73

عاشورۂ محرم اور شہرِ خاموشاں … شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: اللہ ڈتہ انجم

اسلامی مہینہ محرم الحرام قمری مہینوں میں پہلا مہینہ ہے۔یہ مہینہ ظہورِ اسلام سے پہلے بھی عزت و احترام کا دن تھااور مسلمانوں کیلئے تو انتہائی تعظیم و تکریم کا دن ہے۔سال کے بارہ مہینوں میں سے چار مہینوں کو اللہ تعالیٰ نے حرمت والا قرار دیا ہے۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ‘ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن 10 ذوالحجہ کو خطاب کیا اور فرمایا کہ زمانہ چکر کاٹ کر اسی ہیّت پر آگیا جس ہیّت (حالت) پر آسمان و زمین کی پیدائش کے دن تھا۔ سال بارہ مہینے کا ہے۔جن میں سے چار حُرمت (بڑائی) والے ہیں۔ تین پے در پے یعنی ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم الحرام اور ایک رجب المرجب (تفسیر مظہری جلد 5 صفحہ 272۔ تفسیر روح البیان جلد 3 صفحہ 421)۔

اس کا پس منظر کچھ یوں بیان کیا جاتاہے کہ دورِ جاہلیت میں بھی لوگ حرمت والے مہینوں کا احترام کرتے اور جنگ و جدل، قتل و غارت گری اور خون ریزی وغیرہ سے اجتناب کرتے تھے۔ البتہ اگر کبھی حرمت والے مہینے میں انہیں جنگ و جدل اور قتل و غارت گری کی ضرورت محسوس ہوتی تو وہ اپنے طور پر مہینوں کی تقدیم و تاخیر کرلیتے۔

یہ بھی پڑھیں: ہماری تعلیمی پالیسیاں

اگر بالفرض محرم کا مہینہ ہے تو اسے صفر قرار دے لیتے اور (محرم میں اپنے مقاصد پورے کرنے کے بعد) اگلے ماہ یعنی صفر کو محرم قرار دے کر لڑائی جھگڑے موقوف کردیتے۔ جس سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج فرمایا اس سال ذوالحجہ کا مہینہ قدرتی طور پراپنی اصلی حالت پر تھا۔ اس لئے آپﷺ نے مہینوں کے اَدل بدل کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا کہ زمانہ گھوم گھما کر اپنی اصلی حالت پر واپس لوٹ آیا ہے۔ یعنی اب اس کے بعد مہینوں کی وہی ترتیب جاری رہے گی جسے اللہ تعالیٰ نے ابتدائے آفرینش سے جاری فرما رکھا ہے۔

ہر سال محرم کے مہینے میں یوم عاشورہ مسلمانوں کیلئے جامع برکات بن کرآتا ہے۔اس لئے اہلِ عرب نے اس دن کوعاشورہ کے نام سے موسوم کیا۔عاشور سریانی زبان کالفظ ہے جس کے معنی جامع برکات کے ہیں۔علمائے کرام کاکہناہے کہ یوم عاشورہ بڑا ہی عالیشان اور عظمت کا حامل دن ہے۔تاریخ کے عظیم واقعات اس سے جڑے ہوئے ہیں اس ماہ یومِ عاشورہ ماہِ محرم الحرام کا دسواں دن اپنے اندر ایک بالکل مختلف پہلو بھی رکھتا ہے۔

اس دن سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے چھوٹے نواسے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو میدان کربلا میں شہید کر دیا گیا۔نواسہ رسول ﷺ جگر گوشۂ بتول ؓسیدناحضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے گھرانے کی کربلاکے پتتے ہوئے صحرامیں شہادت رہتی دنیا تک حق و شجاعت اور صبر کی زندہ مثال ہے۔شہادتِ کربلا کو صدیاں گزر گئیں مگر یہ آج بھی اپنی ترو تازگی قائم رکھے ہوئے ہے۔دینِ اسلام سے عشق اورظلم کے خلاف حق کی آواز اٹھانے والوں کیلئے واقعہ کربلا آج بھی مشعلِ راہ ہے۔ قلندرِ لاہوری علامہ محمد اقبالؒ فرماتے ہیں۔

معرکہئ وجود میں بدرو حنین بھی ہے عشق صدقِ خلیل بھی ہے عشق صبرِ حسین بھی ہے عشق

محرم الحرام کا چاند نظر آتے ہی بچھڑنے والوں کی یاد اپنوں کو قبرستان کھینچ لاتی ہے۔ قبروں پرگل پاشی اور فاتحہ خوانی کرنے والوں کا تانتا بندھ جاتا ہے۔ قبرستانوں میں آنے والے نیاز، اناج اور پھول بھی ساتھ لاتے ہیں۔جن کی سہولت کے لئے قبرستانوں کے باہر چھابڑی فروشوں نے سٹالز سجا لیتے ہیں۔جہاں سے یہ اشیاء بآسانی مل جاتی ہیں۔اپنے پیاروں کی قبروں پر فاتحہ خوانی کرنے کے ساتھ ساتھ محرم الحرام کے دوران شہیدان کربلا کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔

سال بھر کے موسمی حالات کی وجہ سے قبریں متاثر ہوتی ہیں تو ان کی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔قبروں کی ٹوٹ پھوٹ درست کرنے کے ساتھ ساتھ ان پر پھول نچھاور کرتے کمسن بچے بھی بڑوں کے ساتھ اس روایتی حاضری میں شامل اور اپنے بزرگوں، عزیزوں، دوستوں اور رشتہ داروں کی آخری آرام گاہوں کے قریب بیٹھے درود و تسبیح میں مصروف رہتے ہیں۔ یکم محرم الحرام سے دسویں محرم الحرام تک لنگر و نیازکا اہتمام کیاجاتا ہے اور پانی، دودھ کی سبیلیں لگائی جاتی ہیں، مختلف مقامات اور جلوس روٹس پر اشیاء کی تقسیم کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مسئلہ فلسطین اور عالم اسلام

لوگ ایصا لِ ثواب کیلئے فاتحہ خوانی،قرآن خوانی اوردرود پاک کا ورد کر کے جہاں اپنے پیاروں کی بخشش کیلئے دعا ئیں مانگتے ہیں وہاں موت کو یاد کر کے توبہ استغفار کرتے اور اپنوں کی یاد میں آنسو بہاتے دکھائی دیتے ہیں۔عاشورہئ محرم میں خصوصاًنویں اور دسویں محرم کو تمام قبرستانوں میں رش دیدنی ہوتا ہے۔قبرستانوں میں چاروں ا طراف خوشبوبکھری ہوئی ہوتی ہے۔ گلاب کی پتیوں،کھجور کے پتوں ودیگر پودوں کی سرسبز ٹہنیوں سے قبریں سجی ہوئی اورپانی کے چھڑکاؤ سے تروتازہ نظر آتی ہیں۔وقت اللہ کی وہ بیش بہا نعمت ہے جو اپنے مخصوص انداز اور مقررہ رفتار کے ساتھ گزرتا چلا جا رہا ہے۔

ہر آنے والا سال گزشتہ سال کو ماضی بنا دیتا ہے۔ یہ ماہ وسال تو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق آتے اور گزرتے رہیں گے مگر اُس وقت کو انسان نے کس طرح اور کن حالات میں گزاراوہ باقی رہ جاتا ہے۔ چنانچہ ہر آنے والا محرم ہمیں یہ پیغام دے جاتا ہے کہ اپنی زندگی کو مفید، بامقصد اور صحیح کاموں میں استعمال کیا جائے اور اچھے اعمال کے ذریعے ان گھڑیوں کو اپنے حق میں حجت بنایا جائے تاکہ کل آنے والے وقت میں کامیابی نصیب ہو اور انسان مایوسی اور محرومی سے بچ سکے۔

یہ بھی پڑھیں: محسن پاکستان اور نصاب

حضرت جنید بغدادیؒ نے فرمایا: ”تم ہر لمحہ یہ دیکھتے رہو کہ اللہ سے کتنے قریب ہوئے، شیطان سے کتنے دور ہوئے، جنت سے کتنے قریب ہوئے اور دوزخ سے کتنے دور ہوئے۔“ سال نو کا آغاز ایک نئے عزم اور جذبے سے کیا جائے اور اس کے لیے ذہنی و عملی طور پر تیاری کی جائے مثلاً

٭اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط کرنا
٭ عبادات کو شوق اور رغبت سے ادا کرنے کی کوشش کرنا
٭والدین کی خدمت اور رشتہ داروں کے حقوق کی ادائیگی میں بہتری لانا
٭ اہل خانہ اور بچوں کی تربیت کی طرف توجہ دینا٭ نفع مند علم حاصل کرنے اور ذاتی اصلاح کی منصوبہ بندی کرنا
٭ معاشرے کے پس ماندہ طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے کوشش کرنا
٭ کوئی ایسا کام نہ کرناجو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور اس کی نافرمانی کا ہو یا گناہ، بدعات اور منکرات میں سے ہو
٭ محرم، حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے چنانچہ ضروری ہے کہ ہم اس کی حرمت کا لحاظ رکھیں اور اس مہینے میں ہر ایسا کام کرنے سے بچیں جو کسی بھی طرح سے اس کی حرمت کو پامال کرتا ہو
٭ ہر قسم کے جھگڑے، فتنہ و فساد سے اپنے آپ کو دور رکھیں
٭ اپنے بھائیوں کی جان، مال اور عزت کی حرمت کا خیال رکھیں
٭ زبان اور عمل دونوں سے ہر ایسے کام سے بچیں جو دوسرے کی اذیت اور تکلیف کا باعث بنے یا جس سے کسی کی دل آزاری ہو
٭ خصوصاً اہلِ بیت اطہار و صحابہ کرامؓ جیسی بے مثال شخصیات کے لیے کوئی نازیبا کلمات ادا نہ کریں جن سے ان کی بے ادبی اور توہین ہو
٭ کوئی رنجش اور ناچاقی ہو بھی تو وہ ختم کر دیں اور صلح و امن کا پیغام قول و عمل کے ذریعے عام کریں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔جن قبرستانوں کی چار دیواری نہیں ہے ان میں قبروں کی بے حرمتی ہونے کے ساتھ ساتھ آئے روز قبضہ مافیاقبرستان کی زمینوں پرقبضہ کرتے جا رہے ہیں۔حکومتی اداروں پریہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان قبرستانوں کی چار دیواری مکمل کرائیں اور اللہ تعالیٰ ہمیں قبروں کی بے حرمتی کرنے سے بچائے، آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں