53

دھنوٹ کے مسائل کب حل ہوں گے؟ …. شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: اللہ ڈتہ انجم

بستی اتیرانواں والی جسے اب بڑی دھنوٹ کہاجاتاہے،چاہ پہوڑاں والا،باغ ماتاتلوک چند،بستی دولت شاہ والا،ریلوے پھاٹک شرقی کے قریب شمال میں واقع خانقاہ حضرت شیخ احمدکبیرؒوقبرستان،بستی مجاوراں،بستی باغی،آثارقدیمہ کی یادگارمسجدوعیدگاہ اورملحقہ کئی ایکڑاراضی پرمحیط ایک بہت پھیلاہوااونچاٹبہ جس کے غربی جانب،ریلوے اسٹیشن جمرانی واہ کے شمال میں واقع ہندوآبادی کی بستی دھنوٹ اوررات کو عشاء کے بعدبستی باغی میں ایک بزرگ کا بلندوپیاری آوازمیں لاالہ الاللہ کاذکرکرنا،یہ تھا1946 ء کے دھنوٹ کا جغرافیہ۔

بفضل اللہ تعالیٰ پاکستان کاقیام عمل میں آیاہندواقلیت ترک ِسکونت کرکے بھارت چلی گئی اجڑے ہوئے گھروں میں ہندوبربریت کاشکارمظلوم مسلم مہاجر کسمپرسی کے عالم میں جان و مال وغیرہ کی قربانی دے کر اپنے پرانے گھربار چھوڑ، نئے گھربسانے کے لئے لمبا اورتھکا دینے والاسفرکرکے یہاں آباد ہوئے۔تاریخ شاہد ہے کہ اس شہر کے ٹیلوں، قدیم عمارتوں اورزمیں بوس کھنڈرات نے مختلف ادوار کے نشیب وفراز دیکھے ہیں۔یہاں ہر دور میں ترقیاتی کاموں کیلئے کوششیں کی گئیں مگر اکثر اعلیٰ حکام کی بے توجہی اور بعض اوقات وسائل کی کمی مسائل کے حل میں آڑے آتی رہی۔ یہاں کے عوام کی چیخ وپکار کے باوجود صحت و تعلیم سمیت تمام بنیادی مسائل ہمیشہ حل طلب رہے اورہرمسلئہ ایک سے بڑھ کر دوسرا بڑا مسلئہ ہے۔ صحت جیسا بنیادی مسلئہ ہمیشہ سرِفہرست رہا ہے۔

10اگست1965 میں دھنوٹ میں ضلعی ڈسپنسری کا افتتاح ہوا۔23مئی 1989کو ضلعی ڈسپنسری کے احاطہ میں ہی بنیادی مرکز صحت کا قیام عمل میں لا یا گیا۔ آبادی بڑھتی گئی مگر صحت کی سہولت وہی اونٹ کے منہ میں زیرے والی بات رہی۔ 50ہزار آبادی کیلئے رورل ہیلتھ سنٹرکا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے اور نہ جانے رورل ہیلتھ سنٹر(RHC)کاقیام کب ہو گا؟ایک مدت سے اہلِ دھنوٹ صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔کسی بھی ایمر جنسی یامیڈیکل کیلئے ہمیشہ کی طرح کہروڑ پکا، لودھراں یا بہاول پور جاتے ہوئے دورانِ سفر مریض اکثرجان کی بازی ہار جاتے ہیں۔

اب تو سیوریج کی ناگفتہ بہ حالت کی وجہ سے بنیادی مرکزِ صحت کی طرف جانے والا راستہ ہر وقت گندے پانی کی زد میں رہتا ہے جبکہ بارش کے دنوں میں شہر بھر کا پانی بنیادی مرکز صحت میں جمع ہو جاتا ہے اور بنیادی مرکز صحت کی عمارت تک پہنچنے کیلئے کشتی کی ضرورت ہوتی ہے۔1912 ء میں پرائمری سکول دھنوٹ کا قیام عمل میں لایا گیا ایک صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود یہ سکول بمشکل ہائی سکول تک کا سفر کر سکا ہے۔بوائز وگرلزڈگری کالجز کا قیام دھنوٹ کی ترقی کیلئے اہم ضرورت ہے۔دھنوٹ اور اس کے گرد و نواح کے سکولوں سے میٹرک کا امتحان پاس کرنے والے سینکڑوں کی تعداد میں طلباؤ طالبات کو حصول تعلیم کے لیے لودہراں یا بہاولپور کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

سیاست دانوں کا یہاں گرلز وبوائزڈگری کالجز بنانے کا وعدہ ابھی تک صرف وعدہ ہی رہاہے۔ ان اداروں کے گراسی گراؤنڈ اور دھنوٹ سپورٹس گراؤنڈزویرانی کے مناظر پیش کرتے نظر آتے ہیں جبکہ گورنمنٹ ہائی سکول دھنوٹ کے10گھنٹے سرکاری پانی پر ایک عرصہ سے مختلف کاشتکاروں کا قبضہ ہے اور حکومتی ادارے ان قابضین کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ دھنوٹ کے عوا م سوئی گیس جیسی سہولت سے ابھی تک مستفیدنہیں ہوسکے ایک عرصہ سے ڈالے گئے گیس پائپ عوام کا منہ چڑا رہے ہیں۔جہاں دھنوٹ دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہے وہاں انٹر نیٹ جیسے تیز رفتار مواصلاتی نظام سے بھی اس علاقے کو محروم کر دیا گیاہے۔1987ء میں سعید چوک دھنوٹ میں ایک کرائے کے مکان میں ٹیلی فون ایکسچینج کا قیام عمل میں لاکراہلِ دھنوٹ کو ٹیلی فون کی سہولت مہیا کی گئی اس ایکسچینج میں ٹیلی فون نمبر بُک کرایا جاتا اور آپریٹر نمبر ملا کر دیتا۔یہ ٹیلی فون ایکسچینج مختلف کرائے کے مکانوں میں منتقل ہوتی رہی۔

1994 ء میں ایک کنٹینر میں آٹو میٹک ٹیلی فون ایکسچینج کا قیام عمل میں لا کر دھنوٹ،حویلی نصیر خاں و دیگر ارد گرد کے علاقوں میں آٹو میٹک ٹیلی فون کی سہولت بہم پہنچائی گئی۔موبائل فون عام ہونے پریہاں کے اکثر لوگوں کی توجہ پی ٹی سی ایل سے ہٹ گئی۔ پی ٹی سی ایل ٹیلی فون کنکشن کٹنے لگے۔محکمہ ٹیلی فون نے بھی دھنوٹ ٹیلی فون ایکسچینج سے اپنی توجہ ہٹا لی اورآہستہ آہستہ پی ٹی سی ایل کے ذریعے دھنوٹ وارد گرد کا مواصلاتی رابطہ بذریعہ پی ٹی سی ایل ختم ہوگیاجبکہ خصوصاًدھنوٹ میں مختلف محکمہ جات کے دفاتر میں پی ٹی سی ایل ٹیلی فون کا ہونا انتہائی ضروری ہونے کی بنا عوامی مطالبے کے باوجوددھنوٹ ٹیلی فون ایکسچینج کو بند کر دیا گیا۔محکمہ ٹیلی فون کے ملازمین بھی یہاں سے کوچ کر گئے اور شہریوں کی آواز نقار خانے میں طوطی کی آواز ثابت ہوئی۔

دھنوٹ کا سیوریج سسٹم جو کہ 25سال پرانا اور بوسیدہ ہونے کی وجہ سے سیوریج کے مسائل خصوصاًچھوٹی دھنوٹ،اسلام پورہ،محلہ راجپوتاں،بیریں والا،سنتو والا،فیض آباد،منشی والا،محلہ مغلپورہ،محلہ دین پورہ،سیرانی محلہ،5مرلہ سکیم غرض کسی محلے کی کوئی ایسی گلی نہیں ہے جس میں سیوریج کا گندہ پانی موجود نہ ہو۔ خصوصاً مشرقی ریلوے پھاٹک اور مغربی ریلوے پھاٹک کے قریب تو بڑے بڑے جوہڑ آثارِ قدیمہ کا روپ دھار چکے ہیں۔افسرانِ بالا کی طرف سے سیوریج کے مسائل کے حل کیلئے احکامات بھی جاری کئے جاتے رہے ہیں مگرحالات ٹھیک ہونے کی بجائے روز بروز خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظرسیوریج کے مسئلے کے حل کیلئے کسی میگاپر وجیکٹ کی ضرورت ہے۔

سٹریٹ لائٹس نہ ہونے کا آوارہ گردپورا پورا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہ لوگ رات گئے تک ہوٹلوں، بلیئرڈ کلبوں اورمنی سینما گھروں میں بسیرا کرتے ہیں اور پھر اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کوئی نہ کوئی واردات کر نا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ناجائز تجاوزات کی وجہ سے روڈ بلاک رہنے کی وجہ سے حادثات معمول بن چکے ہیں۔ رہی سہی کسرچوکوں پر کھڑے کیئے جانے والے موٹر سائیکل رکشا والے پوری کر دیتے ہیں جہاں سے پیدل گزرنا بھی بہت مشکل ہوتا ہے۔دھنوٹ میں حافظ آباد،سعید چوک اورکشمیر چوک ویگن سٹینڈز پر سواریوں کیلئے کوئی سائے کا انتظام یا انتظار گاہ نہ ہونے کی وجہ سے خصوصاً خواتین سواریوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

قبرستان حضرت شیخ احمد کبیر ؒکی محکمہ اوقاف کی 231 کنال اراضی میں سے تقریباًایک تہائی اراضی پر لوگوں کا قبضہ ہے بلکہ قبروں کو مسمار کر کے فصلیں کاشت کی گئیں ہیں متعدددفعہ تحصیل دار اور پٹواریوں سے قبرستان کے رقبہ کی حد براری کرائی گئی مگرنہ رقبہ واگزار کرایا گیا اور نہ ہی چار دیواری کرائی گئی۔ محکمہ اوقاف بھی قابضین کے سامنے بے بس نظر آتاہے۔ دھنوٹ کے شہر خاموشاں حضرت شیخ احمد کبیر،کوٹ والا، چھوٹی دھنوٹ اور امجد کالونی کے قبرستانوں کی چاردیواری نہ ہونے کی بناء پر قبروں کے درمیان سے راستے بنا لئے گئے ہیں۔جانے کب کسی صاحبِ اختیار کو خیال آئیگا اورکب دھنوٹ کے مسائل حل ہوں گے؟

گل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمربھی
اے خانہء بااندازِچمن کچھ توادھربھی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں