123

عید کارڈ: معدوم ہو چکا … شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: فیض رسول ہاشمی

گردشِ اوقات نے سب بدل کر رکھ دیا۔ ایک دور تھا کہ “عید کارڈ ” کے بنا عید ادھوری لگتی تھی۔ کپڑوں، جوتوں چوڑیوں، مہندی اور مختلف کھانوں کی اشیاء خریدتے ہوئے عید کارڈ بھی لازم و ملزوم سمجھا جاتا تھا۔ بڑے چھوٹے سب اپنے اپنے ہم عصر اور عزیزوں کو عید کارڈ دیا کرتے تھے جس پر محبت و سلامتی، طنز و مزاح کے پیغامی اشعار اور دعائیہ کلمات مرقوم ہوتے۔ ہر شخص تگ و دو میں رہتا تھا کہ وہ دیدہ زیب اور رنگ برنگی عید کارڈ اپنے پیاروں کو پہنچا کر عید کی خوشیوں کو دوبالا کر سکے۔ عید کارڈ کلچر سے معاشرے میں ہم آہنگی کی خوشبو پیدا ہوتی اور ہر شخص اُس سے معطر ہوجاتا۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ پرائمری تا میٹرک سکول میں اپنے ہم جماعتوں و اساتذہ اور قریبی دوستوں کیلئے جمع پونجی سے عید کارڈ خریدتا تھا اور انکی جانب سے بھی عید کارڈ وصول ہوتے تھے۔ ( کچھ عید کارڈ سنبھال کر رکھے ہوئے تھے نانا جان کا گھر چھوڑا اور ابا جان کی طرف آیا تھا تو پرانی چیزیں اِدھر اُدھر ہوگئیں)۔ میرا بچپن نانا و نانی کے پاس گزرا لہذا مجھے ابھی بھی روایتی و تاریخی چیزیں پسند آتی ہیں۔ نانا جان کے ساتھ بازار جا کر عید کارڈ خریدتا۔ وہ دُور بیٹھے رشتہ داروں و دوستوں کو ڈاک کے ذریعہ بھیجتے اور “ہم شہر” والوں کو خود گھر جا کر دیتے۔ بازاروں میں عید کارڈ خریدنے کیلئے عوام الناس کا جمِ غفیر ہوتا تھا۔ ڈاک خانہ کے باہر بھی لمبی لمبی قطاریں آپکو خوش آمدید کہتی تھیں۔ کچھ نوجوان نے گلی و محلہ میں “عید کارڈ اسٹال” لگائے ہوتے تھے۔ عید کارڈ تعلق میں مزید نکھار پیدا کرتا اور اپنائیت و خلوص کا رشتہ پروان چڑھتا تھا۔

آہ! ذرائع ابلاغ نے روپ بدلے تو مواصلات کا نظام انگلیوں پر آگیا اور ٹیکنالوجی کی اِس دنیا میں ہر چیز اب بناوٹی ہوچکی اور ہم بنی بنائی ( Readymade ) اشیاء پر اکتفا کرنے کے عادی ہوچکے ہیں۔ عید کا پیغام خود لکھنا بھی گوارا نہیں کرتے، کسی کا بھیجا گیا “پیغامِ عید” سماجی روابط کی ویب سائٹس یا سِم پر موصول ہوا تو بغیر پڑھے اُس کو آگے بھیج دیا جیسے کوئی فرض و قرض ادا ہوگیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں