24

انسانیت کی خدمت، اسلام کی بنیادی تعلیم … شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: اللہ ڈتہ انجم
دھنوٹ (لودھراں)

اسلامی نقطہ نظر سے تعلیم محض حصول معلومات کا نام نہیں بلکہ عملی تربیت بھی اس کا جزو لاینفک ہے۔اسلام ایسا نظام تعلیم وتربیت قائم کرنا چاہتا ہے جو نہ صرف طالب علم کو دین اور دنیا کے بارے میں صحیح علم دے بلکہ اس صحیح علم کے مطابق اس کے شخصیت کی تعمیر بھی کرے۔یہ بات اس وقت بھی نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے جب ہم اسلامی نظام تعلیم کے اہداف ومقاصد پر غور کرتے ہیں۔اسلامی نظام تعلیم کا بنیادی ہدف ہی یہ ہے کہ وہ ایک ایسا مسلمان تیار کرنا چاہتا ہے جو اپنے مقصد حیات سے آگاہ ہو۔زندگی اللہ کے احکام کے مطابق گزارے اور آخرت میں حصول رضائے الہی اس کا پہلا اور آخری مقصد ہو۔اس کے ساتھ ساتھ وہ دنیا میں ایک فعال،متحرک اور با عزم زندگی گزارے۔ایسی شخصیت کی تعمیر اسی وقت ممکن ہے جب تعلیم کے مفہوم میں حصول علم ہی نہیں بلکہ کردار سازی پر مبنی تربیت اور تخلیقی تحقیق بھی شامل ہو۔

الغرض اسلام کی بنیادی تعلیم ہی اللہ تعالیٰ کی بندگی اور انسانیت کی خدمت ہے۔قرآن حکیم کی رو سے اللہ رب العزت نے نوعِ انسانی کو دیگر تمام مخلوق پر فضیلت و تکریم عطا کی ہے۔ قرآن حکیم میں شرف انسانیت کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ تخلیق آدم کے وقت ہی اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حضرت آدمؑ کو سجدہ کرنے کا حکم دیا اور اس طرح نسل حضرت آدم ؑ کو تمام مخلوق پر فضیلت عطا کی گئی۔یوں تو انسا نوں سے پیار و محبت اور ضرورت مند انسا نوں کی مددکے عمل کو ہر دین اور مذہب میں تحسین کی نظر سے دیکھا جا تا ہے۔ لیکن دین اسلام نے خد مت ِ انسا نیت کو بہترین اخلا ق اور عظیم عبا دت قرار دیا ہے۔ اسلام امن و محبت، تحمل و برداشت کی تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے عقائدو نظریات کا احترام سکھاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو یکساں صلاحیتوں اور اوصاف سے نہیں نوازا بلکہ اُن کے درمیان فرق وتفا وت رکھا ہے اور یہی فرق و تفاوت اس کا ئنات رنگ وبو کا حسن و جما ل ہے۔ اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہر ایک کو خوبصورت،مال داراور صحت یاب پیدا کر دیتا۔اُس علیم و حکیم رب نے اس دنیا میں جس کو بہت کچھ دیا ہے اُسکا بھی امتحان ہے اور جسے محروم رکھا ہے اس کا بھی امتحان ہے۔وہ رب اس بات کو پسند کرتا ہے کہ معا شرے کے ضرورت مند اور مستحق افراد کی مدداُن کے وہ بھا ئی بند کریں جن کو اللہ نے اپنے فضل سے نوازا ہے۔تاکہ انسانوں کے درمیان باہمی الفت ومحبت کے رشتے بھی استوار ہوں اور دینے والوں کو اللہ کی رضا اور گناہوں کی بخشش بھی حاصل ہو۔اسلام میں انسانی جان کی قدر و قیمت اور حرمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دین اسلام میں ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔

اسلام بلاتفریق رنگ و نسل بے گناہ انسانوں کے قتل کی سختی سے ممانعت کرتا ہے۔ قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ”جس نے کسی شخص کو بے وجہ(ناحق) قتل کیا تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا“۔ قرآن حکیم نے کسی بھی انسان کو بلاوجہ قتل کرنے کی نہ صرف سخت ممانعت فرمائی ہے بلکہ اسے پوری انسانیت کا قتل ٹھہرایا ہے۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نزدیک مسلمان کے جسم و جان،عزت و آبرو کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ بے گناہوں کی جان لینے والوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

معصوم انسانوں کی جان لینے والوں میں خوف ِخدا ہوتا تو ان کی وحشت اور بربریت سے لوگ محفوظ رہتے۔ اسلام جیسے پرامن و عافیت والے دین میں بے گناہوں کی جان لینے اور فساد برپا کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔بلاشبہ دینِ اسلام احترام انسانیت اور امن کا مذہب ہے۔دینِ اسلام نے ہمیشہ انسانیت کی خد مت کا درس دیا ہے اور انسانیت کی خد مت کے بہت سے طریقے ہیں یعنی بیواؤں اور یتیموں کی مدد،مسافروں، محتاجوں،فقرا ئاور مساکین سے ہمدردی، بیماروں،معذوروں،قیدیوں اور مصیبت زدگان سے تعاون یہ سب خدمت خلق کے کام ہیں۔ وسیع تر تنا ظرمیں ا ن سب سے بڑھ کر انسانوں سے ہمدردی یہ ہے کہ ان کو دعوت و تبلیغ اور تعلیم و تربیت کے ذریعے دوزخ کی آگ سے بچایا جائے اور ربِ کریم کی رضا اورصراط مستقیم کی طرف ان کو دعوت دی جا ئے۔

لوگوں میں سے اللہ کے ہاں سب سے پسندیدہ وہ ہیں جو انسانوں لئے زیادہ نفع بخش ہوں۔اعمال میں سے اللہ کے ہاں سب سے پسندیدہ وہ ہیں جن سے مسلمانوں کو خوشیاں ملیں، ان سے تکلیف دور ہو،ان سے قرض کی ادائیگی ہو یا ان سے بھوکوں کی بھوک دور ہو۔ خدمت انسانیت میں مسلم اور غیر مسلم میں فرق نہیں۔ ہاں مسلمان سے ہمدردی زیادہ ثواب کا باعث ہے۔ لیکن اگر کوئی غیر مسلم بھی ہمدردی اور مدد کا مستحق ہو تو اس کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ وہ بھی اللہ کابندہ ہے۔صحابہ کرام ؓ نیکیوں کے اس قدر حریص تھے کہ ہمیشہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی فکر میں رہتے تھے۔

حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں مد ینے کے مضافا ت میں ایک جھونپڑی کے قریب پہنچا تو اس میں تنہا ایک بڑ ھیا بستر پر پڑی نظرآئی اور جھونپڑی صاف ستھری اور ہر چیز قر ینے سے رکھی ہو ئی تھی۔ میں نے بڑ ھیا سے پو چھا: اماں آپ کے یہ کا م کو ن کرتا ہے؟ عر ض کیا ایک شخص فجر سے بھی پہلے آتا ہے اور یہ سارے کا م کر کے چلا جا تا ہے۔ حضرت عمر ؓ کو تجسس ہواکہ وہ کو ن شخص ہے۔ دوسرے دن صبح آئے تو وہ کا م کر کے چلا گیا تھا۔ پھر آئے تو وہ گھر کی صفائی کر رہے تھے۔ دیکھا توحضرت ابو بکرصدیق ؓ تھے۔یہ تھے قوم کے حقیقی رہنمااور خادم۔

سیدناابو بکر ؓ کئی گھرا نوں کی مستقل کفالت بھی کرتے تھے اور محلے میں کئی گھروں کی بکریوں کا دودھ بھی دھوتے تھے۔مومنین کی ایک اہم صفت یہ ہے کہ وہ اللہ تعا لیٰ کی محبت کی وجہ سے مسکین، یتیم اور قیدی کو کھا نا کھلا تے ہیں۔یتیم کی کفا لت کر نے والے کو نبی کی جنت کی رفاقت نصیب ہو گی۔یتیموں کو دھتکارنااور مسکین کو کھا نا نہ کھلانا مشرکین کا عمل ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں جا بجا اس کا ذکر آیا ہے۔ضرورت مند اور مستحق کی مدد کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اسے مستقل روزگار فراہم کرنے میں مدد دی جائے۔ بھیگ مانگنے اور سوال کرنے کی اسلام میں سخت ممانعت ہے اور اس عمل کو نبی کریم ﷺنے نا پسند فرمایا ہے۔ بد قسمتی سے آج مسلمان معا شروں میں لوگوں نے بڑے پیمانے پر اس کو پیشے کے طور پر اختیار کر لیا ہے جس کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی ہونی چا ہئے اور حقیقی مستحقین کو ان کا حق بغیرطلب کئے ملنا چاہئے۔یہ کام اصل میں تو مسلمان حکومتوں کے کرنے کا ہے۔ لیکن ہمارے حکمرانوں کو اس طرف دھیان دینے کی فرصت ہی کہاں ہے۔

آقائے دوجہاں حضرت محمدﷺ کا فرمان ِ عالیشان ہے کہ ”تم زمین والوں پر رحم کرو آ سمان والا تم پررحم فرمائے گا۔“ فتحِ مکہ سے قبل مکہ میں قحط پڑا اور جانی دشمن بھوکے مرنے لگے تو حضور پُرنور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینے سے مشرکینِ مکہ کے لیے غلہ بجھوایا۔خدمت گزار یہودی لڑکا ہو یا کوڑا پھینکنے والی عورت حضورِ اقدس صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود سب کی عیادت فرمائی ہے۔ الغرض اِسلام خدمتِ خلق میں بہترین اُسوہ اور تعلیمات رکھتا ہے۔ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِرشاد فرمایاکہ ”اللہ تعالیٰ اس وقت تک اپنے بندے کی حاجت روائی کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے (مسلمان) بھائی کی حاجت روائی میں (مصروف) رہتا ہے“۔(طبرانی، المعجم الکبیر، 5: 118، رقم: 4802)

اِسی طرح حضرت عبد اللہ بن عمرؓسے روایت ہے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاکہ اللہ تعالیٰ کی ایک ایسی مخلوق بھی ہے جسے اس نے لوگوں کی حاجت روائی کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ بندگانِ خدا اپنی حاجات (کی تکمیل کے لیے)حا لت ِ پریشانی میں اِن کے پاس آتے ہیں۔ یہ (وہ لوگ ہیں جو) اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ رہیں گے۔ الغرض اِسلام خدمتِ خلق میں بہترین اُسوہ اور تعلیمات رکھتا ہے۔مندرجہ بالا دلائل و براہین سے ثابت ہوا کہ اِسلام دینِ فطرت ہے۔ اس کا مزاج تکریم اِنسانیت، نفع بخشی اور فیض رسانی سے بھرپورہے۔

خدمتِ اِنسانیت اَہلِ اِیمان کا مقدس فریضہ ہے اور ایک مومن کو اس کے بدلے میں کسی قسم کے اجر کا طلب گار بھی نہیں ہونا چاہیے بلکہ اِنسانیت کی خدمت کا مقصد صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا ہونی چاہیے۔ ہمیں اپنے آپ سے عہد کرنا ہوگا کہ ہمیں دُکھی، غریب اور نادار اِنسانیت کی خدمت کے لیے اپنے سکون و آرام کو بھی قربان کرنا پڑا تو قربان کر دیں گے۔ اُردو کے نامور صوفی شاعر میر درد اِحترامِ اِنسانیت کا اِظہار کچھ یوں کرتے ہیں۔

دردِ دل کے واسطے پیدا کیا اِنسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں