50

انسداد جنسی زیادتی قانون کا نفاذ … شعورمیڈیا نیٹ ورک انٹرنیشنل

ازقلم: انعام الحق راشد

وزارت قانون نے انسداد جنسی زیادتی قانون کے خدوخال جاری کر دیئے ہیں جس کے مطابق زیادتی کے ملزمان کو کیمیائی طریقہ سے نامزد کرنا ملزمان کی رضا مندی سے مشروط کر دیا گیا ہے۔ایسے ملزمان کا ٹرائل خصوصی عدالتوں میں ہوگا۔ زیادتی کا شکار ہونے والوں کاطبی معائنہ کا طریقہ کار بھی تبدیل کردیا گیا ہے۔زیادتی کی تشریح میں 18سال سے کم عمر مرد اور ہر عمر کی خواتین شامل ہوں گی۔جنسی تشدد اور ریپ کے خلاف کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی نے دو نئے آرڈیننسز کی منظور ی دے دی ہے۔ترجمان وزارت قانون کے مطابق نئے آرڈیننسز کے ذریعے خصوصی عدالتیں قائم کرکے جنسی تشدد کے واقعات کو روکا جائے گا۔

جنسی تشدد اور زنا کو روکنے کے لئے قانون سازی کرنا حکومت کا احسن اقدام ہے۔لیکن دیکھنا یہ بھی ہوگا کہ صرف قانون بنا دینا کافی ہے کہ جنسی تشدد و زنا سے بچنے کے لئے قرآنی حوالے اورعریانی کا پھیلاؤ بھی روکنے کے اقدامات کرنا ضروری ہیں۔جنسی تشدد و زنا روکنے کے لئے قانون کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ کسی بھی جنسی تشدد و زنا کے ملزمان کو ایسا ماحول ہی دستیاب نہ ہوکہ وہ اس طرف مائل یا اپنے گندے ارادوں میں کامیاب ہو سکے۔ان تمام سے بچنے کے لئے یہ بات انتہائی ضروری ہے کہ ہماری بچیوں کو قرآنی تعلیمات، پردہ اور بالخصوص سورۃ النساء کا ترجمہ پڑھا نا بلکہ زبانی یاد کرانا تعلیمی تربیت کا حصہ بنایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: غلطی تسلیم کرنا بھی غلطی ہے

نوجوان بچے اور بچیوں کو سورۃ یوسف کا ترجمہ پڑھا کران کی تربیت اور کردار کو پختہ کیا جائے۔طلباء و طالبات و نوجوان نسل کی تربیت اس طرح کی جائے کہ وہ قانون اور سزا سے ڈرنے سے زیادہ اللہ کے خوف سے جنسی تشدد اور زنا کرنے یا شکار ہونے سے باز رہیں۔حیرانگی نہیں اس معاشرہ پرجہاں آگ اور ماچس ساتھ رکھے ہوں مگر آگ بجھانے کے آلات پر باتچیت ہوتی ہو۔ کیا ہمارے میڈیا میں چلنے والے اکثر اشتہارات پروڈکٹ کی مشہوری کے علاوہ فحاشی و عریانی پھیلانے کی ٹیوشن نہیں ہیں۔

کیا ہمارے ڈرامے نصیحت و تربیت کی بجائے عشق و معشوقی،نوجوان نسل کو قوت فیصلہ اوراعتمادکے نام پر رشتوں کے تقدس کو پامال کرنے، مختصر یا چست لباس کی شکل میں عریانی،ڈرامہ میں بیوی کا کرداراداکرنے کے نام پر حقیقی بیوی سے آگے بڑھ جانے کی اداکاری،سائن بورڈز پر نیم عریاں تصاویر،مخلوط نظام تعلیم،تعلیم میں بھی مقصد صرف ڈگری کا حصول،تربیت ناپید،جیسے اقدامات جو جنسی تشدد اور زنا کے مواقع، اسبا ب ووجوہات کسی نہ کسی حد تک بن رہے ہیں گورنمنٹ ایسے مسائل پر توجہ دینے کی بجائے،ان کی وجہ سے پیداہونے والے مسائل کے حل کی بات کررہی ہے۔کیا کوئی تربیت شادی شدہ افراد کو کسی کے گھرمیں جھانکنے سے روک رہی ہے۔کیاکوئی ادارہ یا تربیت نوجوان نسل کو جنسی تشدد اور زنا سے بچنے اوراس حوالہ سے دینی احکامات سے آگاہی فراہم کررہاہے۔

کیاخدانخواستہ یہ سمجھا جائے کہ دین اسلام میں زانی اور جنسی استحصال کرنے والے کے لئے کوئی قانون نہیں کہ نئے نئے قانون بنانے کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔صرف ایک زانی کو شریعت کے مطابق سزا دے دی جائے تو پاکستان کے آدھے مردوں کو نئے قانون کے مطابق نامرد بنانے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی۔اسی طرح بے پردگی کے حوالہ سے بچیوں اور خواتین کی تربیت کی جائے توان کی طرف اٹھنے والی گندی نظریں اٹھنے کا سوال ہی ختم ہو جائے گا جو ایسی سوچ کو ہی جنم نہیں ہونے دے گا۔دینی تعلیم کے ذریعے بتایاجائے کہ زنا قرض ہے جو زنا کرنے والے کی ماں،بہن،بیوی یا بیٹی کو ادا کرنا پڑتا ہے۔تو کون غیرت مند ہے جو ایسا گناہ کرنے کی جرات بھی کرسکے۔اور بے غیرتوں کو تو زندہ رہنے کا حق قانونی طریقہ سے ہی نہیں دینا چاہئے۔کیا اس بات سے انکار کیا جاسکتا ہے کہ ایک منظم طریقہ سے معاشرہ میں فحاشی،عریانی،بے پردگی،مخلوطی تعلق،رشتوں کا تقدس کا قتل کیاجارہاہے۔

یہ بھی پڑھیں: انسانی حقوق کا عالمی منشور

میراجسم میری مرضی پروپیگنڈہ ایسے ہی عناصر کی چال تھی۔کیا یہ قابل تشویش بات نہیں کہ جس ماں کی تربیت اسلامی طریقہ کے مطابق نہ ہوگی،اس کی اولاد کی تربیت کیا ہو گی اندازہ لگانا کیامشکل ہے۔وزیراعظم عمران خاں پاکستان کو ریاست مدینہ ثانی بنانا چاہتے ہیں یا اس حوالہ سے ہی تقریریں کرتے ہیں۔مگر انہیں یہ کون بتائے گاکہ ریاست مدینہ ثانی تقریروں سے نہیں اقدامات سے بنائی جا سکتی ہے۔کیاوزیراعظم عمران خاں اعلان کرسکتے ہیں کہ ہرتعلیمی ادارہ میں ہر جماعت میں قرآن پاک کے دو سپارے بھی پڑھانالازمی ہوگا۔تمام طالب علموں کو بچپن سے ہی اسلامی بنیادی ارکان سے آگاہی فراہم کی جائے۔لیکن حالات یہ ہیں کہ کیا ہم آج اپنی بچیوں کو ایسے کپڑے پہننے سے روک سکتے ہیں جو مختصر ہوں یا جسم کے ابھارنہ چھپا تے ہوں۔

آج ہمارے اکثر تعلیمی اداروں میں تعلیم کی زبان انگریزی ہے جو دھڑا دھڑ کاٹھے انگریز پیدا کررہی ہے اور انگریزوں سے دینی معاملات کی توقع رکھنا خود کو دھوکہ دینے کے سوا کیا ہے۔اسلامی جمہوریہ پاکستان میں میڈ ان پاکستان انگریزوں کی ایک بڑی تعدادموجود ہے جبکہ عدالت عظمیٰ کے فیصلہ کے باوجود تاحال اردو کی ترویج یا نفاذ ممکن کیوں نہ ہوسکاہے اوررابطے کی زبان آج بھی انگریزی ہی ہے۔تحریک انصاف کے کارکن اس بات تو بڑا فخر کرتے ہیں کہ وزیراعظم پاکستان بھی فرفرانگریزی بولتے ہیں لیکن کوئی اس بات پر افسردہ نہیں کہ وہ طیب اردگان کی طرح قرآن پاک کی تلاوت نہیں کرسکتے یا نہیں کرتے۔

یہ بھی پڑھیں: اصل جنگ کس سے ہے؟ 

وزارت قانون نے انسداد جنسی زیادتی کے حوالہ سے قانون سازی کا جو عمل کیا ہے بہترہے مگر وزارت قانون وزارت تعلیم کے ساتھ مل کرپہلے تو وزارت تعلیم و تربیت ترتیب دیں اوربھر نئی نسل کی تربیت ہی ایسی کی جائے کہ جنسی استحصال، زنا تو کیا دیگر گناہوں سے بچنے میں خوف خدا کا عنصرشامل ہوجائے وہ زیادہ بہتر ہوسکتاہے۔حقیقت یہ ہے کہ ریاست مدینہ میں مخلوط نظام تعلیم اور اساتذہ کی قابلیت انگریزی زبان پر عبورہی ضروری نہیں ہوسکتا۔اگر انگریزی تعلیم بہت ہی ضروری ہے تو سورۃ النساء کاانگریزی اور اردو ترجمہ ضرورپڑھایاجائے۔

یہ نہیں ہوسکتاکہ اپنے بچوں کو انگریزی سکھانے،انگریز بنانے کی تعلیم دی جائے اور ان سے توقع رکھی جائے کہ زندگی مسلمانوں کی طرح گذاریں۔ہم آج بھی نام کے مسلمان ہیں،ہمیں کام کے مسلمان بنناہوگا۔اسلامی تعلیم و تربیت ہی جنسی ریادتی اور زنا کے واقعات میں کمی کا جواز بن سکتی ہے۔باقی قانون تو پہلے بھی تھا،ثبوت نہیں ملتے تھے۔اس وجہ سے ایسے ہی واقعات تشویشناک حدتک بڑھ رہے ہیں۔اگر ایسے عناصرکو دین اسلام کے بتائے گئے طریقہ سے سزا دی جا ئے تو ایسے واقعات پر کنٹرول کیاجاسکتاہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں