39

غلطی تسلیم کرنا بھی غلطی ہے … شعورمیڈیا نیٹ ورک انٹرنیشنل

ازقلم: انعام الحق راشد

غلطی پر غلطی کرنا، غلطی تسلیم نہ کرنااورغلطی سے سبق نہ سیکھنا، کسی بھی ادارہ، کسی بھی ایسوسی ایشن اور کسی بھی ملک کے لئے ایسے ہی خطرناک ہوتا ہے جیسے شوگر کا مریض مزے مزے سے مٹھائی کھاتارہے، اس کے نتائج کو سمجھنے کی کوشش نہ کرے اور بالآخر میٹھی موت مر جائے۔کیا واقعی کرونا کی پہلی لہر پر قابو پانے کے دعوے حکومتی انتظامی اقدامات کے مرہون منت تھے۔ کیا حکومت کا کرونا سے کوئی معاہدہ ہوا ہے کہ جہاں سمار ٹ لوک ڈاون ہو گا کرونا صرف وہی اپنی کاروائیاں کرنے کی کوشش کرے گا۔جہاں معمولات زندگی معمول کے مطابق ہوں گے وہاں کرونا رعائت برتے گا۔

حکمرانوں کی کارکردگی تو یہ نظرآتی ہے کہ اگر حکمران گروپ کی تقاریر اور سوشل میڈیا پر کئے جانے والے پروپیگنڈا کوتھوڑی دیر کے لئے منظر سے ہٹا دیا جائے تو کارکردگی رعائتی پاس نمبروں جتنی بھی نہیں ہے۔جو حکومت ایک کلو آلو کی قیمت ڈالر کے بر ابر کردے اس کی انتظامی صلاحیت کا اندازہ لگانا کیا مشکل ہے۔حکومتی وزرا ء بے شک ٹی وی سکرین پر آ کر بتا تے ہیں کہ حکومت کامیابی کے ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔سفید پوش طبقہ جواب کالا پوش ہو چکا، انہیں کون بتائے گا حکومت واقعی کامیا ب اقدامات کررہی ہے۔جب وہ مہنگائی کی دلدل میں ڈوب کر چلانے پر مجبور ہو جائے اور عمران خان انہیں اس دلدل سے نکالنے کی بجائے یہ کہیں کہ آپ نے گھبرانا نہیں ہے، تو اسے غربت اورغریب کا مذاق اڑانا نہ سمجھا جائے تو اور کیا سمجھا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: قومی ووٹر ڈے اور ہماری ذمہ داریاں

جس طرح اپنی ہر ناکامی کا ذمہ دار حکمران طبقہ سابق حکمرانوں کو ٹھہراتاہے۔کرونا کے پھیلاؤ کوروکنے کے لئے بھی حکومت کے پاس سمارٹ لاک ڈاون کے نام پر گونگلوؤں پر سے مٹی ہٹانے کی پالسی کے علاوہ کیا ہے۔ ہاں اب کرونا کے پھیلاؤ کے الزام سے بچنے کے لئے پی ڈی ایم اور جماعت اسلامی نے حکومت کو اپنے کندھے فراہم کردیے ہیں۔وزیر اعظم اور ان کی ٹیم اب صرف اس بات پر ہی زور دے رہے ہیں کہ اپوزیشن سیاسی جلسے نہ کرے جو کرونا کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتے ہیں لیکن روزانہ کی بنیاد پر تعداد 3ہزار افراد تک پہنچنے سے بچنے کی حکومتی پالیسی کیا ہے۔یہ کوئی نہیں بتا سکتا۔

رٹا رٹایا ایک سبق رابطے اور میل میلاپ کم کرو، اس میں کوئی شک نہیں جس طرح کے حالات ہیں۔کرونا کے پھیلاؤ کے نہ سنبھلنے والے امکانا ت موجود ہیں۔ جس طرح اپوزیشن جماعتیں جلسے کرنے پر اصرار کئے ہوئے ہیں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔عوام کی ایک بڑی تعداد یہ سب جانتی ہے۔مگر پھر بھی جلسوں میں عوام کی ایک بڑی تعداد ہوتی ہے۔کرونا وائرس کے خطرہ کے باوجود جلسوں میں عوام کی اس بڑی تعداد پر کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ عوام حکومت کے خلاف جلسہ جلوسوں میں شرکت کے لئے کرونا جیسے خطرے کو بھی اہمیت نہیں دے رہے ہیں۔اپوزیشن کا جو رویہ اب ہے اس میں حکومتی بے رخی کا بڑا عمل دخل ہے۔اپوزیشن کہتی رہی کہ جو مقدمات ہیں ان پر ادارے کام کر رہے ہیں۔لیکن آئیں ایک معاشی معاہدہ کریں، آئیں مل جل کر ملکی معاملات چلائیں، لیکن عمران خان اپوزیشن سے گفتگو کرنا اپنی توہین ہی نہیں اپنی سیاست کا خاتمہ سمجھتے ہیں۔

علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خاں اپنے وزراء کو اپوزیشن کے خلاف جارحانہ پالیسی جاری رکھنے کی ہدایات دیتے نظرآتے ہیں۔کسی میں بھی یہ جرات نہیں کہ عمران خاں سے پوچھ سکے کہ عمران خان جسے پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتے تھے اس ڈاکو کو اپنی ٹیم میں شامل کر سکتے ہیں۔جسے کبھی اپنا چپڑاسی نہ رکھنے سے توبہ کرتے ہیں،اسے اپنی حکومت میں وزیر بنا لیتے ہیں تو ملکی معاملات کو بند گلی میں لے جانے سے بچنے کے لئے جن سیاسی جماعتوں نے ملک کے عوام ایک بڑی تعداد کے ووٹ لئے ہیں۔ انہیں بھی ملکی قانون سازی میں شامل کرلینے کے بھی ان کے پاس متعدد بہانے موجود ہیں۔ماضی گواہ ہے، جنرل پرویز مشرف کے اپنی دور حکومت میں پیپلز پارٹی کے خلاف کرپشن کے بظاہر ثبوت حاصل کر لئے گئے تھے لیکن ایک پائی کی ریکوری نہ کر سکے تھے۔

پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تو پرویز مشرف کے خلاف کرپشن کے کیسزتو کیا کرنے تھے انہیں ملک سے باہر جانے کی سہولت دی گئی۔مسلم لیگ ن کی حکومت آتی تو پیپلز پارٹی پر کرپشن کے بڑے بڑے کیس عوام کو بتا ئے جاتے تھے۔لیکن ٹکے کی بھی ریکوری کی نہیں جا سکی۔ اور آ ج بھی حالات یہ ہیں کہ میاں نواز شریف، ان کی فیملی اور ٹیم کے ممبران پر اربوں روپے کی کرپشن کے لاتعداد کیسسز ہیں جن کی تحقیقات پر کروڑوں روپے قومی خزانہ سے خر چ کئے جا رہے ہیں،اوریہ کیسز بظاہر ثابت بھی ہو چکے ہیں۔لیکن ریکوری ٹکے کی بھی نہیں ہو سکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یہ کیسی سیاست ہے؟ 

عمران خان حکومت نے جتنا زور شریف فیملی کو کرپٹ، چوراور لٹیراثابت کر نے میں لگایا ہے اس سے آدھا زور عوامی فلاحی منصوبوں اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر کنٹرول، پیڑول اور بجلی کی قیمتوں کے استحکام پر لگاتے تو شریف فیملی کی سیاست اپنی موت آپ مر جاتی۔ لیکن حکومتی رویہ اور عمران خان کا ہرسوال کے جواب اور ہر مسئلہ کے حل پر ادا کیاجانے والا ایک جملہ،، این آ ر او نہیں دوں گا،، نے شریف فیملی اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو بھی مظلوم بنا دیا ہے۔اس بات کا اندازہ لگانا کیامشکل ہے کہ اب اپوزیشن حکمرانوں سے با حیثیت سے کھل کر انکا رکیوں کرنے لگی ہے۔ اپوزیشن نے جب بھی حکومت سے با ت چیت کی کوشش کی۔جواب میں وزراء و ممبران نے لاتعداد پریس کانفرنسز کرکے عوام کو یہی بتایا کہ با ت چیت میں اپوزیشن این آر و مانگ رہی تھی لیکن عمران خان ان کو این آر او نہیں دے گا۔

عمران خان کادعویٰ ہے کہ وہ کرپشن کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ نے اگر کرپشن کے خلاف کاروائی کرنا تھی تو شوگر مافیا کو 3 ارب روپے کی سبسڈی دینے کی ریکوری تا حال نہ ہو سکی ہے۔شوگر کی قیمت 120روپے کلو تک لے جانے والوں نے حکومت کو کھلا چیلنج کر دیا ہے کہ کر لو جو کرنا ہے،اسی طرح چینی اور آٹے کی بر آمد اور درآمد کے درمیان حکومتی خزانے کو 404ارب روپے نقصان کی خبروں پر عمران خان نے کوئی ایکشن لیانہ تو انائی کے حوالے سے کی جانے والی بدانتظامی سے حکومتی خزانے کو 104ارب روپے کا بوجھ برداشت کرنے کی خبریں بھی شایدعمران خان کے نزدیک کوئی بڑی بات نہیں ہیں کیونکہ ان بدانتظامی میں شریف فیملی یا اپوزیشن پرالزامات نہیں ہیں۔

مان لیتے ہیں کہ حکومت کی کارکردگی بہت اچھی ہے۔حکومتی وزراء باصلاحیت ہیں۔پوری دنیا ہی پاکستان کی حکومت کی تعریفوں کے پل باندھے ہوئے ہیں تو عوام پھر حکومتی کارکردگی سے مطمئن کیوں نہیں ہیں۔پچھلی حکومت میں صحیح ریٹ نہ ہونے پر کاشت کاروں نے آلو کے ٹرک سڑکوں پر پھینک دئے تھے۔اس حکومت میں آلو کے ریٹ ڈالر کے بر ا بر ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان طالبان اور امریکہ کے درمیان صلح کرانے کے متمنی ہیں، نریندرمودی کو فون کرنے پربھی کسی ہچکچاہٹ کا شکار نہیں۔ مگر اپوزیشن سے سیاسی بات چیت نہ کرنے پر بضد ہیں۔یہ ان کی طبعت ہے یا پالسی مگر حقیقت یہ ہے کہ قوم کو پہلے یو تھیا اور پٹواری کے نا م پرقوم کو تقسیم کیا گیا، پھرحکومتی اور اپوزیشن کے سیاست دانوں کے درمیان تعلقات کشیدگی کی انتہا پر پہنچے ایک وقت ایسا بھی آیا کہ قومی اداروں کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی۔ قوم جب تقسیم کے مراحل طے کر چکی تو اسرائیل کو تسلیم کرنے نہ کرنے کی سازش مارکیٹ میں آ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کپتان کی حکومت کا توانا کھلاڑی

یہ سب اتفاقات ہیں کہ سازشیں کہ پہلے مقبوضہ کشمیر پربھارت نے قبضہ کرکے وہاں انسانی بنیادی اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا کردی۔ دوسرے مرحلہ میں قوم کو تقسیم کیا گیا اورپھر بیماری اور بھوک قوم میں تقسیم کردی گئی اور اب اسرائیل کو تسلیم کرنے نہ کرنے کا پتہ پاکستان میں پھینکا گیا ہے۔یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ آئی ایم ایف کے سامنے مجبور اور بے بس ہیں پھربھی حکومتی وضاحت آچکی کہ فلسطین کا مسلہ حل ہونے تک اسرائیل کو تسلیم نہ کریں گے۔ دل چاہتا ہے کہ حکومتی بیان پریقین کرلیں۔ لیکن ماضی قریب میں ایک رہنما کھل کر کہتا تھا۔ مودی کا جو یار ہے غدار ہے پھر مودی سے یاری کے لئے اس کو فون کرتا رہا اورفون اٹنڈ نہ ہونے پرشکوہ بھی کرتا رہا۔

یہاں تک کہ یہ بیان بھی دے دیا کہ مودی دوبارہ حکومت میں آیا تو مسئلہ کشمیر حل ہو جائے گا۔کیا حل سے مراد یہی کچھ تھا جو آج کل کشمیریوں کے ساتھ ہورہا ہے۔اس رہنما نے یہ بھی کہا تھا کہ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے بجائے خود کشی کو ترجیح دوں گا۔اور اس اعلان کی آدھی بات پر عمل کیا۔ اس رہنما نے کہا تھا کہ ڈاکو اور چپراسی میری ٹیم کا حصہ نہیں ہوں گے مگر مجبور ہو گیا۔عوام کے مطابق نوکریاں دینے کے اعلانات کر کے بے روزگاری پھیلا دی، مہنگائی پر کنٹرول کرنے کے خواب دکھا کر نا قابل برداشت مہنگائی بڑھادی، خود کہتا تھا کہ مہنگائی ہو تو حکمران چور ہوتے ہیں مگر اب خود ایماندار ہونے کے دعوے دار ہیں۔

ہرمسئلہ کے حل کی بجائے،تدابیر اور انتظامات کرنے کی بجائے بڑے اعتماد سے الزامات کی پوٹلی سابق حکمرانوں کے سرپر رکھ کرایک فقری کہ بس تم نے گھبرانا نہیں ہے۔ غلطی پر غلطی کرنا، غلطی تسلیم نہ کرنااورغلطی سے سبق نہ سیکھنا، کسی بھی ادارہ، کسی بھی ایسوسی ایشن اور کسی بھی ملک کے لئے ایسے ہی خطرناک ہوتا ہے جیسے شوگر کا مریض مزے مزے سے مٹھائی کھاتارہے، اس کے نتائج کو سمجھنے کی کوشش نہ کرے اور بالآخر میٹھی موت مر جائے۔باقی اللہ خیرکرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں