39

تھلوچستان … شعورمیڈیا نیٹ ورک انٹرنیشنل

ازقلم: خضرکلاسرا

معروف کالم نگار وشاعر منصور آفاق ہمارے میانوالی مطلب تھلوچستان کے فرزند ہیں۔ موصوف کی کالم میں تلواریں اور ہمدردیاں وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ساتھ کپتان کے وسیم اکرم پلس وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کے لیے دیکھنے کو ملتی ہیں۔ منصور آفاق کی بات لے کر چلے ہیں تو ضروری ہوگیاہے کہ پہلے ان کا ایک شعر آپ کی خدمت میں پیش کیاجائے ۔

ویسے ہی تمہیں وہم ہے کہ افلاک نشین ہیں
تم لوگ بڑے لوگ ہو ہم خاک نشین ہیں

منصور آفا ق کے مداح اور ہمارے میانوالی کے دوست و ڈپٹی کمشنر طارق خان نیازی نے منصور آفاق اور تھلوچستان کے معروف شاعر افضل عاجز کے بارے اپنی محبتوں کا اظہار یوں کیاہے کہ افضل عاجز اورمنصور آفاق دونوں میانوالی سے تعلق رکھنے والے اعلی درجہ کے ادیب تھے، ایک کی شاعری کو تبدیلی کھاگئی جبکہ دوسرے حب شریف میں اپنے فن کی کریا کرم کرنے والے ہیں۔افضل عاجز کے بارے میں بھی بات کرتے ہیں لیکن اس سے پہلے منصور آفاق کی اپنے کالم میں یاد آوری کی نوبت کیوں پیش آئی ہے، اس بارے میں بات مکمل کرلوں۔ہوا یوں ہے کہ پچھلے دنوں منصورآفاق نے اپنے ایک کالم میں لکھا ہے کہ سکول، کالج، یونیورسٹیاں بنانا، موجود ہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے،مطلب سردار عثمان بزدار وزیراعلی پنجاب کی ترجیحات میں تعلیم اولین ترجیح ہے۔

منصور آفا ق کے کالم کے باقی حصوں کو تو میں جیسے تیسے ہضم کرگیا لیکن یہ ایک جملہ گلے میں ہڈی کی طرح اٹک گیا کہ وزیراعلی عثمان بزدار کی ترجیحات میں سکول، کالج ااور یونیورسٹیاں بنانا شامل ہے۔یہ جملہ ہڈی کی شکل میں کیوں آگیا تھا، ایسا کی وجہ تھی ؟ یوں میں اپنی دھرتی کے معروف شاعر اور کالم نگار کی بات تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں تھا۔ اپنے آپ کو سمجھانے کی کوشش کے باوجود کہ ایسا ہوسکتاہے کہ منصور آفاق کو وزیراعلی عثمان بزدار نے کوئی راز کی بات بتائی ہوکہ وہ تعلیم کے شعبہ میں انقلاب برپاکرچکے ہیں۔لیکن ساری تسلی کی کہانیوں کے باوجود دل تھا کہ مانتا ہی نہیں تھا کہ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کی ترجیحات میں تعلیم اولین ترجیح ہے۔

ایسا ہے کہ منصور آفا ق، افضل عاجز، طارق خان نیازی اور راقم الحروف کا تعلق تھلوچستان (خوشاب، میانوالی، بھکر،لیہ، مظفرگڑھ، جھنگ، چینوٹ) سے ہے۔ اس بات کو منصور آفا ق سے بہتر کون جانتاہے کہ تھلوچستان کے 7 اضلاع میں قیام پاکستان کو 72سال گزرنے کے باوجود ایک بھی میڈیکل کالج تک نہیں ہے، یادرہے کہ ان گزرے 72 سالوں میں تخت لہور کے موجود ہ بلوچ حکمران سردار عثمان بزدار کا آج تک کا دور اقتدار بھی شامل ہے،اس بات کو منصور آفا ق کے علاوہ افضل عاجز، طارق خان نیازی بالخصوص تھلوچستان کے لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ ہماری دھرتی کیساتھ سوتیلی ماں سے بھی بدترین سلوک ساتھ رواء رکھا گیا تھا اور رکھا جارہاہے۔ پھرسوال یہ پیدا ہوتاہے کہ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار جوکہ 2018 ء کے جنرل الیکشن کے بعد پنجاب کے حکمران چلے آرہے ہیں، ان کو اس بات کا کریڈٹ کس طرح دیاجاسکتاہے کہ ان کی ترجیحات میں سکول، کالج اور یونیورسٹیاں بنانا، اولین ترجیح ہے۔

تھلوچستان کیساتھ رواء رکھے گئے ظلم کی کہانی درد ناک ہے۔وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار سمیت تخت لہور اور اسلام آباد کے حکمرانوں نے(72) سالوں کے دوران تھلوچستان کو اضافی فنڈز دینے تو درکنار اس کو اپنے حق اور وسائل سے بھی دن دیہاڑے محروم رکھاہے۔نتیجہ تھلوچستان جوکہ 7) (اضلاع پر مشتمل قدرتی حسن اور دولت سے مالامال ہے، بدترین پسماندگی کا شکارہوچکاہے۔ یہاں کی آبادی بڑی تیزی کے ساتھ لاہور، فیصل آباد ، راولپنڈی، کراچی اوردیگر بڑے شہروں کی طرف اس لیے بھاگ رہی ہے کہ اپنے بچوں کو تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولتیں تو دے سکیں۔ ان کو اس بات کا بھی خوف ہے کہ اگر اس جنگل جیسے ماحول میں مزید رہے تو اس بات کا قومی امکان ہے کہ تھلوچستان کی آنیوالی نسلیں بھی تعلیم جیسے زیور سے محروم رہیں گی۔یوں بڑے پیمانے پر نقل مکانی جارہی ہے لیکن ریاست اور حکومت کو اس بات کی پرواہ نہیں ہے۔

تھلوچستان کی کہانی ایک میڈیکل کالج کے نہ ہونے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے7) (اضلا ع خوشاب، میانوالی،بھکر،لیہ، مظفرگڑھ،جھنگ اور چینوٹ میں ایک ڈینٹل کالج اور ٹیچنگ ہسپتال بھی نہیں ہے۔اندازہ کریں،تھلوچستان کے) 7 (اضلاع جن کی قومی اسمبلی نشتوں کی تعداد یوں 19) (بنتی ہے کہ خوشاب، میانوالی، بھکر اور لیہ کی دودو نشتیں ہیں جوکہ کل ملا کر 8) (بنتی ہیں جبکہ مظفرگڑھ کی قومی اسمبلی کی (6)نشتیں ہیں اور جھنگ اور چینوٹ کی 5) (ہیں مطلب کل) (19سیٹیں ہیں۔ادھر تھلوچستان کی پنجاب اسمبلی میں) (37 نشتیں ہیں۔ اسی طرح 7) (ضلعی حکومتوں کا حامل تھلوچستان ہے۔اب آپ اس کی آبادی کا اندازہ بخوبی لگاسکتے ہیں کہ کتنی ہوگی ؟ ہمارے خیال میں تھلوچستان آبادی کے تناسب میں کراچی کے برابر کھڑا ہے اور بے پناہ وسائل کے باوجود اس کو پسماندگی سے نکالنے کی بجائے دلدل میں دھکیلا جارہاہے۔

یہاں اس بات کا تذکرہ بھی کرتاچلوں کہ تھلوچستان دریائے سندھ ، چناب اور جہلم کے درمیان کا خوبصورت اور قدرتی وسائل سے مالا مال علاقہ ہے۔تھلوچستان کو سونا کے پہاڑ سے تشہبیہ دی گئی ہے لیکن تخت لاہور کی پالیسوں کی بدولت اب یہاں غربت اور بے روزگاری کا راج ہے۔ اس کیسا تھ لاوارث سے بھی پچھلی سطح کا سلوک کیاجارہاہے۔ جی تھلوچستان کے(7) اضلا ع میں تو میڈیکل کالج قائم کرنے تخت لاہور اور اسلام آباد کو ضرورت محسوس نہیں ہوئی لیکن ملتان میں نشتر میڈیکل کالج، بہاولپور میں قائداعظم میڈیکل کالج،رحیم یار خان میں شیخ زاہد میڈیکل کالج، ڈیرہ غازی خان میں غازی میڈیکل کالج، فیصل آباد میں پنجاب میڈیکل کالج قائم کرنے کا کام پہلی فرصت میں کیاگیا۔

ادھرتخت لاہور میں تو میڈیکل کالجز کی بارش یوں کردی گئی کہ اسوقت یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے مطابق 26 میڈیکل کالج ہیں۔ اسی طرح اتنے ہی ٹیچنگ ہسپتال ہیں۔تھلوچستان کے عوام کیساتھ میڈیکل کی تعلیم میں ہی ناانصافی کی بدترین مثال قائم کی گئی ہے بلکہ انجئنیرنگ کی تعلیم بھی تھلوچستان کے (7) اضلاع خوشاب، میانوالی،بھکر، لیہ ، مظفرگڑھ ،جھنگ اور چینوٹ کے بچوں کیلئے مقامی سطح پر یوں بین ہے کہ اس وقت تک مطلب قیام پاکستان کو جب (72) سال ہونے کو آئے ہیں،تھلوچستان میں ایک بھی انجئیرنگ یونیورسٹی نہیں ہے، کوئی ہے تو اس کے بارے میں وضاحت کردی جائے تاکہ سند رہے۔ اسی طرح تھلوچستان کے (7) اضلاع میں ایک وویمن یونیورسٹی نہیں ہے، پورے تھلوچستان میں ایک بھی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، زکریایونیورسٹی ملتان ، غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان اور پنجاب یونیورسٹی لاہور جیسی ایک بھی یونیورسٹی نہیں ہے۔

تھلوچستان کے ساتھ رواء رکھے گئے اس استحصالی سلوک میں کوئی ایک پارٹی یا گروپ تک بات محدود نہیں ہے بلکہ پیپلزپارٹی سے لیکر مسلم لیگ نواز او ر پھر جنرل مشرف کی چھتری میں وجودمیں آنیوالی ق لیگ اورپاکستان تحریک انصاف تک سب نے اس کو پسماندگی میں دھکیلنے کا سلسلہ جاری رکھا ہواتھا اور رکھا ہوا ہے۔یوں کہاجاسکتاہے کہ تھلوچستان کے بارے میں سب کا سیبلس ایک ہے۔ پورے تھلوچستان میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد جیسی ایک بھی یونیورسٹی نہیں ہے اور ظلم یہ ہے کہ مستقبل قریب میں بھی کوئی فیصل آباد اور راولپنڈی کی طرح زرعی یونیورسٹی بنانے کی امیدتک بھی نظر نہیں آتی ہے ۔

تھلوچستان کے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے(7) ضلعوں کو (2) چھوڑیں (1)ڈویثرنل ہیڈ کوارٹر تک نہیں دیاگیاہے۔مطلب لیہ اور مظفرگڑھ کو ڈیرہ غازی خان ڈویثرن کے کمانڈ اورکنٹرول میں دے دیاگیاہے، ادھر بھکر،میانوالی اور خوشاب کو سرگودھا ڈویثرن رپورٹ کرنے کا تخت لاہور نے شاہی حکم صادر کیاہے۔ ادھر جھنگ اور چینوٹ کی عوام کو فیصل آباد ڈویثرنل ہیڈکوارٹر میں دے دیا گیاہے ، رہے نام اللہ کا۔ یوں تھلوچستان کے لوگ سارا دن پیچھے مڑ اور گھوم جا کی حالت میں ہوتے ہیں۔ملتان اور لاہور کا فاصلہ موٹروے بننے کے بعد ساڑھے تین گھنٹہ کا رہ گیاہے جبکہ بھکر اور میانوالی کے لوگ اپنے ڈویثرنل ہیڈکوارٹر سرگودھا، اتنے وقت میں نہیں پہنچ پاتے ہیں۔تھلوچستان کے مرکز ی روڈ جوکہ مظفرگڑھ،میانوالی روڈ(ایم ایم روڈ) کے نام سے پہچا ن رکھتا تھا، اب قاتل روڈ کے نام سے شہرت یوں پاچکاہے کہ روڈ کی حالت اس حد تک خراب ہوچکی ہے کہ کھڈے درکھڈے ہیں۔ اور آئے روز بدترین ٹریفک حادثات کی وجہ سے ہزاروں قیمتی جانیں گاجر مولی کی طرح کٹ چکی ہیں۔

ادھر تخت لاہور اور اسلام آباد کے حکمران اس مرکزی روڈ ایم ایم پر کوئی پیشرفت کرنے کی بجائے سیاست کررہے ہیں۔ جھوٹ بول رہے ہیں، لوگوں کودیوار کیساتھ لگارہے ہیں۔ تحریک انصاف کے دوراقتدار میں بھی نعروں اور وعدوں کے باوجود اس پر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔یہاں اس بات کو بھی ذہن میں رکھیں کہ ایم ایم روڈ جس وقت قاتل روڈ کی پہچان پاچکاہے،اس وقت ملک کے باقی علاقوں میں موٹروے کا جال بچھادیاگیاہے۔فوری اور سستے انصاف کے نعروں کی حقیقت یوں آکریہاں کھلتی ہے کہ تھلوچستان میں ایک بھی ہائی کورٹ کا بنچ نہیں ہے جبکہ ملتان جوکہ چار ضلعوں پر مشتمل ڈویثرن ہے، وہاں ہائی کورٹ کا بنچ ہے، بہاول پور تین ضلعوں پر مشتمل ڈویثرن ہے، وہاں ہائی کورٹ کا بنچ ہے لیکن تخت لاہور اور اسلام آباد کو اس بات سے پرواہ نہیں ہے کہ تھلوچستان کے (7) اضلاع میں ہائی کورٹ کا بنچ نہیں ہے۔ادھرپورے تھلوچستان میں ایک بھی ائرپورٹ نہیں ہے جبکہ ملتان،بہاول پور، رحیم یار خان اور ڈیرہ غازی خان میں ائرپورٹ بنائے گئے ہیں.

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ چاروں اضلاع ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور سب کو ائرپورٹ کی سہولت دی گئی ہے،اسی طرح فیصل آباد میں ائرپورٹ ہے لیکن نہیں ہے تو تھلوچستان کے 7) (ضلعوں میں نہیں ہے۔انڈسٹری نام کی کوئی چیز تھلوچستان میں تو نہیں ملتی ہے، اس کے پیچھے کیا راز ہے؟ اب کیا عرض کروں؟ تھلوچستان کے درد اور دکھوں کی کہانی ایک کالم میں ختم نہیں ہوسکتی ہے۔ یوں فی الحال اپنی بات اس امیدکے ساتھ یہاں ختم کررہاہوں کہ ہمارے منصور آفاق تخت لاہور کے بلوچ حکمران عثمان بزدار سے یہ سوال ضرور کریں گے کہ تھلوچستان میں لاہور چھوڑیں بہاول پور، ملتان اور ڈیرہ غازی خان کے برابر تعلیمی ادارے قائم کرنے کی طرف پیشرفت تک کیوں نہیں کی گئی ہے ؟ ادھر آو مل کر تھلوچستان کے عظیم شاعر افضل عاجز کا مشہور گیت مل کر گنگناتے ہیں،جوکہ اس دھرتی کے عظیم گلوکار عطااللہ عیسی خلیوی نے گا یاتھا۔ اللہ کریسی چنگیاں وے۔۔۔ مک ویسین تنگیاں ڈھولنا وے۔۔۔ دل چھوٹا نہ کروے ڈھولنا۔۔۔ اللہ کریسی چنگیاں وے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں