59

بہاول پور صوبے پر اعتراض کیوں؟ … شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: راؤ عمر جاوید ایڈووکیٹ

جنوبی پنجاب صوبے کا مطالبہ دیرینہ ہے دہائیوں سے اس وسیب کے لوگ محرومیوں کا شکار ہیں ان کے مسائل سینکڑوں میل دور لاہور میں حل ہوتے ہیں اپنے حقوق کی جنگ یہاں کے باسیوں کو تھکا دینے والے سفر اور جمع پونجی کو آگ لگانے کے بعد لڑنا پڑتی ہے تخت لاہور نے بھی جنوبی پنجاب کو ہمیشہ یکسر نظر انداز کیا ہے اس کی بڑی وجہ اس وسیب کے روائتی جاگیردار اور وڈیرے سیاستدانوں کی خودغرضی بھی ہے.

تین ڈویژن پر مشتمل جنوبی پنجاب کے عوامی نمائندوں نے کبھی اپنے وسیب اور یہاں کے مظلوم اور پینے کے پانی، تعلیم اور روزگار سے محروم لوگوں کی کبھی آواز نہیں بنے انہوں نے ہمیشہ اپنی سیاسی وفاداریاں اپنے ذاتی مفاد کے لئے تبدیل کیں ان کا مطمع نظر صرف اپنے حلقے میں من پسند ڈی پی او، ڈی سی، ڈی ایس پی، اے سی اور حتیٰ کہ ایس ایچ او اور پٹواری کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگانا ہے جبکہ ان کے اپنے بچے بیرون ملک یا ملک کے بڑے شہروں میں پڑھتے ہیں خود بھی بڑے شہروں میں مزے سے رہتے ہیں لیکن سادہ لوح لوگوں کو اپنا غلام بنانے رکھنے کے لئے اپنی جاگیروں اور زمینوں کا کبھی کبھار چکر لگا لیتے ہیں اسی لئے اس پسماندہ خطے میں تعلیم اور صحت کی سہولیات کا فقدان ہے اس کے ذمہ دار یہی وڈیرے اور جاگیردار ہیں لیکن عوام کو دیگر صوبے کے شہروں کے سیاستدانوں کے خلاف بھڑکاتے ہیں.

یہ بھی پڑھیں: مست ملنگ

موجودہ حکومت نے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن اسمبلی میں مطلوبہ اکثریت اور اپوزیشن کی جانب سے تعاون نہ ملنے کے سبب فی الحال الگ صوبہ بنانا ممکن نہیں تھا لیکن جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا قیام ممکن تھا جس پر یکم جولائی سے عملدرآمد بھی شروع ہوگیا ہے۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل آئی جی کی تعیناتی عمل میں آچکی ہے۔جنوبی پنجاب صوبے کے سیکرٹریٹ کے قیام کا موقع آیا تو بحث چھیڑ دی گئی کہ سیکرٹریٹ ملتان میں ہو یا بہاول پور میں اس سلسلے میں تاحال بھی بیان بازیاں جاری ہیں مختلف دھڑے اس سلسلے میں دلائل دے رہے ہیں کوئی کہتا ہے کہ ملتان نہیں تو کچھ قبول نہیں اور کوئی بہاول پور میں سیکرٹریٹ کے قیام کو ناگزیر قرار دے رہے ہیں.

تاہم حکومت نے اس کا حل نئے ایڈیشنل چیف سیکرٹریز کو ملتان اور بہاول پور میں الگ الگ دنوں میں کام کرنے اور ان کے دفاترز کو بھی ڈیرہ غازی خاں،بہاولپور اور ملتان میں قائم کردیا گیا ہے لیکن بہاولپور کی مخالفت میں ملتان کے سیاستدان میدان عمل میں آچکے ہیں اگر عوام کو اپنے گھر کی دہلیز پر ان کے مسائل کے حل کی سہولت دستیاب ہوتی ہے تو کیوں خوامخواہ اسے ملتان اور بہاولپور کے نام پر الجھایا جارہا ہے؟ بہاول پور کی مخالفت میں ہمیشہ سے پیش پیش لوگوں کے لئے عرض ہے کہ قیام پاکستان کے وقت متحدہ ہندوستان کی بہاول پور ریاست تھی جو پاکستان سے الحاق کرنے والی پہلی اسلامی ریاست ہے جس نے 05اکتوبر 1947کو ریاست بہاولپور کا الحاق پاکستان کے ساتھ کیا جو رقبہ کے لحاظ سے پنجاب کا سب سے بڑا ضلع اور ڈویژن ہے.

جس نے پاکستان کو ذاتی کرنسی کے اجراء کے لیے بارہ من سونا دیا تھا نواب صادق نے قائداعظم کو اس وقت رہنے کے لیے ذاتی گھر دیا تھا جب وہ زیارت میں بیمار ہوئے تھے اور گورنر ہاؤس میں نہیں رہنا چاہتے تھے ریاست کے نواب نے اس وقت قائد اعظم کو استعمال کے لیے ذاتی رولز رائس پیش کی جب انکے پاس کوئی گاڑی نہیں تھی جو آج بھی کراچی میں انکے مزار کے احاطے میں موجود ہے۔نواب صادق نے تحریک پاکستان کے دوران کراچی میں موجود اپنے الشمس محل اور القمر محل قائد اعظم محمد علی جناب اور فاطمہ جناب کو دے دیے تھے جن میں آج سندھ کا گورنر بیٹھتا ہے بہاولپور کے اس وقت کے امیر نے تکمیل پاکستان کے فوراً بعد قومی خزانہ میں دس کروڑ بھی جمع کروائے تھے.

یہ بھی پڑھیں: مکروہ دشمن کے اوچھے وار

نواب صادق محمد خان پنجم نے قیام پاکستان کے فوراً بعد تمام سرکاری اداروں بشمول مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کو پہلے 2ماہ کی تنخواہ ادا کر دی تھی آبادی کے لحاظ سے بہاولپور پاکستان کا گیارہواں بڑا شہر ہے جس میں موجود نور محل گلزار محل اور دربار محل کیوجہ سے اس کو محلوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے اس شہر میں انتہائی قابل دید سیر گاہیں کثیر تعداد میں موجود ہیں جن میں لال سوہارہ،نیشنل پارک، قلعہ دراوڑ، چڑیا گھر، ڈیرہ نواب صاحب اور وسیع الارض چولستان ہے بہاولپور 500ایکڑ پر موجود صادق پبلک سکول،کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج اور پنجاب یونیورسٹی کی زمین بھی ریاست کا ایک بیش قیمت تحفہ ہے قائد اعظم نے نواب آف بہاولپور کو محسن پاکستان کا لقب سے نوازا ہے نواب آف بہاولپور نے ریاست میں اس وقت کالج بنوایا تھا جب کالج لیول کی پڑھائی لاہور اور دہلی میں دی جاتی تھی اور اس کی سڑکوں پر ان دونوں میں رولز رائس اور مرسڈیز چلتی تھیں۔جب لاہور میں تانگہ بگھی کو شاہی سواری کا درجہ ملا تھا.

پاکستان بننے کے بعد پاکستانی کرنسی کی اس وقت گارنٹی دی تھی جب کوئی ملک گارنٹی ہی نہیں دے رہا تھا اور پہلی تنخواہ چلانے کیلئے خطیر رقم بھی دی تھی یہی وجہ ہے کہ قائد اعظم نے نواب صادق کو محسن پاکستان کا خطاب دیا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان بننے سے بھی پہلے پاکستان میں موجود تھا اور وہ ہے ریاست بہاولپور نواب سر صادق محمد خان نے پاکستان کی حکومت کے ساتھ متعدد معاہدے کیے تھے جن کے نتیجے میں بہاولپور ریاست سے ایک صوبہ بنا تھا۔1951ء کے انسٹرومنٹ آف ایکشن جو کہ ایک ضمنی معاہدہ ہے اس کے تحت ریاست بہاولپور کے تمام مرکزی امور حکومت پاکستان نے لے لیے تھے۔

صوبائی امور جو باقی صوبوں کو حاصل تھے ان کا اختیار بہاولپور کو دے دیا گیا تھا اس طرح 1952سے لیکر 1955تک بہاولپور کی حیثیت ایک صوبے کی تھی جب پاکستان میں الیکشن ہوئے تو پاکستان کے باقی حصوں کی طرح بہاولپور میں بھی یہ انتخابات ون مین ون ووٹ کی بنیاد پر ہوئے اور یہاں کے لوگوں نے بھی اس وقت کے بڑی جماعت مسلم لیگ ہی کو ووٹ دیا تھا یوں مسلم لیگ کی طرف سے سید حسن محمود جن کا تعلق صادق آباد سے تھا وہ بہاولپور کے وزیر اعظم بنے تھے بہاولپور کی علیحدہ منتخب اسمبلی تھی اور وزیر اعلیٰ بہاولپور کو وہی اختیارات تھے جو دوسرے صوبائی وزرائے اعلیٰ کو حاصل ہوتے تھے بہاولپور کا وزیر اعلیٰ منتخب ہو کر آیا تھا جو اسمبلی کے اجلاس میں بیٹھتا تھا وہاں قانون سازی ہوتی تھی اور اسمبلی کا اپنا الگ سیکرٹریٹ تھا حتیٰ کہ یہاں کا اپنا پبلک سروس کمیشن تھا
.

یہ بھی پڑھیں: حال احوال

ستلج ویلی پراجیکٹ جس کی شدید مخالفت کی اور اس وقت کے آل انڈیا چیف کورٹ میں کیس دائر کیا جامعہ عباسیہ کو اسلامیہ یونیورسٹی کا درجہ دینے کی مخالفت ملتان سے ہوئی تھی بھٹو دور میں 1973ء کے آئین کی تشکیل کے وقت بغداد الجدید ہائی کورٹ کی الگ حیثیت بحال کرنے پر بھٹو نے ایک شرط پر رضا مندی ظاہر کر دی کہ ملتان اور ڈی جی خان کی عدالتیں بغداد الجدید ہائی کورٹ کے ساتھ ہوں گے ڈی جی خان والے رضا مند ہو گئے لیکن ملتان والوں نے اس کی شدید مخالفت میں یہاں تک کہہ ڈالا کہ لاہور جانا قبول کر لیں گے لیکن بہاولپور نہیں جائیں گے یوں یہ معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا تھا جبکہ بہاولپور میں ریڈیو سٹیشن اور سوئی گیس کی فراہمی تک کی مخالفت کی گئی اہل بہاولپور نظر میں اس کی ترقی کی راہ میں ملتان ہمیشہ رکاوٹ بنا رہا.

دریائے ستلج فطری جغرافیائی تقسیم ہے لہٰذا بہاولپور کو بھی صوبہ بنایا جائے تو یہ ملک کے لیے مزید مفید اور یہاں کے باسیوں کے لیے باعث اطمینان بھی ہوگا ملتان صوبے پر بھی کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے اس سے وسیب میں خوشحالی اور ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی یعنی ملتان اور بہاولپور دونوں ہی صوبے بننے چاہئیں کسی ایک ڈویژن کے لوگ دوسرے کی مخالفت نہ کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں