66

پاکستان کی سب سے بڑی پرائیویٹ لائبریری ”مسعود جھنڈیر ریسرچ لائبریری“… شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: اللہ ڈتہ انجم
دھنوٹ (لودھراں)

کہنے کو توکتاب سے اچھا ساتھی کوئی نہیں مگر کتنے لوگ ہیں جو کتاب سے محبت کرتے ہیں۔ بڑے محلات میں دنیا کی ہر چیز نظر آتی ہے مگر نہیں ہوتی تو کتاب نہیں ہوتی۔جبکہ کتاب پڑھنا دنیا کی بڑی نیکی ہے۔بلکہ کتابوں کے شائقین کیلئے کتابوں پر نگاہ کرنا بھی کسی عبادت سے کم نہیں ہوتا۔ کتابوں سے والہانہ محبت کرنے والے کتابوں کی زیارت کے لئے دور دراز کے سفر سے بھی گریز نہیں کرتے۔

ان کا ہر جگہ ہر مقام پر خیال ہی یہ ہوتا ہے کہ دیکھیں، بزرگوں کی چھوڑی ہوئی کتابیں کہاں اور کس حال میں ہیں۔ کہیں تو انہیں یوں لگتا ہے کہ جیسے کتابوں کو پلکوں سے جھاڑ پونچھ کر سجایا گیاہو، کہیں انہیں کتابیں نڈھال پڑی دکھائی دیتی ہیں اور کہیں کتابوں کی طرف دیواروں پر دیمک نے آمدورفت کے رستے تراشے ہوتے ہیں۔بزرگوں کی اِس ادا کے تو کیا کہنے کہ جب قدیم کتابوں پریہ لکھا ہوتا ہے کہ”اے دیمک کے بادشاہ، تجھے نہ جانے کس کی قسم کہ اِس کتاب کو اپنی خوراک نہ بنانا“اگلے وقتوں کے لوگ بڑے پیارے اور بھولے تھے کہ اُس وقت اُن پر ٹوٹ کے پیار آتا ہے جب پرانی کتابوں پر لکھا ہوا نظر آتا ہے کہ ”جس کتاب پر مصنف کے دستخط نہ ہوں اُسے جعلی تصور کیا جائے“۔

اور وہ بھی کیا خوب زمانے تھے،جب امراء اور رؤسا دور دراز کے سفر پر نکلتے تھے تو اُن کی کتابوں کا ذخیرہ ان کے ساتھ چلا کرتا تھا۔اسی حوالے سے عبدالمجید قریشی کی تصنیف ”کتابیں ہیں چمن اپنا“میں لکھا ہواکسی نامعلوم شاعر کاایک خوبصورت شعر انہی عاشقانِ کتب کی ترجمانی کرتا ہے۔

سیاحت کا جنہیں ہے شوق پھرتے ہیں وہ شہروں میں
کتب بینی ہے سَیر اپنی ، کتابیں ہیں چمن اپنا

ایسے ہی ایک زمیندار ملک غلام محمد چوغطہ (1936-1865ء) کا علم سے ربط شروع ہو کر لفظوں سے محبت اور پھر کتابوں سے محبت میں تبدیل ہوتا گیا۔ ان کی آمدنی کا بڑا حصہ کتب کی خریداری پہ صرف ہوتا تھا۔ کتابوں سے والہانہ عشق کی وجہ سے انہوں نے ذاتی کتابوں کی بنیاد پر 1890ء میں ایک لائبریری کی داغ بیل ڈالی اورآج وہ چھوٹی سی لائبریری پاکستان کی سب سے بڑی پرائیویٹ لائبریری بن چکی ہے۔ کہنے کو تو یہاں کے ایک دانشمند اور زیرک زمیندارملک غلام محمد چوغطہ نے اپنے ورثے میں دیگر اسباب کے ساتھ چند سو کتابیں چھوڑی تھیں۔مگر کون جانتا تھا کہ یہ چھوٹا سا چشمہ بعد ازاں مسعود جھنڈیر ریسرچ لائبریری کی صورت میں ایک بڑے دریا کا روپ دھار لے گا اور تشنگانِ علم اپنی پیاس بجھانے کے لئے دور دراز کی مسافتیں طے کر کے نگر نگر سے یہاں تک آنے کے لئے خصوصی سفر کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: کرونائی عید سادگی سے منائیں

مسعود جھنڈیر ریسرچ لائبریری سرائیکی وسیب کے ضلع وہاڑی کی تحصیل میلسی سے مغرب کی طرف 20 کلومیٹر، ملتان سے اٹھاسی اور بہاولپور سے ستّر کلومیٹر کی مسافت پر ایک گاؤں سردار پور جھنڈیر میں واقع ہے۔ملک غلام محمد چوغطہ کی وصیت کے مطابق یہ لائبریری ان کے نواسے میاں مسعود احمد جھنڈیر کو ورثے میں ملی۔ لائبریری کا نام بھی میاں مسعود احمد جھنڈیر کے نام کی نسبت سے رکھا گیا۔ میاں مسعودا حمد جھنڈیر نے اس چھوٹی سی ذاتی لائبریری کو ایک عظیم الشان لائبریری بنانے کا خواب دیکھا۔ بعد میں اِن کے چھوٹے بھائی میاں محمود احمد جھنڈیر اورمیاں غلام احمد جھنڈیر بھی شریکِ سفر ہو گئے۔

میاں محمد ہارون موسیٰ ایم بی اے (امریکہ) لائبریری کے سیکرٹری ہیں۔ ڈاکٹر میاں محمد فیصل مسعود جھنڈیر ایف آر سی پی(مقیم کینڈا)غیر ملکی نادر کتب بھیجتے رہتے ہیں۔ ان سب نے مل کر کتابوں کے اس چمن کی آبیاری کا حق یوں ادا کیا کہ اسے صدارتی ایوارڈ یافتہ پاکستان کی سب سے بڑی پرائیویٹ لائبریری بنا کر میاں مسعود احمد جھنڈیر کے خواب کو پورا کر دکھایا۔

اس اہم مقام(کتابوں کی بستی) تک پہنچنے کے لئے حکومت نے میلسی کینال پر غازی عباس اور غوث پاک کے نام سے دو پُل تعمیر کئے ہیں۔ تاکہ لائبریری سے استفادہ کرنے والے کسی مشکل اورچکر کے بغیر یہاں پہنچ سکیں۔ یہاں پہنچ کر انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ سرائیکی وسیب کے فصلیں کاشت کرتے زمینداروں کو اتنی بڑی لائبریری بنانے کا خیال کیسے آیا؟ کھادوں، بیجوں، سپرے اور مویشیوں کی باتوں میں وقت گزارنے والے زمیندار اتنے نفیس ذہن کیسے ہوگئے؟ جبکہ سرائیکی وسیب کے سرداروں، تمنداروں اور جاگیرداروں میں بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ایسے ہوں گے جو کتاب سے محبت رکھتے ہوں یا یہ کہ شاعر، ادیب یا دانشوروں کا ان کے ہاں اٹھنا بیٹھنا ہو۔

وسیب کے جاگیرداروں میں تواکثرَ تیتر،کبوتر،،بٹیر،کتے وغیرہ لڑانے کے شوقین نظر آتے ہیں۔اکثر امرا ء کے ڈیروں پر کتوں کی خدمت پر انسان مامور دکھائی دیتے ہیں۔یہاں اگر نہیں نظر آتے تو اہل نظر اور اہل علم۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ظلم کی سیاہ رات میں کچھ جگنو ایسے بھی ہیں جو رات کی سیاہی کو شرمانے کا کام دیتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں میں ایک نام جھنڈیر برادران کاہے۔جنہوں نے میلسی کے دور دراز دیہات میں مسعود جھنڈیر ریسرچ لائبریری کی شکل میں روشنیوں کا ایک شہر آباد کر رکھا ہے۔ اپنے ذاتی وسائل اور ذاتی مصرفے سے کروڑوں روپیہ خرچ کرکے ایک عظیم الشان لائبریری قائم کی ہوئی ہے۔ بلکہ یہاں جنون اور دیوانگی کا بڑا نمونہ دیکھا جاسکتا ہے۔پاکستاں جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں علمی و تحقیقی سرگرمیوں کے لیے وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس گو نا گوں صورتحال میں بلاشبہ ”مسعود جھنڈیر ریسرچ لائبریری“ اندھیروں میں اجالے کا استعارہ ہے۔

مسعود جھنڈیر ریسرچ لائبریری 1952ء میں ایک کمرے تک محدود تھی۔جب لائبریری میں کتب کی تعداد 70ہزار سے متجاوز ہوئی تو اس کا عوامی کردار معرضِ وجود میں آیا اور اس کو پوسٹ گریجوایٹ ریسرچ سکالرز کے لئے مختص کر دیا گیا۔ 1980ء کے بعد ایم اے، ایم فل، پی ایچ ڈی کے محققین کو لائبریری سے مستفید ہونے کی سہولت دی گئی۔لائبریری کی اصل مقبولیت ہی اس وقت ہوئی جب یہاں پوسٹ گریجوایٹ ریسرچ سکالرز کے کام کا سلسلہ شروع ہو۔لائبریری کا نیا کمپلیکس سال 2007ء میں مکمل ہوا جو 21 ہزار مربع فٹ ایریا پر محیط ہے۔ لائبریری میں آٹھ کشادہ ہال، آڈیٹوریم، ملٹی میڈیا ورک سٹیشن، کمیٹی روم اور ہاسٹل شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: علم کے فروغ میں لائبریریوں کا کردار

لائبریری کی یہ عمارت پانچ ایکڑ کے خوبصورت پارک میں گھری ہوئی ہے۔جس میں خوبصورت آبشاریں، فوارے، خوبصورت آرائشی اور زیبائشی پودے یہاں آنے والوں کو ایک انتہائی دلکش ماحول مہیا کرتے ہیں۔ گھاس کو نہایت سلیقے سے تراشا گیا ہے۔درختوں کے سائے میں جگہ جگہ بیٹھنے کے لئے کرسیاں اور بینچ رکھے گئے ہیں۔ بل کھاتی راہداریاں مزید دلکشی پیدا کرتی ہیں۔ ایک آبشار بھی خوبصورتی کو چار چاند لگا رہی ہے۔ چار دیواری سے منسلک سڑک کے پار مالکان کی رہائش گاہیں ہیں۔مسجد کا بلند وبالا مینار اپنی عظمت کی داستاں بیان کر رہا ہے۔ لائبریری دیکھ کر جنگل میں منگل کی مثال سچ نظر آتی ہے۔

دسمبر 2013ء میں پنجاب یونیورسٹی میں ہونے والی انٹرنیشل لائبریری کانفرنس میں لائبریری پر ایک پی ایچ ڈی سکالر نے انگریزی زبان میں ایک مقالہ جس کا عنوان مسعود جھنڈیر ریسرچ لائبریری پاکستان کے لیے سرمایہ افتخار پیش کیا۔14 اگست 2014ء کے موقع پر گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے لائبریری کے منتظم میاں غلام احمد جھنڈیر کو قومی ورثہ کی حامل تاریخی، دینی، ثقافتی اور ادبی کتابوں کو جمع اور محفوظ کرنے پر سول صدارتی تمغہ امتیاز کے اعزاز سے نوازا۔مرکز تحقیقات فارسی ایران وپاکستان اسلام آباد نے ایک پی ایچ ڈی سکالر کو اس لائبریری کی کیٹلاگ تیار کرنے کا فریضہ سونپا جنہوں نے دس ماہ لائبریری میں کام کر کے یہ کام مکمل کیا۔ جسے حکومت ایران نے اس فہرست کو کتابی شکل میں 2005ء میں شائع کیا۔

زمیندار ہونے کے ناطے فصل اچھی ہو اور بھاؤ بھی بہتر ملے تو لائبریری مزید سرسبز و شاداب ہو جاتی ہے۔ اس بستی کی داغ بیل مزروعہ زمین پر 1963ء میں ڈالی گئی۔ اس ”کتاب بستی“کا نام جھنڈیر برادران نے اپنے والد میاں سردار محمد جھنڈیر (1952-1887) کے نام کی نسبت سے سردارپور جھنڈیر رکھا۔اس لائبریری میں سر کاری یا غیر سرکاری گرانٹ یا مالی امداد کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔

منتظمین کے مطابق ایک جگہ کسی نے کتابوں کا ذخیرہ پلاسٹک کے تھیلوں میں باندھ کر کنویں میں ڈال دیا تھا۔مسعود جھنڈیر لائبریری والوں نے کنویں میں اتر کر یہ کتابیں نکالیں تو اُن میں ایک سے ایک نادر اور نایاب کتابیں تھیں۔ مسعود جھنڈیر ریسرچ لائبریری میں تاریخی، مذہبی، ثقافتی اور ادبی ورثہ محفوظ ہے۔ لائبریری اصناف اور مواد کے لحاظ سے قابلِ قدر، پر ثروت، ہمہ گیر اور ہمہ جہت ہے۔ کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں محققین کو تشنگی محسوس ہو۔ہر صنف پر وافر کتب موجود ہیں۔کتابوں کو اس ترتیب سے رکھا گیا ہے کہ بڑے مصنفین کی تمام کتابوں کو یکجا کر دیا گیا ہے۔

گنبد نما کشادہ ہال اور پُر شکوہ عمارت کے مختلف ہالوں میں مختلف شعبہ جات سے متعلق ترتیب و سلیقہ سے الماریوں میں لگی کتب کا مشاہدہ لائبریری منتظمین کی کتابوں سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مطبوعات کے علاوہ یہاں مخطوطات کا بھی ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ مشاہیرِ تاریخ کے تصویری خاکوں، یاد گار دستاویزات،خطاطی کے نمونوں سے دیواریں آراستہ ہیں۔جن میں غازی علم الدین شہید پر قائم ہونے والی فردِ جرم کی نقل بھی موجود ہے۔ مسعود احمد جھنڈیر ریسرچ لائبریری کے مرکزی یونٹ کی عالیشان عمارت ہارٹی کلچر، راہداریاں دعوتِ نظارہ دیتی ہیں۔

لائبریری میں اس وقت دو لاکھ 35 ہزار سے زیادہ کتب، ایک لاکھ 25 ہزار سے زیادہ رسائل اور چار ہزار 50 مخطوطات موجود ہیں۔ اِن میں چار ہزار سے زائدقلمی کتابیں ہیں۔ تقریباً پانچ سو برس پرانا ایک قلمی قرانِ مجید بھی اِس لائبریری کی زینت ہے۔یہاں قرآن پاک کے 1153نسخے ہیں۔ دس پارے ساڑھے تین فٹ لمبے اور ڈھائی فٹ چوڑے صفحات پر لکھے گئے ہیں۔ جن کا وزن سو کلو گرام ہے۔ سونے کے تاروں سے لکھا قرآن پاک بھی موجود ہے۔ ان میں نوے فیصد کتابیں خریدی گئی ہیں جبکہ دس فیصد کتابیں مختلف لوگوں کی طرف سے تحائف کی صورت میں دی گئی ہیں۔

یہاں تحقیقی کام کے لئے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے اجاگر کیا جاتا ہے۔ میڈیا کے اداروں میں انٹرویوز اور ڈاکومنٹریز جاری رہتی ہیں۔ لائبریری کے ایک بڑے ہال کمرے میں اُن اشیا کو محفوظ کیا گیا ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ متروک ہورہی ہیں۔جن میں برتن، گھروں میں استعمال کی اشیا، موسیقی کے آلات، قدیم ٹیلی فون سیٹ، بیلوں سے کھیت میں چلایا جانے والا ہل، تنور، پنگھوڑا،لسی بنانے والی مدھانی، غرض انسانی استعمال کی بہت سی چیزیں وہاں رکھی ہیں، جو متروک ہو چکی ہیں یا ہونے والی ہیں۔

یہاں پر شہری سہولیات مثلاََ بجلی،بنک،زیر زمین سیوریج،پختہ گلیاں، ڈاکخانہ، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول، گورنمنٹ بوائز سکول، پنجاب ووکیشنل انسٹیٹیوٹ،دو ہسپتال،پختہ سٹرکیں،واٹر فلٹر پلانٹ،پوسٹ آفس،سڑیٹ لائٹ، ٹیلیفون ایکسچینج،پبلک ٹرانسپورٹ وغیرہ میسر ہیں۔محکمہ واپڈا نے میلسی کے ایک سب ڈویژن کا نا م ”سردار پور جھنڈیر“اور ایک فیڈر کا نام ”سردار جھنڈیر“رکھا ہے پاکستان ریلوے نے ریلوے سٹیشن آرے واہن کا نا م بدل کر سردار جھنڈ یررکھا۔پی ٹی سی ایل نے انٹرنیٹ اورآپٹک فائبر کی سہولت میسر کی۔ جھنڈیر برادران کی محنتوں اور کوششوں سے حکومت نے قصبہ کو دوسرے شہروں سے ملانے کے لئے سڑکیں دیں۔یہ سہولتیں جھنڈیر برادران کی کتاب دوستی اور روشن خیالی کے باعث میسر ہیں۔

1990ء کی بات ہے کہ کتب بینی اور مطالعہ کے شوقین میرے ہم شہر ایک ملنگ نما دوست محمد عبدالمالک فاروقی کے پاس آنا جانا تھا۔ان کے ہاں ایک دن ایک پُروقار شخصیت کو جلوہ افروز پایا۔سلام دعا کے بعد فاروقی صاحب کے بتانے پر معلوم ہوا کہ یہ شخصیت مسعود جھنڈیر ریسرچ لائبریری کے مالک میاں مسعود احمد جھنڈیر ہیں۔ لائبریری کی شہرت کے بارے میں سُن رکھا تھا۔میں حیرانی سے تہبند میں ملبوس اس سرائیکی شخصیت کو دیکھتا اور کبھی لائبریری کی شہرت پر خیال چلا جاتا۔پھر وقتاً فوقتاً فاروقی صاحب کے پاس ملاقات کا سلسلہ جاری رہا۔بات ہمیشہ کتابوں یا کتابوں میں لکھی عبارتوں پر ہوتی۔میاں مسعوداحمد جھنڈیر کمال یاداشت کے مالک ہیں ان ہر بات حوالے اور ثبوت کے ساتھ ہوتی۔پہلی مرتبہ فاروقی صاحب کے ساتھ ہی جھنڈیر لائبریری میں جانے کا شرف حاصل ہوا اور شہرت سے کہیں زیادہ پایا۔الرّحیم ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن دھنوٹ کے زیرِ انتظام شاکر شجاع آبادی کی شاعری پر مبنی کتا ب”امن کائنی تاں کجھ کائنی“ پرنٹ ہوئی تو اسے ناچیز نے جھنڈیر ریسرچ لائبریری میں بطور عطیہ دینا ضروری سمجھا۔

ہر سال سینکڑوں ملکی و غیر ملکی دانشور، سکول، کالجز اور یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور طلبہ ادبی و دیگر نامور شخصیات اس لائبریری کا دورہ کرتی رہتی ہیں۔محققین سرائیکی،پنجابی، ہندی،جرمن وانگریزی سمیت 20 مختلف زبانوں میں استفادہ کر رہے ہیں۔ماہانہ ہزاروں افراد یہاں وزٹ کرتے ہیں اور ایک ماہ میں 200 سے زائد ریسرچر یہاں ہوسٹل میں قیام کرتے ہیں۔اپریل2018ء میں شیخ محمد عظیم حاصلپوری کی قیادت اور چوہدری نوید اینڈ برادرز کے ہمراہ مدینہ یونیورسٹی سعودی عرب کے طلباء مسعود جھنڈیر ریسرچ لائبریری کا وزٹ کر چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: حُسن کےلمحات

یہ لائبریری پرائیویٹ ہونے کو باوجود پبلک ریسر چ لائبریری کی تمام ضروری تحقیقی خدمات سرانجام دینے کے ساتھ ساتھ بُک کلچر یعنی کتب بینی کے فروغ و ترویج میں نمایا ں کردار ادا کر رہی ہے۔اب اس سے ملکی و غیر ملکی محققین کو ضروری سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔

منتظمین تمام مالی مشکلات کے باوجود اس قدیم ادارے کے علمی سفر میں پیش رفت کر رہے ہیں ملکی وبین الاقوامی الیکڑانک و پرنٹ میڈیا اس لائبریری کی تحقیقی میدان میں خدمات کو سراہتا رہتا ہے۔بے شمار مقامی اور غیرملکی رسائل، اخبارات ریڈیواور ٹی وی چینل نے انٹرو یوودستاویزی پروگرام برا ڈکاسٹ/ٹیلی کاسٹ کئے ہیں۔خصوصََا بی بی سی لندن اور ایرانی ریڈیووٹی وی نے میاں غلام احمد اور میاں مسعود احمد جھنڈیر کے انٹرویوزنشر کئے ہیں۔

مختلف محکموں نے لائبریری کی اہمیت کے پیش نظر اور ”علم و کتاب“ کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔لائبریرین غلام رسول قلندری کی بحیثیت لائبریرین کارکردگی قابلِ تحسین ہے۔ ایک انگریز فلاسفر کا قول ہے کہ اگر کسی علاقے کو تمدنی اور معاشی طور پر ترقی یافتہ بنانا ہو تو وہاں کتب خانہ قائم کر دینا چاہیے۔بلاشبہ اس فلاسفر نے سمندر کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔ اگر اس قول پر اربابِ اختیار اور صاحبِ استطاعت لوگ عمل پیرا ہوں تو کچھ ہی عشروں میں ہم علمی تحقیقی اور ادبی لحاظ سے یورپ کے ہم پلہ ہو سکتے ہیں۔

گرچہ تحقیق کی اہمیت کبھی کم نہ ہوگی مگر نوجوانوں کے پاس اوّل تو لائبریری جانے کا وقت نہیں ہوتا۔ وہ فیس بک، وٹس ایپ اور اسی قسم کی دیگر سرگرمیوں میں مسلسل مشغول نظر آتے ہیں۔دوسرا یہ کہ سرسری معلومات انہیں اب انٹر نیٹ سے بھی دستیاب ہو جاتی ہیں جس کی وجہ سے کتاب کی تلاش میں لائبریری تک کا سفر ہر کوئی نہیں کرتا۔ آئی ٹی کی برق رفتار ترقی نے نوجوانوں کو مطالعہ سے دور کردیا ہے۔مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا چاہے جتنی ترقی کر جائے لیکن کتاب کی اہمیت اپنی جگہ موجود ہے۔

سرور علم ہے کیف شراب سے بہتر
کوئی رفیق نہیں ہے کتاب سے بہتر
(پیرزادہ عاشق کیرانوی)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں