34

بھارتی بیانیہ اور ہمارے سیاستدان …شعورمیڈیا نیٹ ورک انٹرنیشنل

ازقلم : راؤعمرجاوید ایڈووکیٹ

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعویدار بھارت نے کبھی پاکستان کو دل سے قبول نہیں کیا ہے جبکہ بھارتی حکومت نے اپنے ہی ملک میں رہنے والے مختلف طبقات کے لوگوں کے لئے زمین تنگ کررکھی ہے اس وقت بھارت شدید اندرونی خلفشار کا شکار ہے تحریک آزادی کشمیر ، خالصتان سکھ آزادی تحریک ، گورکھا لینڈ تحریک اور تامل ناڈو کے لوگوں کی آزادی کی تحریک ہندو اکثریت کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر اپنے عروج پر ہیں وہ لوگ اپنے اپنے لئے الگ ملک کا مطالبہ کررہے ہیں اس سلسلے میں کشمیریوں نے اپنے خون سے اپنی جدوجہد آزادی کو اتنا تیز کردیا ہے کہ پوری دُنیا میں اب یہ آواز بلند ہو رہی ہے کہ انہیں ان کا حق دیا جائے.

انتہاپسند مودی سرکار نے کشمیر وادی میں بہیمانہ ظلم سے مظلوم کشمیری عوام کو اپنے تابع کرنے کے لئے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑ رکھی ہے پاکستان کشمیری بھائیوں کی سفارتی اور اخلاقی مدد میں پیش پیش ہے اور اس متنازعہ علاقے کے مسئلے کو عالمی سطح اجاگر کرنے کے لئے تمام وسائل بروئے کا لارہا ہے جس کا بھارت کو شدید غصہ ہے جواب میں بھارت نے پاکستان میں انتشار پھیلانے کے لئے سازشوں کے جال پھیلا رکھے ہیں افغانستان کے راستے بلوچستان میں دہشت گردوں کے نیٹ ورک کے ذریعے معصوم پاکستانیوں کو گمراہ کرکے انہیں اپنے ہی ملک کے خلاف اکسا رہا ہے جبکہ آبی جارحیت کے ذریعے پاکستان کو بنجر بنانے کے لئے بھی مزموم ہتھکنڈے اختیار کرتا رہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: معذور خواتین کے حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے کوششیں

بھارت پاکستان کو ہڑپ کرنے کے مزموم مقاصد کی تکمیل کی راہ میں حائل واحد رکاوٹ پاک فوج کو کمزور کرنے کی گھناؤنی سازش میں مصروف عمل ہے اس کے لئے اس نے اپنا آسان ہدف پاکستان کے ان سیاستدانوں کو بنا لیا ہے جو اقتدار کے حصول کے لئے ہر حربہ آزمانے کے لئے تیار ہیں بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے کمال ہوشیاری سے اپنی زبان ان نادانوں کے منہ میں ڈال دی ہے جو ان کی بولی بولتے ہوئے پاک فوج کو بدنام کرنے کے درپے ہیں کسی بھی پاکستانی کے منہ سے بھارتی بیانیہ کسی طرح بھی حب الوطنی کے زمرے میں نہیں آتا لیکن جن کے سر پر اقتدار کی ہوس کا جن سوار ہو انہیں یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ منظم و مضبوط فوج ہی مستحکم ریاست کی ضامن ہے.

اگرعالمی منظر نامہ پر نظر دوڑائی جائے تو صاف واضح ہے کہ کمزور فوج رکھنے ممالک اپنی سلامتی برقرار رکھنے میں ناکام رہے ہیں اس کی زندہ مثال شام اور عراق ہیں جو فوج کمزور ہوتے ہی آج تک اندرونی انتشار اور خلفشار میں مبتلا ہو کر خانہ جنگی کا شکار ہیں بھارت بھی امریکہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے شام اور عراق کی طرح پاکستان کی فوج جو دنیا کی بہادر اور بہترین فوج شمار کی جاتی یے کا عوام سے تصادم کراکے اسے کمزور کرنا چاہتا ہے تاکہ اس کے راستے کی واحد رکاوٹ دور ہوجائے بھارت پاکستان کو بھوٹان، نیپال اور برما کی طرح اپنے ماتحت ریاست بنانا چاہتا ہے لیکن پاکستان کے غیور عوام اور پاک فوج بھارت کے ناپاک عزائم کو کبھی پورا نہیں ہونے دیں گے.

یہ بھی پڑھیں: انڈے دوسوروپے کلو

اقتدار کے پجاری اپنا پورا زور لگا لیں ان کا پاک فوج کے خلاف بھارتی بیانیہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا کیونکہ پاکستان کے عوام یہ بات اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ملک ہے تو سب کچھ ہے وہ اپنی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے پاک فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں کو منہ کی کھانی پڑے گی ان کا مزموم بیانیہ کبھی عوام میں پزیرائی حاصل نہیں کرسکتا جس نے بھی ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرنا چاہا اس کا انجام ہمیشہ برا ہی ہوا ہے کیونکہ کلمہ کے نام پر حاصل کی گئی مملکتِ خداداد کی حفاظت کی ذمہ داری پاک فوج پر ہی نہیں بلکہ 22 کروڑ عوام پر بھی ہے جو مادر وطن کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ دینے میں دریغ نہیں کریں گے.

سیاستدان کرسی کرسی کا کھیل اپنے تک محدود رکھیں اس میں پاک فوج اور عوام کو نہ لیکر آئیں کیونکہ عوام اپنا اچھا برا اچھی طرح سمجھتے ہیں وہ ملک دشمن کے کندھوں پر سوار ہوکر کسی کو اقتدار کے سنگھاسن پر نہیں بیٹھنے دیں گے بلکہ انہیں ان کے ناپاک عزائم کی پاداش میں آسمان سے زمین پر دیں ماریں گے جس کے منہ سے بھی بھارتی بیانیہ نکلے گا اسے ذلت ورسوائی کے سوا کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں