65

احساس کفالت پروگرام کے نام پر عوام کی توہین … شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: مقصود بٹ
لودھراں

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن میں رہنے والے بیروزگار افراد کی مدد کے لیے احساس کفالت کے تحت مستحق خاندانوں کو فی خاندان 12000 روپے امدادی رقم دینے کا احساس کفالت پروگرام کے نام سے منصوبہ شروع کیا ھوا ہے۔ جس کے تحت غریب عوام کو رقوم کی تقسیم کے لئے مختلف مقامات پر کفالت سنٹرز قائم کیے گئے ہیں۔

پیر کے روز جب امدادی رقوم لینے کے لئے آنے والوں کو درپیش مشکلات کے بارے میں میں معلومات حاصل کرنے کے لئے گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین لودھراں میں قائم کفالت سنٹر کا وزٹ کیا تو سینکڑوں کی تعداد میں مرد و خواتین اندر موجود تھے۔حکومتی احکامات کے باوجود ذمہ داروں کی طرف سے کسی قسم کے ایس او پیز پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا تھا۔ایک کرسی پر دو دو خواتین بھی بیٹھی نظر آئیں۔ اور جگہ نہ ہونے کی وجہ سے کئی خواتین فرش پر بیٹھی اپنی باری کا انتظار کر رہی تھیں۔اور اتنے بڑے ہجوم کے لیے صرف ایک شخص کو ڈیوائس دے کر رقوم کی ادائیگی کے لیے بٹھایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کرونائی عید سادگی سے منائیں

لوگوں نے الزام لگایا کہ رقم دینے والے کی نگرانی کے لیے جس شخص کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ وہ اپنے من پسند افراد کو نوازنے میں مصروف ہے۔اس سلسلہ میں وہاں پر امدادی رقوم کے لئے آئے ہوئے افراد جن میں ضعیف العمر اور معذور افراد بھی شامل تھے فروزاں بی بی۔ پروین بی بی۔ ظہوراں بی بی۔زینب بی بی۔ محمدصدیق۔ سرداراں مائ۔حاجی محمد رمضان۔نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک تو ہم غربت کے ہاتھوں مجبور ہیں۔ دوسری طرف وزیراعظم نے ہماری مالی امداد کے لیے احساس کفالت کے نام سے پروگرام شروع کیا ہے۔ لیکن رقوم کی ادائیگی کا نظام اس قدر ناقص ہے کہ کفالت سینٹر میں آنے والوں کی مختلف بہانوں سے انتہائی توہین کی جاتی ہے۔

رقم کی منظوری کا میسج ملنے کے بعد جب کفالت سنٹر پہنچتے ہیں۔اور گھنٹوں قطار میں لگنے کے بعد جب باری آتی ہے تو رقم دینے والا اپنی جان چھڑانے کے لیے فنگر پرنٹ میچ نہ ہونے کا اعتراض لگا کرلوگوں کو چلتا کر دیتا ھے۔اور اسے یہ کہا جاتا ہے کہ نادرا آفس سے دوبارہ تصدیق کروائیں۔ نادرا آفس سے تصدیق کروانے کے بعد بھی کئی کئی روز تک ذلیل و خوار کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حُسن کے لمحات

کئی افراد نے یہ بھی بتایا کہ وہ 20/25 روز سے چکر لگا رہے ہیں. اور اس وقت سینکڑوں کی تعداد میں امدادی رقوم لینے والے افراد موجود ہیں۔ مگر رقم دینے کے لیے صرف ایک آدمی کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔اور اس کی نگرانی کے لئے جس شخص کو بٹھایا گیا ہے۔ وہ اپنے من پسند افراد کو بلا کر ان کے شناختی کارڈ لے لیتا ہے باقی انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں۔انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ غریب عوام کو ذلیل کرنے کی بجائے مالی امداد کی رقم دینے کا طریقہ کار آسان بنایا جائے۔اور کفالت سینٹرز پر عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرنے والے ذمہ داران کے خلاف بھی سخت ایکشن لیا جائے۔

عوامی شکایات پر جب اسسٹنٹ کمشنر کلیم یوسف کو آگاہ کیا تو انہوں نے تحصیلدار طاہر عباس خان کو کفالت سینٹر بھیجوایا جس نے موقع پر آکر تمام تر صورت حال جاننے کے بعد اسسٹنٹ کمشنر کو فون پر آگاہ کیا۔اس سلسلہ میں جب احساس کفالت پروگرام کے فوکل پرسن اسسٹنٹ ڈائریکٹر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سلیم جاوید بھٹی سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ آج ہفتہ کا پہلا دن ہے۔ اس کے بعد رقوم دینے والے افراد کی تعداد بڑھا دی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں