99

بابری مسجد کی شہادت … شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: محمد ادریس جامی

چھ دسمبر بابری مسجد کی شہادت کا دن اور ستائیسویں برسی تھی۔ آج سے ستائیس سال پہلے بابری مسجد دن کے اجالے میں سیکولرازم کا دم بھرنے والی ریاست اور قانون کے رکھوالوں کی موجودگی میں اسلام دشمن شرپسند ہندو عناصر کے ہاتھوں بے دردی سے شہید کرادی گئی۔ ہر سال چھ دسمبر آتا ہے تو مسلمانوں کے یہ زخم تازہ ہو جاتے ہیں۔ مسلمان چھ دسمبر کو ہر سال یوم احتجاج مناتے اور نام نہاد سیکولر ریاست کا چہرہ بے نقاب کرتے ہیں۔ اس سال چھ دسمبر آیا تو اپنے ساتھ غموں کی ایسی سوغات لایا کہ لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں.

اب تک یہ سمجھا جا رہاتھا کہ 27 سال پہلے بابری مسجد کو جس انداز میں ایک منظم سازش کے تحت شہید کیا گیا، ایک نہ ایک دن عدالت عظمیٰ اس شر پسندانہ کارستانی کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے مسلمانوں کی عبادت گاہ انہیں واپس کر دے گی اور پھر ایک بار وہاں اللہ کی کبرائی کا اعلان ہوگا مگر 9نومبر 2019 کو بھارت کی عدالت عظمیٰ ماورائے دستوروقانون اور خالص ملک کی اکثریتی آبادی ہندو کی خواہش پر فیصلہ صادر کرکے ملک کی مسلم اقلیت کی امید کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکتے ہوئے بھارت کی تقسیم کی بنیاد ررکھ دی ہے .

یہ کہنا قطعی غلط نہیں ہوگا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے سے مسلمانوں کو اس ملک کے دوسرے درجے کے شہری ہونے پر گویا مہر تصدیق ثبت کر دی جس کا احساس انہیں تقسیم ہند سے بار بارکرایا جاتا رہاہے اور جس میں اکثریت پسند قوتوں نے مختلف عوامل کے ذریعہ اقلیتوں کا عرصہ حیات تنگ کیا ہوا ہے اقلیتوں پر مختلف مظالم، تشدد، ناانصافی اور ان کے مذہبی عقائد میں بے جا مداخلت کے ذریعہ ان کے اندر احساس کمتری و عدم تحفظ کو مستقل طور پر پیوست کرنے کے مذموم مہم چلائی جاتی رہی ہے۔قدم قدم پر بھارتی مسلمانوں سے حب الوطن ہونے کے ثبوت مانگے جارہے ہیں، حق و انصاف کے لئے آواز بلند کرنے یا حکومتی ناقص پالیسیوں اور فیصلوں پر تنقید کرنے پر انہیں غدار وطن یا پاکستان نوازی کا لیبل لگایا جاتا رہا ہے اور یہ سلسلہ مزید بڑھتا جا رہاہے۔

انصاف کا تقاضہ تو یہی تھا کہ بھارتی سپریم کورٹ ثبوتوں اور شواہد کی بنیاد پر اس تنازعہ کو حل کرتی مگر ایسا نہیں ہوا اور خود عدالتی فیصلے کے متضاد مشاہدات چیخ چیخ کر گواہی دے رہے ہیں اور تو اور خود کئی ہندو قانون دان اس فیصلے کی جانب داری پر آواز بلند کرتے نظر آتے ہیں بلکہ کئی انصاف پسند ہندوؤں نے اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست داخل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ کے ججوں نے جس نوعیت کا فیصلہ صادر کیا ہے اس پر غیر مسلم دانشوروں اور سابقہ ججز صاحبان نے کھل کر تبصرہ کیا ہے۔

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس اشو ک کمار گنگولی نے کہا ہے کہ دستور کے طالب علم کی حیثیت سے ان کے لئے اس فیصلے کو منصفانہ اور درست تسلیم کرنا بے حد مشکل ہے، بھارت کے ایک اور معروف قانون دان جسٹس مارکنڈے کاٹجونے اس فیصلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیصلے نے جارحیت کو قانونی تقدیس عطا کرنے کی ایک خطرناک نظیر قائم کی ہے۔ نلسار یونیورسٹی کے وائس چانسلر اورممتاز محقق اور ماہر قانون فیضان مصطفیٰ نے کہا ہے کہ اس فیصلے میں عدالت عالیہ نے قانون پر عقیدے کو ترجیح دی ہے۔ یہ بات بھی درست ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے مسلمانوں کے ہر دعویٰ کو قبول کرتے ہوئے فریق مخالف یعنی ہندوؤں کے حق میں فیصلہ دے دیا۔سپریم کورٹ نے اس بات کو بھی تسلیم کیا ہے کہ کسی مندر کو توڑ کر مسجد نہیں بنائی گئی۔ عدالت نے یہ بات بھی تسلیم کی کہ بابری مسجد میں رات کی تاریکی میں مورتیاں رکھی گئیں وہ بالکل غیر قانونی فعل تھا۔ عدالت نے اس حقیقت کو بھی تسلیم کیا کہ چھ دسمبر 1992ء میں بابری مسجد کا انہدام سراسر غیر قانونی اقدام تھا۔ اس طرح سپریم کورٹ نے مسلم فریق کے حق ملکیت کے دعوے کو جابجا تسلیم کیا۔ فیصلہ غاصب فریق کے حق میں دے کر یہ ثابت کر دیا کہ بھارت سیکولر ریاست نہیں بلکہ ہندو ریاست ہے، اقلیتیں محفوظ نہیں بلکہ غیر محفوظ ہیں اس لیے بھارت کے انصاف پسند ہندو، سکھ، عیسائی اور دیگر طبقے سپریم کے اس فیصلے کو سمجھ سے بالاتر سمجھ رہے ہیں۔

ماہرین قانون کی جانب سے اس فیصلے کا تنقیدی جائزہ لینے کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ سوال پوری شدومد سے اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر ملک کی عدلیہ آئین اور قانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے عقیدہ، آستھا کی بنیاد پر فیصلے صادر کرتی رہی تو ملک میں دستور کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی محض ایک خواب بن کر رہ جائے گی۔

بابری مسجد کے متعلق تاریخ شہادت دیتی ہے کہ یہ شروع سے ہی مسجد تھی، ایودھیامیں کسی مندر کو توڑ کر بابری مسجد نہیں بنائی گئی۔ امر واقعہ یہ ہے کہ مغلیہ سلطنت کے بانی ظہیر الدین بابر کے ایک وزیر میر باقی نے اسے 1528ء میں اسے تعمیر کیا۔ 1528ء سے لے کر 1949ء تک مسلمان وہاں پانچ وقت نماز پڑھتے رہے۔ 22 اور 23دسمبر 1949کی درمیانی شب چند شرپسند ہندو بابری مسجد میں مورتیاں لا کر رکھ دیتے ہیں۔ انصاف کا تقاضا تو یہ تھا کہ انتظامیہ فوری حرکت میں آتی شرپسندوں کے خلاف کاروائی کرتی اور مورتیاں اٹھوادیتی لیکن سازش پروان چڑھانے کی خاطر مسجد کو تالا لگا دیا گیا اور تاثر یہ دیا گیا کہ نقص امن کا خطرہ ہے پھر مقدمہ بازی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

ابتدائی سماعت فیض آباد کی عدالت میں چلی یکم فروری 1986ء کو عدالت بابری مسجد کا تالا کھولنے کا حکم دیتی۔ اور سارے ملک میں یہ پروپیگنڈٖا کیا جا تاہے کہ ہندوؤں کی رام بھومی کو آزاد کرا لیا گیا ہے اس طرح 1949ء سے 1986ء تک مسلمان بابری مسجد کی بازیابی کی جدوجہد میں لگے رہے اور مقامی طور پر مسئلے کے حل کے لئے کوشاں رہے لیکن دوسری طرف ”ہندو توا“طاقتوں کو حصول اقتدار کے لئے رام جنم بھومی کے نام سے ایک ہتھیار مل گیا۔ چنانچہ ایل کے اڈوانی اور دیگر لیڈروں نے رتھ یاترا آراستہ کر کے اس مسئلے کو ہندوؤں کی انا اور ضد کا مسئلہ بنا دیاگیا۔ اس رتھ یاترا نے ملک میں آگ و خون کی ایسی ہولی کھیلی کہ سارا ملک خوف و دہشت کا شکار ہوگیا۔ حالات دن بہ دن بگڑتے چلے گئے اوروہ منحوس دن آیا جب حکومت کی ساری یقین دہانیوں کے باوجود بابری مسجد زمین دوز کر دی گئی۔

یہ بابری مسجد کی بازیابی کا دوسرادور جو 1986ء سے 1992ء تک رہا۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد بھارتی وزیر اعظم نے لال قلعے کی فصیل سے یہ وعدہ کیا کہ وہیں پر تعمیر کی جائے گی جہاں اسے شہید کیا گیا تھا۔ یہ وعدہ تو کیا وفا ہوتا شرپسندوں کو آج تک کوئی سزا نہیں ملی، بلکہ آج وہ بھارت کے سیاہ و سفید کے مالک بن گئے۔ 30ستمبر2010ء کو الٰہ آبادہائیکورٹ کی لکھنؤ کی خصوصی بنچ نے بابری مسجد ملکیت مقدمہ میں ایک عجیب فیصلہ صادر کر دیا۔ یہ فیصلہ بھی سارے ثبوتوں، تاریخی شہادتوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے دیاگیا۔ اس تین رکنی بنچ نے آستھا کو بنیاد بناتے ہوئے بابری مسجد اور اس سے متصل ارازی کی بندربانٹ کرتے ہوئے یہ فرض کر لیاکہ رام کی پیدائش بابری مسجد کے احاطہ میں ہوئی ہے اس لئے بابری مسجد کا درمیانی حصہ ہندوؤں کے حوالے کر دیاگیا۔

ہائیکورٹ کے اس فیصلے سے کوئی فریق بھی متفق نہ ہوسکا۔ آخر کاریہ مقدمہ بھارت کی اعلیٰ ترین عدالت میں پہنچ گیا۔ سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بنچ نے چھ اگست 2019ء سے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کاآغاز کیا اور مسلسل چالیس دن کی سماعت کے بعد 16اکتوبرکو فیصلہ محفوظ کر دیاگیا۔ 9نومبر 2019ء کو اس تاریخی مقدمے کا فیصلہ سنایا گیا۔ بھارتی سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے 1045 صفحات پر مشتمل جو فیصلہ دیا ہے جو خلاف آئین و قانون و خلاف واقعات اور بدنیتی بلکہ یہ آستھا کی بنیاد پر مبنی ہے۔ اگر بھارت کے یہی حالات رہے تو جلد بھارت کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہوگا۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں