166

کرونا: تعلیمی نقصان نسلوں کا نقصان … شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: ڈاکٹرعبدالواجد خان

قارئین یقینا کوو یڈ 19نے زندگی کے تمام شعبوں کو ہی متاثرکیا ہے لیکن میں سمجھتاہوں کہ اس وباء کے باعث ایجو کیشن سیکٹر میں پیدا ہو نے والی بحرانی صورت حال سے دنیا کو سب سے ذیادہ نقصان ہونے جا رہا ہے ۔ یہ بات حقیقت ہے کہ تمام متاثرہ ممالک کی معیشتیں وینٹی لیٹرز پر چلی گئی ہیں اور دنیا کو شدید معاشی بحران اور بے روزگاری کے طوفان کا سامنا ہے۔ لیکن میرے نز دیک اس سے ذیادہ بڑی تلخ حقیقت یہ ہے کہ اگر مناسب اقدامات نہ کئے گئے تو تعلیمی اداروں کی بند ش سے دنیا کو جو ہمہ جہت سماجی، ذہنی ، فکری ، نفسیاتی و معاشرتی نقصان ہو نے جارہا ہے وہ بہت دور رس ہو گااوراس کا ازالہ کر نا مشکل ہو گا۔کیوں کہ معاشی بحران پر تو قابو پایا جا سکتا ہے لیکن طلبہ و طالبات کے تعلیم و تربیت کے اس قیمتی وقت کو واپس لانا ممکن نہیں ہوگا۔

ترقی پذیر و غیر ترقی یافتہ ممالک اس بحران سے ذیادہ متاثر ہو نگے۔اور اگر یہ تعلیمی تعطل طویل عرصے تک جار ی رہتاہے تو پاکستان جیسے ممالک جہاں پہلے ہی تعلیمی صورتحال دگرگوں ہے یہ بحران انکے تعلیمی نظام اور معیارتعلیم کیلئے تباہ کن ہو سکتا ہے ۔اسی پہلو کوپیش نظر رکھ کر ورلڈ بینک اس تعلیمی بحران سے نمٹنے کیلئے مختلف ممالک کی وزارت تعلیم سے رابطے میں ہے اورباہمی اشتراک سے متبادل نظام تعلیم کو اپنانے میں مدد دے رہا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: کرونائی عید سادگی سے منائیں

یونیسکو کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے 165ممالک کے 87فیصد طلبہ و طالبات کرونا کوو یڈ کی وجہ سے تعلیمی اداروں کی بند ش کا سامنا کررہے ہیں ۔طلبہ و طالبات کی یہ تعداد تقریباً 1.5بلین(150کروڑ) بنتی ہے جبکہ پاکستان میں متاثرہ طلبہ و طالبات کی مجموعی تعداد 4کروڑ68لاکھ 34ہزار ہے۔

پاکستانی حکومت نے کرونا کوویڈ کے پھیلائو کو روکنے کیلئے جہا ں دیگر اقدامات کئے وہیں تمام تعلیمی اداروں کو بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا یہ بند ش تا حال 15جولائی تک جاری رہے گی ۔مو جودہ صورتحال کے باعث میٹر ک اور انٹر کے امتحان کے بغیر طلبہ و طالبات کو پرو مو ٹ کیاجارہا ہے اور کالجز اور یونیورسٹیز میں داخلے 9ویں اور 11ویں کلاس کے نتائج کی بنیاد پر دیئے جائیں گے۔ مجبوری میں کیا جانے والا یہ فیصلہ یقینا خوش آئیند نہیں ۔ جبکہ یونیورسٹیز کو HEC کی ہدایت کے مطابق اپنے فیصلے کرنے کا اختیار دیا گیا ہے ۔

پاکستان میں اس وقت 187پبلک و پرائیوٹ یونیورسٹیز قائم ہیں جن میں تقریباً ڈھائی لاکھ طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں اورتقریباً 40ہزار فیکلٹی ممبران خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ ہائر ایجو کیشن کمیشن نے اس صورتحال میں جہاں اس وباء سے نمٹنے کیلئے حکومت کا ساتھ دینے کا اعلان کیا وہا ں ہی طلبہ و طالبات کے تعلیمی نقصان کو کم از کم کرنے کیلئے متبادل تدریسی نظام کواپنانے کا فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں ملک کی مختلف یونیورسٹیز میں آن لائن کلاسز کا آغاز کر دیا گیا ۔جس میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور نے لیڈ لی اور اپر یل کے آغاز سے ہی (LMS) Learning Mangment System کے تحت تدریس کا آغاز کر دیا ۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی سب سے بڑی پرائیویٹ لائبریری ”مسعود جھنڈیر ریسرچ لائبریری

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے اس اقدام کو HECاور ملک بھر میں سراہا گیا اور کئی یونیورسٹیز نے اس کے ماڈل کو اپنانے کا فیصلہ کیا ۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت کہ اس وقت پاکستان میں انٹرنیٹ کی رسائی صر ف 36.8فیصدافراد تک ہے۔ جس کی وجہ سے طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد آن لائن ایجو کیشن میں شامل نہیں ہو سکتی اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے طلبہ و طالبات کو آن لائن کلاسزمیں مشکلات پیش آرہی ہیں ۔

پاکستان میں آن لائن فل ٹائم تدریسی کلچر نہ ہونے کی وجہ سے اساتذہ کو بھی آن کلا سز لینے میں دشواری پیش آرہی ہے جس پر ٹریننگ سے قابو پایا جاسکتاہے ۔اس حوالے سے اگر ہم چین کی مثال کو سامنے رکھیں تو یہ معلوم ہو تا ہے کہ چین نے جہاں کا میابی سے کو ویڈ 19کی وبا ء پر قابو پایا ہے وہیں چین نے اس صورتحا ل میں مو ثر اقدامات کرکے اپنے تعلیمی نظام کو بھی بچا لیا ہے۔ چین کی وزارت تعلیم نے 9 فروری کو ہی پرائمری اور سیکنڈ ری سطح کے 200 ملین طالب علموں کیلئے نئے سمسٹر کی آن لائن کلاسز کا آغاز کر دیا ۔

چینی منسٹری آف ایجو کیشن نے تمام ایجو کیشن سرو س فراہم کرنے والی سروسز کو اپنی Bandwidth کو اپ گریڈ کرنے اور تمام ٹیلی کام سروسز کو انٹرنیٹ کی رسائی کو تمام ملک اور خاص طور پر دور دراز کے علا قوں میں بہتر بنانے کی ہدایت کی تاکہ آن لائن کلاسز جاری رہ سکیں ۔ یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات کیلئے 2400سے زائد کورسز بنائے گے اور ان کی طلبہ و طالبات تک فراہمی کو یقینی بنایا گیا۔

پرائمری اور سیکنڈری سطح کے طلبہ و طالبات کیلئے توثیق شدہ 22 آن لائن آرٹیفشل انٹیلیجنس صلاحیت کے حامل آن لائن کورسز پلیٹ فارم متعارف کروائے جن میں فری آن لائن کورسز حاصل کرنے کی سہولت ہے۔ اس کے علاوہ آن لائن سٹریمنگ اور MOOCs کے ذریعے اساتذہ کو آن لان تدریس کیلئے ٹریننگ دی گئی ۔ چین نے غریب طلبہ و طالبات کو آن لائن کلاسز کیلئے مفت کمپیوٹر، موبائل ڈیٹاپیکیج اور ٹیلی کمیونیکیشن سبسڈیز فراہم کیں اور آن لائن سیکیورٹی کو محفوظ بنایا گیا ۔

یہ بھی پڑھیں: احساس کفالت پروگرام کے نام پر عوام کی توہین

پاکستان میں ہائر ایجو کیشن کمیشن نے چین کے ان اقدامات کو پیش نظر رکھ کر ان پر عملد آمد کرنے کا اعلان کیا ہے جو کہ خوش آئند ہے یہ اقدامات غریب اور دوردراز رہنے والے طلبہ وطالبات کیلئے آن لائن کلاسز میں شامل ہونے کیلئے مدد گار ہوں گے۔ پاکستان کے تعلیمی نظام کیلئے کو ویڈ 19کا یہ بحران ایک ٹیسٹ ہے اس چیلنج سے سیکھ کر ہم تعلیم کے میدان میں بہتری کی طرف جا سکتے ہیں۔

اس مقصد کیلئے ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو جدید رجحانات اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا ہو گا ۔اور آن لائن کلاسز میں آنے والے مو جودہ مسائل کے حل کیلئے ٹیلی کام کمپنیز کا تعاون حاصل کر کے چین کی طرح دوردراز علاقوں تک انٹر نیٹ کی سہولت کو بہتر بنانا ہو گا ۔ تعلیمی ادارے ڈیجیٹل نیٹ ور کس کے اشتراک سے ڈیجیٹل ایجو کیشن چینل بنا سکتے ہیں۔ اگر موجودہ صورتحال غیر معینہ عرصے تک جاری رہتی ہے تو امتحانات کو بھی آن لائن کروانے کے لئے تیاررہنا ہونا ہوگا ۔

کرونا کو ویڈ 19دنیا بھر میں تعلیم و تدریس اور لرننگ کے طریقوں میں بڑی تبدیلیاں لانے جا رہا ہے ۔پاکستان کے پاس یہ مو قع ہے کہ وہ اپنے نظام تعلیم کوجدید ضروریات کے مطابق ڈھال لے تاکہ آئیندہ اس قسم کی کسی بھی صورتحال سے با آسانی نپٹا جا سکے اور مستقبل کے لیے پاکستان کو ہرشعبے میں بہترقیادت فراہم کی جاسکے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں