39

سفید چھڑی کا عالمی دن اور بصارت سے محروم افراد کی مشکلات… شعورمیڈیا نیٹ ورک انٹرنیشنل

ازقلم: اللہ ڈتہ انجم
دھنوٹ (لودھراں)

انسان کو اللہ تعالیٰ نے مختلف بے بہا نعمتوں سے نوازا ہے اور ان نعمتوں میں آنکھیں بہت بڑی نعمت ہیں۔ دنیا جہان کی خوبصورتی ورنگینیاں آنکھوں ہی کی بدولت ہیں۔ جب کوئی بھی خوبصور ت چیز پسند آتی ہے تو خوشی کی جھلک چہرے اور آنکھوں سے عیاں ہوتی ہے۔آنکھیں احساس کی آئینہ دار ہوتی ہیں اور شخصیت کی صرف عکاسی ہی نہیں بلکہ شخصیت کا مکمل احاطہ کرتی ہیں۔ آنکھیں دل اور روح کا دروازہ ہیں یہ کبھی جھوٹ نہیں بولتیں۔آنکھوں کے بغیر یہ دنیا کیسی ہے یہ صرف سفید چھڑی والا ہی بتا سکتا ہے۔

1921ء میں ایک فوٹو گرافرجیمس بکس کی بینائی ایک حادثے میں جاتی رہی یہ پہلا شخص تھاجس نے اپنی چھڑی کو سفید رنگ کرا لیا تھاتاکہ لوگ اس چھڑی کو دیکھ کر سمجھ لیں اور راستہ دے دیں۔ پھر 1930ء میں بوم جیم نامی شخص نے لائنز کلب میں یہ نظریہ پیش کیا کہ نابینا افراد کی چھڑی کو سفید کر کے اسے عام کر دیا جائے تاکہ لوگوں کو علم ہو جائے کہ سفید چھڑی رکھنے والے شخص کو بینائی کی پرابلم ہے۔ جنگِ عظیم دوئم کے خاتمے کے بعد لیگ آف نیشن اقوامِ متحدہ میں تبدیل ہوئی تو جنگ سے متاثرہ ممالک کے لاکھوں نابینا افراد سے متعلق غور وفکر شروع ہواتوابتدا میں سرخ اور سفید رنگ کی ایک چھڑی متعارف کرائی گئی جو اِن لوگوں کا عالمی نشان تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کرونا وائرس نے عالیشان گھر، گاڑی اور دیگر آسائشوں کے سارے خواب بکھیر دئیے

سفید رنگ امن کی علامت اور سرخ کو نابیناافراد کا بین الاقوامی نشان قرار دے دیا گیا۔ اقوام متحدہ نے6اکتوبر1964ء میں سفید چھڑی کو نابینا افراد کے لیے بطور امید اور سہارا منتخب کیا اور نابینا افراد کے حقوق کے تحفظ کا بل منظور کرتے ہوئے ہر سال 15 اکتوبر کو سفید چھڑی کے تحفظ کا عالمی دن منانے کا فیصلہ کیا۔ نابیناؤں کی انٹرنیشنل فیڈریشن کے تحت اقوام متحدہ کے زیرِ اہتمام ہر سال 15اکتوبر کوسفید چھڑی کا عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے اور اس دن کی مناسبت سے سرکاری و غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے آگاہی سیمینارز اور ریلیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں یہ دن پہلی مرتبہ 15اکتوبر 1972ء کو منایا گیا۔1999ء تک یہ دن بھر پور طریقے سے منایا جاتا رہا لیکن اس دن پرسرمایہ داروں نے شب خون مار کر اس دن کو ہاتھ دھونے کا عالمی دن مقرر کروا لیا۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یومِ سفید چھڑی پر کمرشل پرست میڈیا ہاتھ دھونے کے عالمی دن کے اشتہارات کی چکاچوند میں اس طرح غرق ہوا کہ نابینا لوگوں کو اپنے دن پر صرف چند منٹ کی کوریج خیرات میں ملتی ہے۔

یہ دن منانے کا مقصد نابینا افراد کو درپیش مسائل اور مشکلات سے متعلق معاشرے کو آگاہی فراہم کرنا ہے تاکہ عام لوگوں کو یہ باور کرایا جا سکے کہ بصارت سے محروم افراد بھی تھوڑی سی توجہ کے ساتھ ذمہ دار اور مفید شہری ثابت ہو سکتے ہیں اور ان لوگوں کی تعلیم و تربیت، روزگار اور ان کے تحفظ کا مناسب انتظام کیا جاسکے مگرموجودہ وقت تک اس سلسلے میں تمام انتظامات سست روی کا شکار ہیں۔بصارت سے محروم افراد کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے ضلعی انتظامیہ اور پنجاب حکومت کے پاس کوئی واضح پالیسی نظر نہیں آتی اور بات صرف تقریبات کی حد تک ہی محدود ہے۔ اس دن کی مناسبت سے انتظامیہ چند نابینا افراد میں سفید چھڑیاں تو تقسیم کرتی ہے مگر اس کے بعد سارا سال ان کے لیے کچھ نہیں کیا جاتا۔

یہ بھی پڑھیں: انسانیت کی خدمت، اسلام کی بنیادی تعلیم

نابینا افراد کو حکومتی ٹرانسپورٹ میں تو پچاس فیصد تک کرایہ میں رعایت حاصل ہے مگر جنرل ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں انہیں کوئی رعایت نہیں دی جاتی حالانکہ بیشتر نابینا افراد اکیلے سفر نہیں کرسکتے اور انہیں اپنے ساتھ اٹینڈنٹ بھی لے جانا پڑتا ہے۔ جس کے باعث ان کے دوگنا اخراجات ہوتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ کے حوالے سے بھی شہر میں نابینا افراد کے لیے باقاعدہ سٹاپس مقرر نہیں جس کے باعث نابینا افراد کو گاڑی میں سوار ہونے میں مشکل پیش آتی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے ان کی مدد کے لیے وہاں کوئی اہلکار بھی تعینات نہیں ہوتا۔ راستوں میں موجود کھلے مین ہولزکی وجہ سے نابینا افراد کو شدید دشواری کا سامنا ہوتاہے۔بعض معذور افرادکسی بھی طرح کی جسمانی معذوری، مشکل سماجی صورت حال یا شہری حقوق کی عمومی نفی کی معاشرتی روایت کے آگے ہتھیارڈالنے کی بجائے اپنی جدوجہد جاری رکھتے ہیں انہیں سراہنے کی بجائے ان کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔

شناختی کارڈ کے بغیر کوئی سفری دستاویز نہیں بن سکتی، تصدیق نہیں ہو سکتی، بینک اکاؤنٹ نہیں کھل سکتا، موبائل سم جاری نہیں ہو سکتی۔ جائیداد خریدی یا بیچی نہیں جا سکتی، کرائے پر دی اور لی نہیں جا سکتی۔ اس تناظر میں نہ ہونے کے برابر شناختی کارڈ اگر معذوروں کو جاری ہوں تو سوچئے ان کے پہلے سے موجود مسائل میں کتنے گنا اضافہ ہو جائے گا۔جبکہ معذوری والاشناختی کارڈ بنوانے کیلئے ڈسٹرکٹ ڈسیبلٹی اسیسمنٹ بورڈ کا بنا ہوا سرٹیفکیٹ کا ہونا ضروری ہے۔کیوں کہ وھیل چئر پر بیٹھا،بیساکھی ٹیکتا یا سفید چھڑی ہلاتا شخص حکومت کو تب تک دکھائی نہیں دیتا جب تک اس شخص کے ہاتھ میں ڈسٹرکٹ ڈسیبلٹی اسیسمنٹ بورڈ کا جاری کردہ سرٹیفکیٹ نہ ہو کہ یہ شخص درحقیقت معذور ہے (کوئی بہروپیا نہیں)۔

نتیجہ یہ ہے کہ عام لوگ تو روزمرہ مسائل کے حل کے لیے جوتیاں چٹخاتے ہی ہیں مگر معذور خصوصاً نابینامتعلقہ سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے بمشکل سفید چھڑی اور بیساکھی گھسیٹتے نظر آتے ہیں۔ اور پھر بعض ہسپتالوں میں ڈسٹرکٹ ڈسیبلٹی اسیسمنٹ بورڈکی میٹنگ دوسری یا تیسری منزل پر کی جاتی ہے۔جہاں تک معذور افراد کی رسائی انتہائی مشکل ہو جاتی ہے۔ اگر کسی کثیر منزلہ عمارت میں لفٹ نہیں تو بجائے یہ کہ نابینا یا چلنے پھرنے سے معذور یا بیمار شہری اوپری منزلوں تک آنے جانے کے لیے کسی مددگار کو تلاش کرتے پھریں۔ کیوں نہ، گراؤنڈ فلور پر ہی ایک اہلکار بٹھا دیا جائے جو ان کے دستاویزی و دیگر مسائل حل کر دے اور معذور افراد کو اوپر جانے کا مشورہ دینے کے بجائے ان کی فائلیں اوپر بھیج دے۔ اس انتظام میں ادارے کے کتنے اضافی پیسے خرچ ہو جائیں گے؟

ہمارے معاشرے کے تو روّیے ایسے ہیں کہ پڑھے لکھے لوگ بھی گزرتے ہوئے زور سے آواز دیں گے ”حافظ جی ایک طرف ہو جاؤ“ افسوس کہ سفید چھڑی والا کہاں جائے حالانکہ ہٹنا خود بینا کو چاہیئے۔ میڈیا کو اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے نہ صرف نابینا افرادکے مسائل کو اجاگر کرنا چاہیئے بلکہ ان کی کارکردگی کوبھی سامنے لانا چاہیئے۔اپنے حقوق کے حصول کیلئے اگر یہ احتجاج کریں توان کے ساتھ ”دبڑ کُٹ“ والا سلوک کیا جاتا ہے۔حالانکہ کچھ سہولتیں دینے کے لیے کسی قانون یا ڈنڈے کی ضرورت نہیں صرف کامن سینس استعمال کر کے ان کی زندگی میں آسانی پیدا کی سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یتیم بچیاں کس کے ہاتھ پر اپنے والد کا لہو تلاش کریں؟

کسی بھی صوبے یا شہر کی بلڈنگ یا روڈ کنٹرول اتھارٹی کو صرف یہی کہنا ہو گا کہ جب بھی کوئی فٹ پاتھ، پبلک یا کمرشل عمارت بنائی جائے بیرونی سیڑھیوں کے برابر میں یا سیڑھیوں کے درمیان ایک سلوپ بھی بنا دیا جائے یا یا فٹ پاتھ بناتے ہوئے شروع یا آخرکی اینٹوں کو دباکر سلوپ بنایا جائے۔ اگر چار واش روم نارمل لوگوں کے استعمال کے لیے بنائے ہیں تو پانچواں خصوصی افراد کی ضروریات کے حساب سے بھی بنا دیں۔ بسوں اور ٹرینوں میں معذور افراد کے لیے چند سیٹیں خالی رکھنے سے کمپنی یا ادارے پر کون سابہت بڑا مالی بوجھ پڑ جائے گا؟ کیا پارکنگ لاٹ میں ایک سیکشن معذوروں کی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے لیے مخصوص کرنے سے پارکنگ لاٹ کا منتظم دیوالیہ ہو جائے گا؟

لیکن اس طرح سے ہم سب بینا نے سوچنا ہے۔اکثر ممالک میں تو سفید چھڑی تھامے کوئی نابینا سڑک پار کرتا نظر آئے تو دونوں طرف ٹریفک رک جاتی ہے۔ تا دیر کہ سفید چھڑی والا روڈ پار کر کے فٹ پاتھ تک نہ پہنچ جائے۔جہاں ریاست کا فرض ہے کہ نابینا افراد کی تعلیم وتربیت کا مناسب انتظام کرے وہاں نابینا افراد بھی اپنے ہاتھ میں موجود سفید چھڑی کو اپنی آنکھ سمجھیں اور اسے کچلنے والوں کی عدم آگہی کو آگہی میں تبدیل کریں۔ محتاج بن کر بھیک مانگنے،خود کو کمتر سمجھ کر لوگوں سے رحم،ترس اور ہمدردی کی توقع رکھنے کی بجائے ان کے شانہ بشانہ امورِ زندگی سر انجام دیں۔اگر طالب علم ہیں تو اپنی محنت سے امتحان پاس کریں۔اپنی چشمِ بصیرت سے تمام اسیرانِ بصیرت اپنی متعین بصیرت کو رضائے الٰہی سمجھتے ہوئے ملک کی ترقی میں بھر پور کردار ادا کریں۔اسرار چشتی فرماتے ہیں کہ

بے نور ہیں آنکھیں تو پھر کیا؟                ہم چشمِ بصیرت رکھتے ہیں
نابینا و کمتر مت کہنا                   ہم عقل کی نعمت رکھتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں