42

کورونا کو امریکی افواہ قرار دینے والا اسی وائرس سے جانبحق

قاہرہ (ویب ڈیسک) مصر میں کورونا کو امریکی افواہ قرار دینے والا شخص وائرس سے ہلاک ہوگیا۔

عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق سیاحت کے شعبے سے وابستہ محمد واحدان نے چند ماہ قبل فیس بک پر اپنے ویڈیو پیغام میں کورونا وائرس کو جھوٹ قرار دیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ امریکا نے چین کی معیشت کو برباد کرنے کے لیے وائرس کی افواہ پھیلائی ہے۔

علاوہ ازیں محمد واحدان نے مصری عوام پر زور دیا تھا کہ وہ معمولات زندگی کو بحال رکھیں اور ذخیرہ اندوزی سے گریز کریں۔

حیرت انگیز طور پر محمد واحدان نے اپنے ویڈیو پیغام میں کورونا وائرس کے خلاف احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت کی۔

بعد ازاں محمد واحدان کی طبیعت خراب ہوئی اور وائرس کی تشخیص کے بعد انہیں مصر کے ہسپتال میں قرنطینہ کردیا گیا۔

ہسپتال میں داخل ہونے کے دوسرے روز ان کی طبیعت مزید خراب ہونے لگی اور اس دوران انہوں نے ایک اور ویڈیو پوسٹ کی اور اپنے غلطی کا اعتراف کیا، ساتھ ہی لوگوں کو گھروں میں رہنے کی تلقین کی۔

انہوں نے کہا کہ ’مجھے کہا گیا کہ میں گھر پر رہوں لیکن میں نے توجہ نہیں دی کیونکہ میں ایک مصنوعی زندگی خرید رہا تھا، برائے مہربانی وائرس کو غیر سنجیدہ نہ لیں کیونکہ یہ جان لیوا اور جسم کے حصوں کو تباہ کر دیتا ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: چوہوں کی تیارکردہ پینٹگز کی ہاتھوں ہاتھ فروخت

محمد واحدان نے مزید کہا کہ بھوک آپ کو نہیں مارے گی، اپنی زندگی داؤ پر مت لگائیں، مصر میں وائرس پھیل رہا ہے، بدقسمتی سے میرے بہن بھائی بھی میری وجہ سے وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’برائے مہربانی میرے لیے دعا کریں کہ میں وائرس سے جلد صحتیاب ہو جاؤں۔

محمد واحدان کی جانب سے پوسٹ کی گئی آخری ویڈیو میں وہ بامشکل بول پا رہے تھے۔

محمد واحدان کے دوست نے بتایا کہ وہ ایک اسپورٹ مین تھے اور اچھی صحت کے مالک تھے۔

انہوں نے بتایا کہ محمد واحدان کے والد اور بھائی ہسپتال میں زیر علاج ہیں جن کی طبیعت خطرے سے باہر ہے لیکن انہیں تاحال محمد واحدان کی موت کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا۔

اس ضمن میں ہسپتال کے آئسولیشن وارڈ کے نائب چیئرمین محمد عالم نے بتایا کہ واحدان کی ویڈیوز میں خوف اور درد کی کیفیت واضح تھی کیونکہ وہ مسلسل درد اور بخار میں تھے۔

فیس بک پر محمد عالم نے بتایا کہ ’ضروری نہیں کہ ایسا ہر ایک کے ساتھ ہو، بعض مرتبہ صورتحال اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہوتی ہے جس درد اور بخار ناقابل برداشت ہوجاتا ہے لیکن ہیجانی کیفیت سے مسئلہ حل نہیں ہوتا‘۔

واضح رہے کہ مصر میں وائرس سے مجموعی طور پر 11 ہزار سے زائد افراد متاثر جبکہ 600 افراد دم توڑ چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں