60

نواب صادق محمد خان خامس اور پاکستان … شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: پروفیسر ڈاکٹر آفتاب حسین گیلانی

ریاست بہاول پور کا قیام 1727ء میں ہوا، اسکے بارہ نوابین گزرے ہیں جس میں پانچ کا لقب صادق اور پانچ کا بہاول تھا۔ آخری نواب صادق محمد خان خامس نے 1924ء میں بیس سال کی عمر میں اقتدار سنبھالا۔ آخری نواب صاد ق محمد خامس کے دور میں تعلیم، صحت، عدل وانصاف اور پولیس کی بہتری کے لیے اقدامات کیے ان کے دورمیں 1922سے 1933تک ستلج ویلی پراجیکٹ ہے جس میں تین ہیڈز سلیمانکی، اسلام اور پنجند بنا ئے گئے۔

اسی طرح نواب آف بہاول پور بھی صادق محمد خان خامس کا یہ اہم کارنامہ ہے کہ انہوں نے ریاست کا پاکستان سے 13اکتوبر 1947کو الحاق کیا جبکہ انہیں ہندولیڈروں نہرو اور سنیل کی ہندوستان سے الحاق کے لیے بلینک چیک کی آفر بھی کی لیکن نواب صاحب نے یہ تاریخی جملہ کہا کہ میر اسامنے کا دروازہ پاکستان میں اور پچھلا دروازہ ہندوستان میں کھلتا ہے اور کوئی بھی شریف آدمی اپنے گھر میں سامنے کے دروازے سے داخل ہونا پسند کریگا۔

قائد اعظم نے قیام پاکستان کے آغاز سے ہی آپ کو ایک اہم منصب پر فائز کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کا اندازہ 13اور 14اگست 1947ء کے اس پروگرام کی تفصیل اور پروٹوکول لسٹ کے مشاہدہ سے ہوتا ہے جو پاکستان کے گورنر جنرل کے ملٹری سیکرٹری جے برنی کی طرف سے جاری کی گئی۔ اس کے مندرجات کے مطابق ہزہائی نس نواب آف بہاولپور کو نامزد گورنر سندھ لکھا گیا ہے حالانکہ اس وقت آپ لند ن میں مقیم تھے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی جامعات اورعالمی درجہ بندی

قرین قیاس یہی ہے کہ یہ پروگرام چونکہ کچھ عرصہ پہلے ہی مرتب ہوا ہوگا۔ لہٰذا قائدا عظم کی ہدایت پر امیر آف بہاول پور کو بحیثیت گورنر سندھ نامزد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہو گا جس کی اطلاع ھی آپ کو لندن ارسال کر دی گئی ہو گی۔ لیکن نواب صاحب نے اس منصب کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہوگا آپ نے اسی قسم کے ایثار کا مظاہرہ اس وقت بھی کیا جب قائداعظم نے بذات خود اپنے بعد آپ کو گورنر جنرل کا عہدہ قبول کرنے کی دعوت دی تھی اور قائد کی وفات کے بعد لیاقت علی خان اور سردار عبدالرب نشتر نے ایک ملاقات کے دوران جس میں امیر بہاول پور کے دو بیٹے ولی عہد عباس عباسی اور مامون الرشید موجود تھے۔ آپ کو اس منصب کی پیشکش کی۔ آپ نے اپنی خدمات کے صلے میں یہ عہدہ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

آپ کی ان ذاتی خوبیوں کے قدردان خود بانی پاکستان تھے۔ اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ قائدا عظم کی ذات کسی اعلیٰ سے اعلیٰ شخصیت کو بھی خاطر میں نہ لاتی تھی۔ نواب صادق محمد خان جب کبھی گورنرجنرل ہاؤس جاتے تو طویل ملاقات اور تبادلہ خیال کے بعد قائد اعظم بالائی منزل سے نیچے اتر کر امیر آف بہاول پور کو بڑی محبت وشفقت سے رخصت فرماتے حالانکہ نواب صاحب اس پر اصرار کرتے کہ قائد بالانی منزل سے نیچے اترنے کی زحمت نہ کریں.

حقیقت یہ ہے کہ ریاست بہاول پور کے پاکستان سے الحاق کی ایک بڑی وجہ قائد اعظم محمد علی جناح کے نواب صادق محمد خان خامس سے ذاتی مراسم تھے. قیام پاکستان کے وقت نواب صاحب لندن میں مقیم تھے لیکن جونہی اکتوبر1947ء میں وطن وپس آئے تو انہوں نے بلاپس وپیش تین نومبر1947ء کو ریاست بہاول پور کا الحاق فیڈریشن آف پاکستان سے کرنے کا اعلان کر دیا۔ تاہم اس معاہدے کے مطابق امیر آف بہاول پور کے لیے بطور حکمران تمام تر اختیارات حقوق اور مراعات برقرار رہیں اور ریاست میں مروجہ قوانین کو بھی ہر قسم کا تحفظ حاصل رہا۔ امیر آف بہاول پور کے دستخطوں کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح نے 5اکتوبر1947ء کو اس معاہدے پر دستخط کیے۔

یہ بھی پڑھیں: کرونا- تعلیمی نقصان نسلوں کا نقصان

معاہدہ الحاق کے سلسلے میں خود قائد اعظم جیسی بااُصول اور آئینی امور کی ماہر شخصیت نے نواب صاحب کو اس بات کی فراخدلانہ پیشکش کی تھی کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق جس قسم کی شرائط تحریر کرنا پسند کریں لکھ دیں انہیں اسے قبول کرنے میں کسی قسم کو کوئی تامل نہ ہوگا۔ یقینا یہ خالی چیک نواب صاحب کو اپنی ریاست کے الحاق کے سلسلے میں دی جانے والی اس عظیم قربانی کے اعتراف کے طور پر قائد اعظم نے اپنے ہاتھ سے دیا اس طرح ریاست بہاول پور کو پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے والی سب سے بڑی اور سب سے پہلی ریاست کا اعزاز حاصل ہوا۔ جس کی تقلید میں بعدازاں علی الترتیب ریاست خیرپور، سوات، امب، دیر چترال، لسبیلہ، مکران، خاران اور قلات نے الحاق کیا۔

یہی نہیں بلکہ امیر آف بہاول پور نے اس کے علاوہ بھی قائد اعظم سے ذاتی تعلق کو خوب نبھایا۔ ایک مسلم ریاست کے حکمران ہونے کی حیثیت سے انہوں نے پاکستان کی نوازئیدہ مملکت کو معاشی سہارا دینے کے لیے دس کروڑ کی خطیر رقم نقد ادا کی، علاوہ ازیں قیام پاکستان کے ایک سال بعد تک ملک کے تمام سرکاری اِداروں کی تنخواہوں کی ادائیگی بھی خزانہ بہاول پور سے جاتی رہی، ان تمام خدمات کا اعتراف بانی پاکستان نے ہائیکورٹ لاہور میں اپنے خطاب کے دوران یوں کیا کہ ”ہم ریاست بہاول پور کے ممنون ہیں کہ اس نے ہمیں قلم کی روشنی تک کی امداد دی“.

قائد اعظم نے ملیر میں قیام کے دوران بڑی محبت سے ریاست بہاول پور اور کشمیر کی داخلی خودمختاری کے بارے میں یوں تذکرہ کیا کہ انشاء اللہ پاکستان کا تعلق بہاول پور اور کشمیر کے ساتھ ایک ممتاز حیثیت رکھے گا اور ہر دو ریاستیں مملکت پاکستان کے تحت داخلی طور پر خود مختار ہوں گی۔ قائد اعظم کی قیادت کے دوران نوزائیدہ مملکت کا سب سے بڑا مسئلہ مہاجرین کی بحالی اور آبادکاری کا تھا اس طرح ریاست بہاول پور نے کم وبیش ایک لاکھ مہاجرین کو ریاست میں آباد کیا۔ یہی نہیں بلکہ اس مقصد کے لیے قائم ہونے والے قائد اعظم ریلیف فنڈ میں ریاست بہاول پور کی طرف سے پانچ لاکھ روپے کا عطیہ دیا گیا۔ اس کے شکریے کے لیے قائد اعظم نے ذاتی طور پر ریاست کے وزیر اعظم مشتاق احمد گورمانی کو 18اکتوبر1947ء کو ایک خط تحریر کیا جس میں حکومت پاکستان کی اس مدد پر امیر اف بہاول پور کا خصوصی شکریہ ادا کیا گیا تھا۔

خود قائدا عظم ریاست بہاول پور اور امیر آف بہاول پور کی ان تمام خدمات کے معترف تھے یہی وجہ ہے کہ آپ گورنر جنرل ہاؤس کراچی منتقل ہونے کے بعد بھی آخری ایام ہفتہ گزارنے کے لیے حسب سابق قصرالشمس ملیر میں تشریف فرما ہوتے رہے انہی ایام کا ایک یادگار فوٹوخصوصیت سے ان دوستانہ مراسم کی عکاسی کرتا ہے جس میں علیٰ الترتیب قائد اعظم امیر آف بہاول پور اور فاطمہ جناح 1893-1947ء چائے کی میز پر تشریف فرما ہیں اور ان کی پشت پر قائد اعظم کے اے ڈی سی نواب صاحب کے دلی عہد اور خاص ذاتی عملہ کے افراد کھڑے ہیں، ان تمام واقعات سے یہ بات ثابت ہے کہ قیام پاکستان کے بعد یہ دوستانہ تعلقات بے تکلفانہ اور گھریلو نوعیت اختیار کر چکے تھے خود قائداور مادرملت بھی گورنمنٹ ہاؤس کی بجائے بہاول پور ہاؤس میں زیادہ آرام وسکون محسوس کرتے تھے، محترمہ فاطمہ جناح کی خواہش پر امیر آف بہاول پور نے بہاول پور ہاؤس الشمس اور القمر کے درمیان واقع ساڑھے بارہ ایکڑ اراضی قائد ا عظم کو ذاتی رہائش گاہ کی تعمیر کے لیے تحفتاً دے دی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی سب سے بڑی پرائیویٹ لائبریری ”مسعود جھنڈیر ریسرچ لائبریری

قائد اعظم اور فاطمہ جناح اپنی زندگی میں یہاں رہائش گاہ تعمیر نہ کر اسکے اور ان کی وفات کے بعد ان کے ورثا نے یہ زمین فروخت کر دی۔ امیر آف بہاول پور کی قائد اعظم کے لیے عقیدت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب چند بکسوں پر مشتمل قائد اعظم کا ذاتی سامان دہلی سے کراچی کی طرف جا رہا تھا تو راستے میں اسے ہندو بلوائیوں نے آگ لگا دی حالانکہ ان پر آپ کا نام لکھا تھا۔ جب یہ گاڑی سمہ سٹہ جنکشن پر رکی تو وہاں پر تعینات فوجی دستہ نے اس کی خبر نواب صاحب کو دی اس پر آپ نے حکم دیا کہ کراچی سے دہلی کے لیے پٹرول لے جانے والی تمام ٹرینوں کو اس کی پاداش میں سمہ سٹہ روک لیا جائے اور اس طرح کئی روز تک ہندوستان کو پٹرول کی سپلائی منقطع رکھی گئی۔

قائد اعظم بھی تحریک پاکستان کے سلسلہ میں امیر آف بہاول پور کی طرف سے مہیا کی جانے والی بھر پور معاونت کے معترف تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ اُنہیں آپ کی دوستی کا بھی پاس تھا۔ قائداپنی مردم شناسی کی بدولت آپ کو نوزائیدہ پاکستان کی تعمیر وتشکیل کے لیے سب سے زیادہ اہل شخص تصور کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ قرارداد پاکستان1940ء کی منظوری کے بعد سے اسی قائد کی عقابی نظروں نے شمال مغربی خطے میں واقع کشمیر اور پٹیالہ کے ساتھ ساتھ بہاول پور جیسی مسلم اکثریتی ریاست کا بھی احاطہ کر لیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس ریاست کو ہندوستان کے وفاق میں اس کی منشاء کے برخلاف شامل کرنے کی بجائے اس کی خودمختارانہ حیثیت کو برقرار رکھنا چاہتے تھے، جس کا اندازہ آپ کے اس اخباری بیان سے لگایا جا سکتا ہے۔

‘بعض اہم اور بڑی ریاستیں مشرق میں نہیں بلکہ وہ شمال مغربی منطقے میں ہیں اور یہ کشمیر بہاول پور پٹیالہ وغیرہ ہیں۔ اگر یہ ریاستیں بخوبی ہندوستان کے وفاق میں شریک ہونا چاہتی ہیں تو ہم ان سے موزوں مفاہمت اور باعزت سمجھوتے میں خوشی محسوس کرتے ہیں، ہم کسی طرح بھی انہیں مجبور نہیں کرنا چاہتے اور نہ ہی ان پر دباؤ ڈالنا پسند کرتے ہیں۔’

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں