38

قرنطینہ میں گزارے 17 دن کافی مشکل تھے: گورنر سندھ

کراچی (ویب ڈیسک) گورنر سندھ عمران اسمٰعیل نے کورونا وائرس سے متاثر ہو کر قرنطینہ میں گزارے گئے 17 دنوں کو نئی دنیا سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دن مشکل ضرور تھے لیکن برا تجربہ نہیں تھا۔

گورنر سندھ کے پریس سیکریٹری کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گورنر عمران اسمٰعیل نے قرنطینہ میں گزرے 17 دنوں کے تجربے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کوئی ایسی بیماری نہیں جس کا انجام صرف موت ہی ہو کیونکہ احتیاطی تدابیر اختیار کرکے اس کو شکست دے سکتے ہیں۔

گورنر سندھ نے کہا کہ اس بیماری میں جڑی بوٹیوں کا استعمال مفید ہوتا ہے، مجھے ثنا مکی اور ادرک کے پانی کے استعمال سے بہت فائدہ ہوا اور اس وائرس کی علامات سے نجات ملی۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ کورونا وائرس کا کوئی مخصوص علاج نہیں اس لیے آپ کو مسلسل اپنے معالج سے رابطے میں رہنا پڑتا ہے اور اپنے آکسیجن پر نظر رکھنی پڑتی ہے اور اگر یہ 92 سے نیچے جاتی ہے تو خطرناک ہے، اس سے اوپر ہونا چاہیے۔

گورنر سندھ نے کہا کہ قرنطینہ کا عرصہ خود احتسابی کا موقع فراہم کرتا ہے اور اس سے قبل گزری زندگی کے بارے میں غورو فکر کرکے مستقبل کے لیے لائحہ عمل تشکیل دے سکتے ہیں۔

قرنطینہ میں معمولات کے حوالے سے انہوں نے اس عرصے میں قرآن کا ترجمے کے ساتھ مطالعہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ قرنطینہ کے دوران خالق حقیقی سے قریب ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی عنایات، نعمتوں کا شکر ادا کرنے اور اپنی کوتاہیوں پر معافی مانگنے کا موقع ملتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ 14 سے 15 دن آپ سب سے دور ہوتے ہیں لیکن اس دوران کئی ایسے کام کرسکتے ہیں جن کا معمول کی زندگی میں موقع نہیں ملتا۔

گورنر سندھ نے کہا کہ میرے لیے یہ عرصہ بہت مشکل ضرور تھا، لیکن بُرا تجربہ نہیں تھا کیونکہ قرنطینہ کے دوران ایک نئی دنیا کے ساتھ رابطہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس عرصے میں سیاسی وژن میں اضافہ ہوا ہے اور اس بات پر بھرپور ایمان ہے کہ اللہ نے ہر چیز کسی نہ کسی مصرف کے لیے بنائی ہے اور انہیں یقین ہے۔

قرنطینہ کے دوران نیک خواہشات اور جلد صحت یابی کی دُعا کرنے والے افراد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو کورونا ہوجائے تو ہمت نہ ہاریں، اس کا مقابلہ کریں کیونکہ کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی شرح بہت کم ہے۔

یاد رہے کہ گورنر سندھ عمران اسمٰعیل میں 27 اپریل کو کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔

اپنی ٹوئٹ میں عمران اسمٰعیل نے کہا تھا کہ ‘مجھ میں کورونا کا ٹیسٹ مثبت آگیا ہے لیکن اللہ کرم کرنے والا ہے اور میں اس کا مقابلہ کروں گا’۔

انہوں نے کہا تھا کہ ‘عمران خان نے ہمیں مشکلات سے لڑنا سکھایا ہے اور میرے خیال میں یہ اس سے بلکل مختلف نہیں ہے جو ہم نے سیکھا ہے’۔

8 مئی کو ان کا کورونا وائرس کا دوسرا ٹیسٹ بھی مثبت آیا تھا تاہم قرنطینہ میں 17 دن کے بعد 13 مئی کو ان کا ٹیسٹ منفی آیا تھا اور انہیں صحت یاب قرار دیا گیا تھا۔

اس حوالے سے عمران اسمٰعیل نے ایک مرتبہ پھر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں آگاہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘مجھے میرے کورونا ٹیسٹ کی رپورٹ مل گئی ہے جس میں نتیجہ منفی آیا ہے’۔

انہوں نے کہا تھا کہ ‘میں ان تمام لوگوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے میری صحت کے لیے دعا کی، میں جلد خون کا پلازمہ عطیہ کروں گا تاکہ وہ کسی ضرورت مند کے کام آسکے’۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں