65

صحافی و میڈیا کارکنان کے خلاف تشدد و حملوں کے خاتمے کی آگاہی کا دن … شعورمیڈیا نیٹ ورک انٹرنیشنل

ازقلم: اللہ ڈتہ انجم
دھنوٹ (لودھراں)

صحافی ہماری روزمرہ زندگی کا ایک اہم حصہ ہیں۔ یہ ہمیں ہمارے ماحول اور دنیا بھر میں ہونے والے واقعات سے اپ ڈیٹ رکھنے میں مثبت کردار ادا کرتے ہیں۔چاہے وہ کشمیر میں جاری بھارتی بربریت ہو یا فلسطین میں جاری اسرائیلی ظلم ہو۔ غرض دنیا کے تمام شعبہ ہائے زندگی کی تمام تر خبریں پہنچانے میں اہم کردار صحافیوں کا ہے۔صحافی اپنی زندگی کی پرواہ کئے بغیر عوام کی خدمت کرتے ہیں۔بلاشبہ صحافت معاشرے کے لئے آنکھوں اور کانوں کی سی اہمیت کی حامل ہے۔لیکن بدقسمتی سے آج دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے تشدد کی وجہ سے اس مقدس پیشے سے تعلق رکھنے والے افراد غیرمحفوظ ہوچکے ہیں۔

ہرسال دنیا بھرمیں سینکڑوں صحافی اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے جاں بحق ہو جاتے ہیں۔چونکہ اظہار رائے کی آزادی ہمیشہ ایک اہم مسئلہ رہا ہے۔ جس کی وجہ سے صحافیوں کو روزانہ کی بنیاد پر قتل کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اقوام متحدہ نے 18دسمبر2013کو قرار داد نمبر 68/163 منظور کرتے ہوئے ہربرس2 0نومبر کی تاریخ کو صحافی و میڈیا کارکنان کے خلاف تشدد و حملوں کے خاتمے کی آگاہی کا دن منانے کاا علان کیااور ممبر ممالک سے بھی درخواست کی کہ وہ صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کے خلاف ہونے والے تشدد کو روکنے کے لئے احتساب کو یقینی بنانے، صحافیوں ومیڈیا کارکنوں کے خلاف جرائم کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لئے پوری کوشش کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ متاثرین کو مناسب علاج تک رسائی حاصل ہو۔

یہ بھی پڑھیں: معذورخواتین کی صلاحیتوں کو مستحکم کرنا وقت کی اہم ضرورت

اس تاریخ کا انتخاب 2 نومبر 2013 کو دو فرانسیسی صحافیوں کی یادگارمیں کیا گیا جن کو مالی میں قتل کر دیا گیا تھا۔ کیدال کے نواحی علاقے توریغ باغیوں کے علیحدگی پسند گروپ MNLA اور مالی نیشنل آرمی نے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو آگاہ کیا تھا کہ فرانس کے سرکاری ریڈیو سے تعلق رکھنے والے دو صحافی گیسلین ڈوپونٹ اور کلاڈ ورلوندو کو اغوا کر کے ہلاک کر دیا گیا ہے۔ کیدال شہر میں دونوں کو اُس وقت اغوا کیا گیا جب وہ توریغ باغیوں کے علیحدگی پسند گروپ کے مقامی لیڈر سے انٹرویو کر کے باہر نکلے تھے۔ ان کو کیدال شہر سے بارہ کلومیٹر کی دوری پر لے جا کر مارا گیا تھا۔

توریغ باغیوں کے گروپ کو دونوں صحافیوں کی گولیوں سے چھلنی لاشیں شہر کے مضافات سے ملی تھیں۔اس دن کے منانے کا مقصددنیا بھرمیں صحافیوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور ریاست کو ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کی تاکیدکرنا ہے۔اب ہر سال دو نومبر کو صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمے کا دن منایا جاتا ہے۔ ایک موقع پراسلام آباد میں صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمے کے لیے نیشنل پریس کلب کے باہر ایک احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ایک سینئر صحافی ستار خان نے کہا تھاکہ صحافیوں کو اپنی صفوں میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ کون سے لوگ ہیں جو اپنے مفادات کے طابع صحافیوں کے کاز کے لیے آواز نہیں اٹھاتے۔

ان کا کہناتھاکہ میں بطور اینکر اگر اپنے صحافی ساتھیوں پر ہونیوالے ظلم کے خلاف اس لیے آواز نہ اٹھاؤں کے میرے ٹی وی کا مالک، سیٹھ یا اس کے ساتھی ناراض ہوں گے تو قصور میرا ہے۔ ہمارے اینکر ساتھیوں کو صرف اپنے تنخواہ اور مراعات کے پیکجز کو بچانے کی بجائے اپنے ساتھیوں کی حفاظت کے بارے میں بھی سوچنا اور بولنا چاہیے۔

پاکستان پریس فاؤنڈیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے ان ممالک میں ہے جہاں صحافیوں کے خلاف تشدد کے مقدمات کی سب سے زیادہ تعداد غیر حل شدہ ہے۔صحافی یا میڈیا کارکنان کسی قانون نافذ کرنے والے اداروں،حساس ایجنسیوں، عسکریت پسندوں، سرداروں، جاگیرداروں کے علاوہ چند ایسی سیاسی جماعتوں و تنظیموں پر الزامات عائد کرتے ہیں کہ انہیں پیشہ وارانہ سرگرمی سے روکنے کے لئے حبس بے جا، اغوا، مار پیٹ اور دھمکیوں کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔عسکریت پسند کالعدم جماعتوں کی جانب سے صحافی ہی نہیں بلکہ عام شہریوں کو بھی خطرات کا سامنا رہتا ہے۔ متنازع و انتہائی پُرتشدد علاقوں میں صحافی یا میڈیا کارکن کا رہنا ہی سب سے زیادہ خطرناک عمل ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: انڈے دو سو روپے کلو

یہی وجہ ہے کہ جہاں صحافی خود پر سنسر لگاتے ہیں تو ایسی خبروں پر ہی اکتفا کرتے ہیں جو انہیں پریس ریلیز کی صورت میں ملتی ہیں۔ذاتی مشاہدے کا رجحان تقریباََ ختم ہوتا جارہا ہے۔ جس کی وجہ سے خبروں کی ساکھ و بامقصد آگہی کی عدم فراہمی کے سبب خبروں کے معیار میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ پاکستان پریس فاؤنڈیشن نے ذرائع ابلاغ کے خلاف پرتشدد کاروائیوں کی خطرناک حد تک بڑھتی سطح پر قابو اور اس سے وابستہ افراد و اداروں پر حملے کرنے والوں کو کھلی چھوٹ کے خاتمے کے اہم اقدامات کی تجاویز دی ہیں۔ جس میں کہا گیا ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف صرف فوجی مقدمات درج ہی نہیں بلکہ تحقیقات و مقدمے کی پیروی و فوری فیصلوں کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔

صحافی اور میڈیا کارکنان کے خلاف تشدد کے واقعات کے خاتمے کے لئے مقامی، قومی، بین الاقوامی اشاعتی، برقی و آن لائن میڈیا کے ذرائع ابلاغ کے اداروں و کارکنوں پر حملوں پر ان کے اداروں کے کردار کو مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے۔ جن میں تنازعات کے معالات کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو حفاظی آلات کی فراہمی، جن میں بلٹ پروف جیکٹس اور میڈیکل کٹس کو لازم فراہم کیا جانا بھی شامل ہے۔پاکستان پریس فاؤنڈیشن ابلاغی اداروں کو بھی پابند بنانے کا مطالبہ کرتی ہے کہ صحافیوں کو زندگی بیمہ،طبی انشورنس اور اموات یا زخمی ہونے پر زر تلافی ممکن بنائے جائیں۔ یہاں اس بات کی بھی ضرورت محسوس کی جاتی ہے کہ تشدد کا شکار صحافی یا میڈیا کارکنان کے ساتھ کوئی واقعہ یا سانحہ رونما ہونے کے بعد فنڈ کے قیام کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔

دیہی اور ایسے علاقے جہاں صحافیوں کو مناسب ٹریننگ میسر نہیں آئی ہوتی ان پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ کیونکہ پیشہ وارانہ رپورٹنگ کرتے وقت انہیں تجربے و تعلیم کی کمی کا سامنا رہتا ہے۔ جس کی وجہ سے انہیں کسی اہم خبر کے لئے جان جانے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ ابلاغی اداروں کو رپورٹنگ کے لئے اس بات کو بھی دھیان میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ متنازع و پرتشدد علاقوں یا جنگ زدہ جگہوں پر میڈیا کارکنان کو فہم و زمینی حقائق کا ادارک کرائیں اور خود بھی کریں۔ کیونکہ صحافیوں کو حساس معاملات میں دھمکیاں ملنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انہیں اپنے ادارے کی جانب سے دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔

بسا اوقات بے حسی یا غلط فہمی میں مبتلا مدیران اپنے رپورٹرز یا فوٹو جرنلسٹ کو ایسی صورت حال میں دھکیل دیتے ہیں جہاں انہیں دھمکیوں و تشدد کا سامنا ہوتا ہے۔ مختلف ریاستیں آزاد صحافت میں پیشہ وارانہ ذمہ داری کی راہ میں آگاہی کو اپنے خلاف پروپیگنڈا سمجھتی ہیں وہاں سب سے زیادہ خطرات کا شکار جرائم سے متعلقہ میڈیا کارکنان ہیں۔ دیگر شعبہ ہائے زندگی کی طرح خواتین صحافیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی انہیں ہراساں کرنے اور صنفی تشدد جیسے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ جرائم پیشہ افراد سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں بالخصوص پولیس کی جانب سے بھی صحافیوں کو مشکلات و دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مالی بحران کا شکارکسان اورصنعتی پیکج کا اعلان

جرائم پیشہ عناصر کی جانب سے تشدد کے ان گنت واقعات رونما ہوتے ہیں مگر صحافتی تنظیموں میں اس لئے بھی ٹھیک طریقے سے رپورٹ نہیں ہوپاتے کیونکہ وہ صحافتی تنظیموں کے رکن نہیں ہوتے اور انہیں صحافتی تنظیمیں باقاعدہ فعال میڈیا کارکن تصور نہیں کرتیں۔میڈیا کارکنوں کے خلاف 10 میں سے بمشکل صرف ایک جرم کی تحقیقات وتفتیش ہو پاتی ہے۔صحافی جمہوری طریقے سے کام کرنے والے عوامی نگہبانوں کی حیثیت سے کام کرتے ہیں، شہریوں کو آگاہ کرنے اور ان کو بااختیار بنانے میں مدد کرتے ہیں۔

صحافیوں پر تشددسچائی کو چھپانے اور ان لوگوں کو دہشت زدہ کرنا ہے جو اس کے انکشاف کرنے کی ہمت کرتے ہیں۔ اس طرح نہ صرف صحافی کی زندگی کوختم کیا جاتا ہے بلکہ باخبر رہنے اور حقیقت جاننے کے بنیادی حق کو بھی ختم کردیا جاتا ہے۔جبکہ میڈیا کی آزادی ہمارے جمہوری معاشروں کا ایک لازمی ستون ہے۔ ریاستوں کو یہ یقینی بنانا چاہیئے کہ وہ قانونی ماحول فراہم کرتے ہوئے صحافیوں کے خلاف مجرمانہ دھمکیوں کو سنجیدگی سے لے اوران پر ہونے والے حملوں کی بھرپور قانونی کارروائی کرکے اظہار رائے کی آزادی اور صحافیوں کی حفاظت کے لئے اپنی ذمہ داری کوپوراکرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں