھا تو حیرت میں تھا کہ کیسے اس تھل دھرتی کو یوں دیوار کیساتھ لگایاگیاہے،اور اس کے ٹوٹے کرکے یہاں کے عوام کو محکوم بنایاگیا اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے، شاید آنیوالی تھل کی نسلیں بھی اپنے حقوق کو ترسیں، کاش یہ سلسلہ اب رک جائے اور لیہ کو ڈویثرن اور تھل کو وہی مقام دیاجائے، جس کا وہ حقدارتھا اور ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں