78

‎کرونائی عید سادگی سے منائیں۔۔۔ شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: ڈاکٹرعبدالواجد خان

‎قارئین وفاقی حکومت کی ہدایات پر پورے ملک میں لاک ڈائون میں نرمی کے بعد کاروباری سرگرمیوں کا آغاز ہو چکا ہے اور دیکھنے میں آرہا ہے کے عوام اور کاروباری طبقے کی اکثریت مطلوبہ احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے نظر نہیں آ رہے۔ہمارے مخصوص ملکی و معاشرتی کلچر میں یہی توقع کی جارہی تھی اور اس امر کا حکومت کو بھی بخوبی علم تھا۔

اسی پس منظر میں وفاقی مشیر صحت ڈاکٹر ظفرمرزا اور وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر کے بیانات کہ عوام کو ذیادہ دیر لاک ڈائون میں نہیں رکھا جاسکتااور اب ان کے اندر کرونا کیخلاف قوت مدافعت پیدا کرکے انہیں کرونا کے ساتھ رہنا کیلئے تیار کرناہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: لاک ڈاؤن میں نرمی ۔ سیاسی جوا

اس اہم بات کا عندیہ دے رہی ہے کہ حکومت لاک ڈائو ن نرم کرکے جہاں معاشی و سیاسی اہداف حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے وہاں کرونا سے لڑنے کیلئے اب عوام میں کورونا کیخلاف ہرڈ اییمیونٹی پیداکرنےکی حکمت عملی اپنانے جارہی ہے تاکہ عوام کی اکثریت میں کرونا کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرکے اس وباکو کنٹرول کیا جاسکے۔

اور اس طرح سے لاک ڈائون بھی دوبارہ نہ کرنا پڑے اور معمول کی معاشی سماجی اور معاشرتی زندگی کا پہیہ کچھ ضروری احتیاطوں کے ساتھ چلنا شروع ہو جائے۔یہ حکمت عملی کس حدتک کامیاب ہوگی اسکا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کریگا تاہم اس سلسلے میں ایک ملک کی مثال آپ کے سامنے رکھنا چاہوں گا جس نے کرونا سے نمٹنے کیلئے شروع سے ہی اس پالییسی کو اپنایا۔

جب کرونا سے لڑنے کیلئے پوری دنیا کے ممالک لاک ڈاون،سماجی فاصلے، گھروں میں رہنے اور دیگر احتیاطی تدابیر اپنانے کی پالیسی پر عملدرآمد کرانے کیلئے کوشش کررہے تھے اسی وقت دنیا کا ایک ملک سویڈن کرونا سے بچاؤ کیلئے اسکے بلکل برعکس حکمت عملی پر عمل پیرا تھا۔ سویڈن کی حکومت نے چند سائنسدانوں کے مشورے پر عوام میں کورونا کیخلاف ہرڈ اییمیونٹی(Herd Immunity) پیدا کرنے کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے نہ ہی لاک ڈان کیا اور نہ ہی عوام کو سماجی فاصلے ،گھروں میں رہنے اور دیگر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا کا سب سے بڑا پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت چلنے والا تعلیمی منصوبہ ( پیف) مسائل سے دوچار

ایلیمنٹری ،مڈل سکول،بار،ریسٹورنٹس حتی کہ نائٹ کلبزبھی کھلے رکھے گئے۔سویڈن کی عوام کی بڑی اکثریت نے اسے خوب سراہا۔ہرڈ اییمیونٹی (Herd Immunity)دراصل وہ حکمت عملی ہے جسکے تحت کسی آ بادی کی70 سے80 فیصدحصے میں وائرس کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرکے وبا کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اس حکمت عملی کے نتیجے میں تقریبا ایک کروڑ بیس لاکھ کی آبادی کے اس ملک میں 12مئی تک اپنے پڑوسی ممالک کی نسبت بہت ذیادہ 3,256اموات اور 26,670متاثرہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جبکہ اس کے پڑوسی ممالک ناروے میں 224اموات اور8,132متاثرہ افراداور فن لینڈ میں 265اموات اور 5,880متاثرہ افرادرپورٹ ہوئے ہیں۔

اسی طرح برطانیہ نے بھی آغاز میں کسی حد تک اس پالیسی کو اپنایا جس کے نتیجے میں وہاں بھی اموات کی تعداد بہت بڑھ گئی۔سویڈن کی اس پالیسی کو ملکی انوائرولوجسٹس اور اییمیونٹیس اور دنیا نے ہدف تنقید بنایا۔تاہم بعد ازاں دونوں ممالک سویڈن اور برطانیہ کو لاک ڈائون کی پالیسی کو اپنانا پڑا۔

پاکستان میں بھی اعداوشمار بتارہے ہیں کے لاک ڈان میں نرمی کے نتیجے میں متاثرہ افراد اور شرح اموات میں اضافہ ہونے جا رہا ہے تاہم لاک ڈائون میں نرمی کے واضح اور حتمی نتائج تو اگلے دو ہفتوں تک ہی سامنے آنا شروع ہوں گے اور یہ طے کیا جا سکے گا کہ حکومت کا عوام میں ہرڈ اییمیونٹی(Herd Immunity)پیدا کر کے کرونا سے لڑنے کا فیصلہ کس حد تک درست ثابت ہوا ۔

یہ بھی پڑھیں: علم کے فروغ میں لائبریریوں کا کردار

تاہم جن ممالک میں لاک ڈائو ن نرم کیا گیا ہے وہا ں سے آنے والی رپورٹس یہ بتا رہی ہیں کہ ان ممالک میں متاثرہ افراد اور ان کی اموات کی شرح میں اضافہ ہو ا ہے۔ حتیٰ کہ چین کے شہر ووہان، جرمنی اور چند دوسرے ممالک جہاں حکومتوں نے کرونا کی و باء پر قابو پانے کا دعوی کیا وہا ں سے بھی کرونا سے متاثرہ کیسزدوبارہ رپورٹ ہونے شروع ہو گئے ہیں اور ماہرین کے مطابق کرونا کی دوسری لہر ان ممالک کو متا ثر کر سکتی ہے جہا ں پیک آنے کے بعد لاک ڈائون میں نر می کی گئی۔

جبکہ پاکستان میں تو پیک آنا ابھی باقی ہے اور لاک ڈائون نرم کیا جا چکا ہے اور اس نرمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام اور کاروباری طبقات مطلوبہ SOP’s کی دھجیاں اڑا رہے ہیں ان حالات میں نتائج کیا ہو سکتے ہیں یہ تو واضح ہے ۔

عوام سے یہی اپیل کی جا سکتی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر فیملی کے ساتھ مار کیٹوں کا رخ نہ کریں۔ مجبوراًجانا پڑے تو احتیاطی تدابیر کا خیال کریں ۔ان حالات میں درست لا ئحہ عمل تو یہی ہو گا کہ عید کو سادگی سے منانے کیلئے اپنے آپ کو تیا رکریں اور لاک ڈائون کی نرمی میں غیر محتاط روایہ اختیار کرکے اپنی اور دوسروں کی جان کو خطرے میں نہ ڈالیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں