58

جشنِ آمدِ رسولﷺ … شعورمیڈیا نیٹ ورک انٹرنیشنل

ازقلم: اللہ ڈتہ انجم
دھنوٹ (لودھراں)

جن کے تلوے کا دھووَن ہے آبِ حیات                   ہے وہ جانِ مسیحا ہمارا نبی ﷺ

ربیع الاوّل تیسرا اسلامی مہینہ ربیع الاوّل فیوض و برکات و سعادتوں کا منبع ہے۔ اس ماہ مبارک میں حضورِانور سرور کونین حضرت محمدﷺ کو دنیا کو اندھیروں سے نکالنے کیلئے بھیجا گیا۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوری دنیا کے لئے نمونہ بن کرتشریف لائے۔آپﷺ ہر شعبے میں اس اوج کمال پر فائز ہیں کہ ان جیسا کوئی تھا اور نہ ہی آئندہ آئے گا۔ماہ ربیع الاوّل میں عموماً اور بارہ ربیع الاوّل کو خصوصاً محسنِ انسانیّت آقائے کائنات،فخر موجودات نبی اکرم سرکار دو عالم ﷺ کی دنیا میں تشریف آوری ایک عظیم نعمت ہے۔ جس کا مقابلہ دنیا کی کوئی نعمت نہیں کر سکتی۔ آپﷺ قاسمِ نعمت ہیں کہ دنیا کو ساری عطائیں آپﷺ کے صدقے میں ملتی ہیں۔

آپﷺ نے علم و نور کی ایسی شمعیں روشن کیں کہ جس نے عرب جیسے علم و تہذیب سے عاری معاشرے میں جہالت کے اندھیروں کو ختم کر کے اسے دنیا کا تہذیب یافتہ معاشرہ بنا دیا۔ ماہ ربیع الاوّل کا چاند نظر آتے ہی پوری دنیا میں آقائے دو جہاں ﷺ کی ولادت باسعادت کی خوشی میں پورے عالم اسلام میں محافل میلاد منعقد کی جاتی ہیں۔میلاد شریف کی حقیقت، حضورﷺ کی ولادت پاک کا واقعہ بیان کرنا، آپﷺ کی کرامات، شیر خوارگی،حضرت حلیمہؒ کے ہاں پرورش حاصل کرنے کے واقعات بیان کرنااور سیرت پاک کا بیان خواہ تنہائی میں ہو یا مجلس میں، شعر میں ہو یا نثر میں،کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر جس طرح بھی کیا جائے اس کو میلاد شریف ہی کہا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: سفید چھڑی کا عالمی دن اور بصارت سے محروم افراد کی مشکلات

حضور نبی پاکﷺ کی دنیا میں تشریف آوری پر خوشیاں منانا ہماری اسلامی روایات کی آن اورشان ہے۔ یکم ربیع الاوّل سے ہی مساجد اور دیگر مقامات پرمحفلِ میلاد النبیﷺ اور نعت خوانی کی محافل شروع ہو جاتی ہیں۔ جن میں علماء کرام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت، آپﷺ کی ذات مبارکہ اور سیرت طیبہ کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالتے ہیں۔ اسی طرح مختلف شعراء اور ثناء خوانِ رسول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں نعتیہ گلہائے عقیدت اور درود و سلام پیش کرتے ہیں۔ یوں تو میلاد النبیﷺ اور محافلِ نعت کا انعقاد پورا سال ہی جاری رہتا ہے۔ کائنات میں آپﷺ کے نعلین پاک کے صدقے چمک دمک رہتی ہے۔لیکن ماہ ِربیع الاوّل کی آمد کے ساتھ ہی مسلمانوں کے دینی جذبات اور آپﷺ کی محبت کے چراغ ہر جگہ روشن نظر آتے ہیں۔ عید میلاد النبیﷺ کا تہوار پورے مذہبی عقیدت اور احترام سے منایا جاتا ہے۔

قرآن کی روشنی میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ترجمہ”اور انہیں اللہ کے دن یاد دلاؤ“۔ (ابراہیم، 5) امام المفسرین سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہماکے نزدیک ایام اللہ سے مراد وہ دن ہیں جن میں رب تعالیٰ کی کسی نعمت کا نزول ہوا ہو۔ان ایام میں سب سے بڑی نعمت کے دن سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت و معراج کے دن ہیں۔ان کی یا د قائم کرنا بھی اس آیت کے حکم میں داخل ہے۔ (تفسیر خزائن العرفان)۔

حضرت آمنہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت ہوئی تو ساتھ ہی ایسے نور کا ظہور ہوا کہ جس سے مشرق سے مغرب تک ساری کائنات روشن ہوگئی۔حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کی والدہ فرماتی ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی میں خانہ کعبہ کے پاس تھی۔ میں نے دیکھا کہ خانہ کعبہ نور سے روشن ہوگیا۔ اور ستارے زمین کے اتنے قریب آگئے کہ مجھے یہ گمان ہوا کہ کہیں وہ مجھ پر گر نہ پڑیں۔حضور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود بھی اپنے یومِ ولادت کی تعظیم فرماتے اور اِس کائنات میں اپنے ظہور وجود پر سپاس گزار ہوتے ہوئے پیر کے دن روزہ رکھتے تھے۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے یوم ولادت کی تعظیم و تکریم فرماتے ہوئے تحدیثِ نعمت کا شکر بجا لانا حکم خداوندی تھا کیوں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کے وجودِ مسعود کے تصدق و توسل سے ہر وجود کو سعادت ملی ہے۔ احادیث مبارکہ میں آیا ہے کہ شب ِمیلاد مبارک کو عالمِ ملکوت (فرشتوں کی دنیا) میں ندا سنائی دی کہ سارے جہاں کو انوارِ قدس سے منور کردواور زمین و آسمان کے تمام فرشتے خوشی و مسرت میں جھوم اٹھے اور داروغہء جنّت کو حکم ہوا کہ فردوس اعلیٰ کو کھول دے اور سارے جہاں کو خوشبوؤں سے معطر کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان پر آمد مصطفیٰ کی خوشی منائی تو آپ ﷺکے امتی کیوں نہ اپنے پیارے نبیﷺ کے میلاد کی خوشی منائیں۔

ہم جب جشن مناتے ہیں تو اپنی بساط کے مطابق روشنیاں کرتے ہیں، قمقمے جلاتے ہیں،اپنے گھروں،محلوں دکانوں اور بازاروں کو ان روشن قمقموں اور چراغوں سے مزین و منور کرتے ہیں۔ لیکن وہ خالق کائنات جس کے قبضے میں مشرق و مغرب ہے اس نے جب اپنے محبوب کے میلاد پر خوشیاں منانے کا حکم دیااور نہ صرف مشرق و مغرب تک کائنات کو منور کر دیا بلکہ آسمانی کائنات کو بھی اس خوشی میں شامل کرتے ہوئے ستاروں کو قمقمے بنا کر زمین کے قریب کر دیا اور جس پیارے نبی ﷺکے وسیلے پر ہمیں یہ دنیا،یہ جان، یہ جہاں اور تمام نعمتیں ملیں ہیں توپھر پیارے نبی کی آمد پر ہم خوشی کیوں نہ منائیں؟ جہاں جوان، خواتین اور بڑے بوڑھے اپنے پیارے نبی ﷺکی زندگی کے اسلوب بیان کرنے اورنعتِ رسول مقبول پیش کرنے کے لئے خصوصی طور پر میلاد شریف کا اہتمام کرتے ہیں۔ وہاں معصوم بچے بھی اپنے پیارے نبیﷺ کی آمد کی خوشی میں کبھی پیچھے نہیں رہتے۔

یہ بھی پڑھیں: کرونا وائرس نے عالیشان گھر، گاڑی اور دیگر آسائشوں کے سارے خواب بکھیر دئیے

جشنِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عمل مسلمانوں کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام جیسے اَہم فرائض کی رغبت دلاتا ہے اور قلب و نظر میں ذوق و شوق کی فضاء ہموار کرتا ہے۔صلوۃ و سلام بذات خود شریعت میں بے پناہ نوازشات و برکات کا باعث ہے۔ اس لیے جمہور اُمت نے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اِنعقاد مستحسن سمجھا۔سیرتِ طیبہ کی اَہمیت اُجاگر کرنے اور جذبہئ محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فروغ کے لیے محفلِ میلاد کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ اِسی لیے جشنِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں فضائل، شمائل، خصائل اور معجزاتِ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تذکرہ اور اُسوہئ حسنہ کا بیان ہوتا ہے۔

حضور پاکﷺ کی زندگی کا احاطہ کرنا تو انسان کے لئے شاید ممکن نہ ہو لیکن ہر شعبہ ہائے زندگی میں آپﷺ ہرعام و خاص انسان کے لئے بہترین عملی نمونہ نظر آئے۔ آپﷺ نے اپنی تعلیمات میں امن،اخوت، بھائی چارہ،یکجہتی اور ایک دوسرے کو برداشت کا درس دیاہے۔ جہاں ایک طرف اس ماہ ہم آپﷺ کی ولادت کا جشن مناتے ہیں۔ وہیں ہم پر لازم ہے کہ ہم آپ ﷺکی تعلیمات پر عمل کریں۔ تبھی ہم آپﷺ سے سچی محبت کا دعویٰ کرسکتے ہیں۔ آج کے اس پر فتن دور میں اگر ہم اپنے انفرادی اور اجتماعی مسائل کو بھول کر ملت اسلامیہ کے عظیم مفاد میں اکھٹے ہوجائیں اور آپﷺ کی تعلیمات کو اپنے لیے مشعل راہ بنالیں تو گھر کی دہلیز سے ریاست اور عالم اسلام کی مضبوطی تک تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔

مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام شمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام
جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند اس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں