53

لاک ڈاؤن میں نرمی ایس او پیز پرعملدرآمد سے مشروط ہے: وزیراعلیٰ

گلگت (ویب ڈیسک) وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ لاک ڈاﺅن میں نرمی کو سماجی دوری، ماسک کے استعمال اور ایس او پیز پر عملدرآمد سے مشروط کیا ہے۔ لوگ اپنی اور اپنے گھروں والوں کے زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں اور ایس او پیز پر عمل نہیں کررہے ہیں۔ مارکیٹوں میں ماسک اور دستانوں کے بغیر لوگ نکل رہے ہیں۔ سماجی دوری کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔

گلگت بلتستان سکاﺅٹس، رینجرز، پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے کرونا وائرس سے بچاﺅ کو یقینی بنایا جائے۔ان خیالات کا اظہارانھوں نے کرونا وائرس سے بچاﺅ کےلئے سماجی دوری، ماسک کا استعمال اور دیگر ایس او پیز پر عملدرآمد کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر کمشنر دیامر ریجن اور کمشنر بلتستان ریجن نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ کرونا وائرس سے بچاﺅ کےلئے متعین ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کےساتھ سختی کی جائے۔ مارکیٹوں، بازاروں اور دیگر مقامات پر قانون نافذ کرنے والے ادارے سختی سے کرونا وائرس سے بچاﺅ کےلئے ایس او پیزپر عملدرآمد کرائیں۔ کرونا وائرس سے بچاﺅ کےلئے ایس او پیز پر عملدرآمد کےلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مشترکہ پلان مرتب کیا جائے اور اس پلان پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔

وزیراعلیٰ نے کمشنر بلتستان اور کمشنر دیامر کو بھی ہدایت کی ہے کہ تمام ریجن میں گلگت بلتستان سکاﺅٹس، رینجرز، پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مشترکہ پلان بنایا جائے اور ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ تاجروں کو بھی پابند کیا جائے کہ انتظامیہ کےساتھ کئے جانے والے معاہدے پر عملدرآمد کریں۔ دکانوں میں سینی ٹائزرز، ماسک، دستانوں کا استعمال کریں اور ماسک اور دستانوں کے بغیر آنے والے گاہک کو واپس بھیج دیں۔

حفیظ الرحمن نے صوبائی سیکریٹری صحت کو ہدایت کی کہ استور اور سکردو میں پی سی آر لیب کے قیام کےلئے پلان مرتب کریں تاکہ مستقبل میں پی سی آر لیبارٹریز سے استفادہ حاصل کیا جاسکے۔ وزیر اعلیٰ نے صوبائی سیکریٹری سوشل ویلفیئر اور ڈی جی جی بی ڈی ایم اے کو ہدایت کی کہ مستحقین کو راشن کی فراہمی کے دوسرے مرحلے میں 25 ہزار مزید مستحق گھرانوں کو راشن کے فراہمی کے عمل کو تیز کیا جائے۔ صوبے کے مختلف مقامات پر مانیٹرنگ دورے کئے جائیں گے جس میں کرونا وائرس سے بچاﺅ کے حوالے سے ایس او پیز پرعملدرآمد کرانے کے فیصلوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

کرونا وائرس سے بچاﺅ کےلئے متعین ایس اوپیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کےخلاف کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے۔ گلگت بلتستان کے طالب علم جو سندھ میں زیر تعلیم تھے ان کو واپس لایا گیا ہے۔ اس آپریشن کو اب بند کیا جارہاہے۔ صوبے میں بغیر کرونا وائرس کے ٹیسٹ کے کسی کو بھی داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ وزیر اعلیٰ نے تمام ڈویژنل کمشنرز کو ہدایت کی کہ محکمہ صحت کے تعاون سے صرف ایسے مریضوں اور لوگوں کو گلگت کےلئے این او سی جاری کیا جائے جن کا علاج متعلقہ ضلع میں ممکن نہیں۔ غیرضروری طور پر گلگت کےلئے این او سی جاری کرنے سے اجتناب کیا جائے۔

بین الاضلاعی ٹریفک پرعائد پابندی پرمزید سختی کی جائے۔ تمام ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کو (پی پی ایز )حفاظتی کٹس کی فراہمی یقینی بنائی جائے ۔ حفیظ الرحمن نے کہا کہ ماہ رمضان المبارک کے آخری عشرے کے حوالے سے وفاقی سطح پر کئے جانے والے فیصلوں کے مطابق صرف ایس او پیز کے تحت مساجد اور امام بارگاہوں میں مجالس اور عبادات کی اجازت ہوگی۔ علمائے کرام نے کرونا وائرس سے بچاﺅ اور روک تھام کے حوالے سے جو تعاون کیا ہے وہ قابل تحسین ہے۔ جلسہ جلسوں پر پابندی عائد رہے گی۔

حفیظ الرحمن نے سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ نفرت انگیز مواد کی تشہیر کرنے والوں کےخلاف زیرو ٹالرنس کے تحت سخت اقدامات کئے جائیں۔ ایسے لوگ جو سوشل میڈیا کے ذریعے فساد پھیلانا چاہتے ہیں ان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ ختم نبوت پر تمام مسلمانوں کا ایمان ہے۔

خلفائے راشدینؓ، امہات المومنینؓ، صحابہ کرامؓ، اہل بیتؓ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کےخلاف فوری طور پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔جس فیس بک آئی ڈی سے نفرت انگیز اور انتشار پھیلانے والا مواد پوسٹ کیا جائے فوری طور پر متعلقہ بندے کےخلاف کارروائی کرتے ہوئے گرفتاری عمل میں لائی جائے۔

وزیر اعلیٰ نے تمام متعلقہ سیکریٹریز کو ہدایت کی کہ کرونا وائرس کے حوالے سے تمام اخراجات کی تفصیلات کو شفاف رکھا جائے ۔ وفاقی حکومت کو دو ارب روپے کی ڈیمانڈ بجھوانے کے باوجود کرونا وائرس سے متعلق آپریشنل اخراجات میں صوبے کی مدد نہیں کی گئی ہے۔ ڈونر اداروں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ حکومت گلگت بلتستان کی درخواست پر مدد کی جائے گی لیکن اسے مسترد کرتے ہیں گلگت بلتستان حکومت کی جانب سے امداد کےلئے ڈونر اداروں سے رابطہ نہیں کیا جائے گا بلکہ وفاقی حکومت کو ڈیمانڈ بجھوائی گئی ہے وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ صوبائی حکومت کی مدد کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں