53

قوم کے معماروں کی تذلیل اور حکومت وقت کے دعوے … شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: سید عامر اقبال شاہ
سابق ایم پی اے
(مخدوم عا لی ) ضلع لودھراں

آج اساتذہ کی تزلیل دیکھ کر بڑا دکھ ہوا اساتزہ قوم کے معمار ہیں ان کے پھٹے گریبان اور چھتر پریڈ اور جیلوں میں ڈالنے کے مناظر دیکھ کر افسوس ہوا میرے محترم وزیراعظم پچھلی حکومتیں اگر کرتی تو آپ چیخ چلا رہے ہوتے وہ تو جاہل حکومتیں تھیں آپ کو کیا ہو گیا آپ تو احتجاج کے دوران افسروں کو دھمکیاں دیتے تھے ان کی تزلیل کرتے تھے اور احتجاج کو اپنا قانونی حق سمجھتے تھے آج یہ بدتمیزی کیوں ؟

یہ بھی پڑھیں: بہاول پور صوبے پر اعتراض کیوں؟

کسی کو کچھ دے نہیں سکتے تو ان کی تزلیل تو نا کریں برداشت کرنا سیکھیں ملک اس طرح نہیں چلتے غریبوں کو جینے کا حق دیں تحمل مزاجی اختیار کریں کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ جن کاموں کو آپ برا سمجھتے تھے وہ نا کریں کیوں آپ کی آنکھیں بند ہو جاتی ہیں خدارا اس قوم کی حالت بدلیں آپ تو تبدیلی کا نعرہ لے کر آئے تھے کیا یہ ہے تبدیلی جس کا آپ نے قوم سے وعدہ کیا تھا آج تمام سرکاری ملازمین پریشان ہیں کو ئی سننے والا نہیں.

ان کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے پچھلی حکومتوں سے بھی بدتر ہے یہی ملازمین کام کریں گے تو آپ کی عزت بنے گی اگر یہ خوشحال ہونگے تو ملک خوشحال ہو گا آپ سے تو کوئی شعبہ بھی نہیں سنبھالا جا رہا آپ انتقام کی آگ میں جلے ہوئے لگتے ہیں ہر کسی سے انتقام نا لیں انتقام کے لئے اپوزیشن ہے ان کو اور رگڑا لگائیں اپنا دل ٹھنڈا کریں پلیز ان بیچارے ملازمین پر ہتھ ہولا رکھیں ان کے خاندان مسائل کا شکار ہیں بیچارے روزی روٹی سے تنگ ہیں گرمی کے موسم میں یہ شمالی علاقہ جات سیر کو جاتے آپ انہیں جیل کی سیر کرا رہے ہیں.

یہ بھی پڑھیں: مست ملنگ

وہاں اچھے موسم میں اچھے اچھے کھانے کھاتے آپ انہیں لتر پولے کھلا رہے ہیں بیچارے ملازمین آپ کی توجہ چاہتے ہیں آپ سے اچھائی کی امید رکھتے ہیں تبدیلی کی امید رکھتے ہیں خوشحالی کی امید رکھتے ہیں نا کہ وہی روائتی لتر پولا لاٹھی چارج اور جیل یہ تو انہیں پہلے بھی بہترین طریقے سے سابقہ حکومتوں کی طرف سے مل رہا تھا آپ نے کیا دیا قوم اس کا جواب چاہتی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں