39

اصل جنگ کس سے ہے؟ … شعورمیڈیا نیٹ ورک انٹرنیشنل

ازقلم : راؤعمرجاوید ایڈووکیٹ

“موجودہ حکومت عوام کے مسائل کے حل کرنے کی بجائے ان کی مشکلات میں بے پناہ اضافے کا باعث بن چکی ہے مہنگائی اور انتظامی اداروں میں کرپشن اپنی آخری حدوں کو چھو رہی ہے جس سے عوام کا جینا دوبھر ہوچکا ہے دو وقت کی روٹی کا حصول محنت کش اور دیہاڑی دار طبقہ کے لئے مشکل ہوگیا ہے حکومت عوامی امنگوں پر پورا نہیں اتر سکی ہے عمران خان ہر محاذ پر ناکام ہوچکے ہیں ہر شعبے میں بد انتظامی کی انتہا ہوچکی ہے مافیاز بے لگام ہیں ناجائز منافع خوروں اور زخیرہ اندوزوں کے لئے یہ ملک جنت بن کر رہ گیا ہے عوام کو سہولت کی فراہمی کے لئے قائم اداروں میں رشوت ستانی معمولی بات سمجھی جاتی ہے.

احتساب کی آڑ میں سیاسی انتقام لیا جارہا ہے جن لوگوں نے لوٹ مار کی ہے ان سے قوم کا پیسہ کیوں واپس نہیں لیا جارہا وغیرہ وغیرہ “یہ وہ باتیں ہیں جو زبان زد عام ہیں حقیقت بھی یہی ہے کہ عمران خان نے جو نعرے لگائے تھے ان میں سے کسی ایک پر بھی عمل ہوتا دکھائی نہیں دیا ہے تو دوسری جانب ملکی معیشت میں بہتری آ چکی ہے ڈالر نیچے آگیا ہے ملکی قرضے کم ہورہے ہیں بیرون دنیا میں پاکستان کا امیج تاریخ میں پہلی مرتبہ بلندیوں کو چھو رہا ہے اس بات سے عام آدمی کو غرض نہیں ہے اسے سبزی، آٹا روٹی اور پٹرول مہنگا مل رہا ہے اس کا اصل مسئلہ اس کے موجودہ حالات ہیں جن میں اس کا گزارہ مشکل ہوگیا ہے آٹا، چینی اور سبزی کا ڈالر سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ یہ سب ملکی پیداوار ہیں ان میں سے کوئی چیز درآمد نہیں کی جاتی اس کے باوجود ان اشیاء کا ناپید ہونا حکومتی نا اہلی ہی تصور کی جائے گی.

یہ بھی پڑھیں: غلطی تسلیم کرنا بھی غلطی ہے

چینی اور آٹا کیوں مہنگا ہوا؟ یہ معمہ کوئی ایسا نہیں ہے جس کا حل ناممکن ہو یہ سراسر بد انتظامی کا شاخسانہ ہے جو مافیاز اور بیوروکریسی کا گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے اسی طرح سرکاری دفاتر میں رشوت ستانی اور عوام کے ساتھ بد سلوکی بھی بے لگام اور مکار بیوروکریسی کا “کارنامہ ” ہے یہ لوگ عمران خان کو اس لئے بھی ناکام کرنے پر تلے ہوئے ہیں کہ اگر ” کپتان ” کامیاب ہوگیا تو انہوں نے لوٹ مار کرکے اور عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال کر جو ناجائز اثاثے بنائے ہوئے ہیں ان کا حساب دینا پڑے گا عوام کو سڑکوں پر لاکر انہیں گمراہ وہ لوگ کررہے ہیں جن کی لوٹ مار سے ملک دیوالیہ ہونے چلا تھا عمران خان چو مکھی لڑائی لڑ رہے ہیں اس کی اپنی صفوں میں کرپٹ اور نااہل لوگوں کی بھرمار ہے.

تن تنہا شخص ملک وقوم کی بہتری کے لئے اپنوں اور مخالفین سے نبرد آزما ہے ایک ایسا شخص جس کی ذات پر ایمانداری اور حب الوطنی کے حوالے سے کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا وہ تو کرپشن کے شبے پر اپنے جہانگیر ترین جیسے بہترین دوست کو بھی چھوڑ سکتا ہے اس لیڈر پر کیسے کوئی کرپشن کرنے کی اجازت دینے کا بھی الزام لگا سکتا ہے؟ عمران کی جنگ موروثی سیاست کے نام پر جمہوریت دشمن کرپٹ عناصر اور مکار بیوروکریسی سے ہے جو عوام اور عمران خان کے درمیان خلیج پیدا کرکے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں.

یہ بھی پڑھیں: کپتان کی حکومت کا توانا کھلاڑی

عمران خان کی جنگ ان کے خلاف ہیں جو عوام کا پیسہ لوٹ کر باہر لیجاتے ہیں جس سے ملک میں معاشی بحران جنم لیتے ہیں جو لوگ وزیراعظم کی تین تین باریاں لیکر اور پنجاب میں پانچ بار حکومت کرکے بھی حالات درست نہیں کر سکے وہ آج ملک ٹھیک کرنے کا جھوٹ بول کر عوام کی آنکھوں دھول جھونکنے کی کوشش کر رہے ہیں جن کے اپنے بچے باہر لوٹ مار کی دولت پر عیاشیاں کررہے ہیں وہ غریبوں کے بچوں کو سڑکوں پر لاکر اپنی “حرام کی کمائی ” کو بچانے کیلئے استعمال کرنا چاہتے ہیں دن رات جھوٹ بول کر سچ کو دبانے کے جتن کررہے ہیں جن کے ڈرائیورز ،چپڑاسیوں اور نوکروں کے اکاؤنٹ سے اربوں روپے کی ٹرانزیکشن کا انکشاف ہورہا ہے.

دراصل یہی ہیں وہ اصل مافیاز جن کے ساتھ بے ایمان و بددیانت بیوروکریسی، ناجائز منافع خوروں، ذخیرہ اندوزوں اور نااہل سیاستدانوں کا گٹھ جوڑ ہے ان کے خلاف جنگ میں اگر عوام نے صبر وتحمل کے ساتھ عمران خان کا ساتھ نہ دیا تو آنے والے حالات بد سے بد ترین ہونگے کرپٹ مافیاز کے خلاف عوام کو عمران خان کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا پڑے گا فوج کو کمزور کرنے کی بین الاقوامی سازش میں شریک دروغ گو اور بہتان تراش جھوٹے سیاستدانوں کے بیانیے کو نظرانداز کرنا ہوگا عمران خان کو بھی اب عوام کے بنیادی مسائل کی جانب توجہ دیکر انہیں سکھ کا سانس لینے کا سامان مہیا کرنے کے عملی اقدامات کرنا ہونگے تاکہ ایک ایماندار قیادت کے ثمرات ان تک پہنچ پائیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں