48

اپوزیشن رہنماؤں سے وزیراعظم کی اپیل ۔۔۔ شعورمیڈیا نیٹ ورک انٹرنیشنل

ازقلم: انعام الحق راشد

وزیراعظم عمران خاں نے اپوزیشن رہنماؤ سے اپیل کی ہے کہ وہ کرونا کے پھیلاؤ سے بچنے کے لئے جلسے جلوس ملتوی کردیں۔کہنے والے کہتے ہیں کہ اپوزیشن جماعتیں یا پی ڈی ایف شہباز گل اورفردوس عاشق اعوان تھوڑی ہیں کہ عمران خاں جو بات کہیں وہ مان لیں۔چند روز قبل کی ہی بات تو ہے قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے رہنما بلاول بھٹو زرداری متعدد مقامات پر عمران خاں سے ایسی ہی اپیل کرتے رہے کہ آئیں میثاق معیشت کریں۔آئیں کہ ملکی سیاسی حالات کو اس مقام پر نہ لے جائیں کہ مشکلات ملک میں ڈیرے ڈال لے۔لیکن عمران خاں کے مشیرانہیں اپوزیشن مخالف ایسے مشورے دیتے تھے یاعمران خاں ضد میں اپوزیشن سے باتچیت سے انکاری رہے۔اگر تھوڑا سامشاورت کا کچھ ماحول بنابھی تو وزراء ومشیران نے مختلف پریس کانفرنسز میں کاغذ لہرا لہرا کر یہ اعلان کیا کہ اپوزیشن این آر او مانگ رہی ہے،این آراو نہیں دیں گے۔

شاید عمران خاں کو یہ معلوم نہیں کہ عوام کا ایک طبقہ اب بھی سوچنے لگا ہے کہ حکومتی وزراء ومشیران کا ایک گروپ روزانہ کی بنیادپرمیڈیا پر جو گفتگو کرتا ہے جس کا لب لباب یہ ہوتا ہے کہ میاں نواز شریف اور اس کے ساتھی چور ہیں، ملک کا پیشہ لوٹ کرکھاگئے اور اب ان کی ملکی سیاست میں کوئی جگہ نہیں ہے۔عوام یہ باتیں اس وقت سے سن رہے ہیں جب پی ٹی آئی حکومت میں نہیں تھی۔اب پی ٹی آئی حکومت میں بھی ہے،لوگ سمجھتے ہیں ان کے پاس اختیارات بھی ہیں،تو کیوں اب تک لگائے گئے الزامات کے مطابق اربوں روپے کی ریکوری نہیں ہو سکی ہے۔اگر مجبوراوربے بس ہیں اوریہ ریکوری نہیں کرسکتے تو آئے روز ایسی پریس کانفرنسز کرنے کی بجائے ملک کی تعمیروترقی کے منصوبوں اور عوام کو بنیادی اشیائے ضروریہ کی فراہمی،مہنگائی اور بے روزگاری میں کمی کے طریقوں پر مشاورت، فیصلے اورعملی اقدامات کریں۔

یہ بھی پڑھیں: انسداد جنسی زیادتی قانون کا نفاذ

عوام سوچنے لگے ہیں کہ متعدد وزراء و مشیران جو قومی خزانہ سے لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ،گاڑیاں،پٹرول اور دیگر مراعات لیتے ہیں وہ عوام کو صرف یہ بتاتے ہیں کہ پچھلی حکومتیں کرپٹ تھیں۔پھر یہ ہی نہیں ان کا انداز گفتگو،الفاظ کا چناؤ،لب ولہجہ سیاسی مخالفین پر طنز کے نشتر تو برساتا ہے،متعدد مقامات پر اخلاقیات کا جنازہ بھی نکال دیتا ہے۔پھر یہی لب و لہجہ،انداز گفتگو اور الفاظ کے چناؤ میں بے پرواہی عوامی حلقوں میں بھی منتقل ہو چکی ہے۔اپوزیشن کے خلاف ایسی پریس کانفرنسز کا حکومت کو تو سیاسی فائدہ ہو سکتاہے لیکن عوام کے مسائل کے حل اور قومی ترقی کا اس سے دور دور کا بھی واسطہ نہ ہے۔اور پھرعوام حکومت کی طرف سے اپوزیشن پر لگائے گئے الزامات پر عوام من و عن یقین بھی کرلیتے اگر انہیں روٹی لے لالے نہ پڑے ہوتے۔پاکستان کے عوام اور دیگر طبقوں اور حلقوں نے عمران خاں کی شخصیت پر جو اعتماد کیاتھا وہ یہ تھا کہ وہ سمجھتے تھے کہ ملک مسائل کی دلدل سے نکل آئے گا۔

ملک پر براجمان چند خاندانوں کی حکمرانی ختم ہو جائے گی۔اربوں روپے روزانہ ہونے والی مبینہ کرپشن کا خاتمہ ہو کریہ اربوں روپے قومی خزانہ میں آنا شروع ہوجائیں گے۔پاکستان تو کیا دنیائے اسلام کو ایک عظیم لیڈر میسرآجائے گا۔لیکن شاید ایسا ہو نہ سکاہے۔پھر عوا م نے دیکھا کہ ووٹ تو عمران خاں کو دیے تھے لیکن حکومت کی طرف سے جو چہرے عوام کے سامنے روزانہ کی بنیاددیکھے جارہے ہیں، پریس کانفرنسزکرتے ہیں،صرف شخصیات پر ہی گفتگو کرتے ہیں۔ایک انگریزی محاورہ کا مطلب کچھ اس طرح ہے کہ،، گندے کپڑے چوک میں بیٹھ کر دھوتے ہیں،،پھر ان وزراء اور مشیران کا لہجہ بہت تلخ ہوتا ہے جو کئی مقامات پر سیاسی کی بجائے ذاتی لڑائی کاسا لگنے لگتاہے۔

یہی لہجہ اب عوامی سطح پردونوں سیاسی گروپوں کے کارکنوں میں بھی نظرآنے لگاہے۔الیکٹرونک میڈیا کاکوئی نمائندہ اگر کسی عوامی حلقہ میں جا کر عوامی رائے لیتا ہے تو ایک گروپ کہتا ہے کہ سابق حکمران چور اورڈکیت تھے،جوملک کو لوٹ کرکھاگئے تو دوسرا گروہ کہتا ہے کہ ملک پر نکمے اور نااہل مسلط ہیں جتنا نقصان ان کی نا اہلی سے ہوگیاہے اتنا تو چوروں اور لٹیروں کی حکومت میں بھی نہیں ہواتھا۔ان دونوں بظاہرعوامی گروپوں کی جو رائے بن رہی ہے اس سے کتنا تعمیری معاشرہ تکمیل پا سکتاہے اندازہ لگانا کیا مشکل ہے۔

مجموعی طورپرملکی حالات آج اس مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ پہلے عمران خاں اپوزیشن رہنماؤں سے باتچیت کرنے کو تیار نہ تھے تو اب اپوزیشن عمران خاں کی بات ماننے سے انکاری ہے۔ماضی قریب ہی کی تو بات ہے کہ شیخ رشیدنے متعدد بارکہا ہے کہ شریف خاندان کی سیاست ختم ہوچکی،ن لیگ میں سے ش لیگ نکلنے والی ہے۔اب یہ خاندان ساری عمر ملک سے باہریا جیلوں میں گذارے گا۔اس سے قبل شیخ رشید کی تقریرجب وہ حکومت میں نہ تھے ایسی ہی تھی کہ جس میں کارکنوں کو پیغام دیاگیا تھا کہ ماروں، مرجاؤ،جلا دو۔جب ایسی جارحانہ اور برابری کی تعظیم و تکریم سے عاری گفتگو ہوگی تو کون سی اپوزیشن ہے جو ایسی حکمران پارٹی سے باتچیت کرنے پر آمادہ ہوگی۔

پی ڈی ایم کے ملتان کے جلسہ پراکثر تجزیہ کاروں کی رائے یہ تھی کہ حکومت کو رکاوٹین نہیں ڈالنی چاہئے۔لیکن دیکھنے میں آیا کہ حکومت نے جلسہ نہ ہونے یاناکام بنانے کے لئے ہرطرح اختیارات استعمال کئے۔راستوں پر رکاوٹیں،ہرشہروں میں کارکنوں کی گرفتاریاں، مقدمات کااندراج،سٹیج اکھاڑنا،کرسیاں اٹھانا،جلسہ کرنے کی جگہ کے گیٹ پرتالے اور دیگر اقداما ت کئے،لیکن جلسہ نہ رک سکا۔جس کا تمام ترفائدہ بھی اپوزیشن کو ہوا۔اب بھی اعلیٰ دماغوں کے کہنے پر ہی وزیراعظم عمران خا ں نے یہ بیان دیاہوگا کہ اپوزیشن کو لاہورجلسہ کرنے سے نہیں روکیں گے لیکن ساؤنڈ سسٹم،ٹرانسپورٹ،سٹیج اورکرسیاں لگانے والوں اوردیگر سہولیات فراہم کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج کیاجائے گااوران کی گرفتاریاں بھی ہوں گی۔تاثر یہ ہے کہ ایسی گفتگو کوئی ایس ایچ اوتو کرسکتا ہے،وزیراعظم کا عہدہ کے معیارکے مطابق نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: انسانی حقوق کا عالمی منشور

یہا ں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کچھ عرصہ قبل وفاقی وزیر شیخ رشید،جنہیں ایک ادارہ کا خود ساختہ ترجمان بھی سمجھاجاتا ہے نے ایک بیان دیا تھا کہ دسمبرسے قبل اپوزیشن کے رہنما جیلوں میں ہوں گے۔پھر اپوزیشن رہنماؤں کو ایساہوتا نظربھی آنے لگا توان کے پاس دو ہی راستے بچتے تھے، ایک تو وہ شیخ رشید کی پیش گوئی یا منصوبہ بندی پر خاموشی سے عمل درآمد ہوتا دیکھتے رہیں یا جیل جانے سے بچنے کے لئے ہاتھ پاؤں ماریں۔اورسیاست میں ہاتھ پاؤں مارنے کا مطلب ہی جلسے جلوس لیاجاتاہے۔یہ جلسے جلوس بظاہرملک کو حکومتی نااہلی سے بچانے،ملک کو مسائل کی دلدل میں گرنے سے بچانے،عوام کو بنیادی اشائے ضروریہ کی قوت خرید پر فراہمی،مہنگائی و بے روزگاری کے خاتمہ،حکومتی عہدیداران کی اخلاقی اقدار سے ماوراگفتگو کے خلاف ہے مگر حقیقت میں یہ اپوزیشن کا مکو ٹھپنے کی کوششوں کے خلاف ہے۔

اپوزیشن کو اندازہ تھا کہ اگر جلسے جلوسوں کا راستہ اختیار نہ کیا تو شیخ رشید کی اپوزیشن رہنماؤں کا سیاسی کردار ختم اورانہیں جیل بھیجنے کی پیش گوئی پوری ہوجائے گی۔اور یہ بھی ماننا پڑے گا کہ جلسے جلوس نہ ہوتے تو عمران خاں پر یہ وقت نہ آتا کہ وہ اپوزیشن سے جلسے جلوس نہ کرنے اپیل کرتے۔اور آج اپوزیشن عمران خاں یا صلح کروانے والوں کی بات بھی اس لئے نہیں مان رہی کہ عمران خاں نے بھی اس سے قبل اپوزیشن کی کوئی بات نہیں مانی تھی۔ان حالات میں بھی جبکہ متعدد حکومتی وزراء ومشیران جان چکے ہیں کہ سیاسی آنگن بہت ٹیڑھا ہوچکا ہے وہ اسی لہجہ اور اسی سراورتان کے ساتھ ویسے ہی گا اور ناچ رہے ہیں۔جانتے وہ بھی ہیں کسی کو برا،بھلا کہہ کر بات منواناکوئی ایس ایچ اوتو کرسکتا ہے،کوئی سیاسی رہنما نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں