170

کرونا وار بمقابلہ پروپیگنڈا وار … شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: عبدالشکور حیدری ایڈووکیٹ
پی ایچ ڈی اسکالر (میڈیا اسٹڈیز)
ٹرینرپنجاب کمیشن آن دی سٹیٹس آف وومین (PCSW)

عوامی جمہوریہ چین کی حکومت اور عوام نے کرونا جیسی وبا سے بطریق احسن عہدہ برآ ہو کر ایک مہذب اور باوقار قوم ہونے کا زندہ ثبوت دیا ہے چینی حکومت نے انتہائی دیانت داری اور اخلاص کے ساتھ کرونا وائرس کے اسباب سے لڑ کر ملک و قوم کی اس وبا سے جان چھڑائی ہے چین کی عوام نے مخلصانہ حکومتی اقدامات پر عمل پیرا ہوکر اپنے آپ کو ایک شاندار قوم منوایا ہے جبکہ اس وبا نے جب پاکستان کا رخ کیا تو یہاں پر ساتھ ہی سیاسی وبا نے بھی جنم لے لیا ۔

پاکستان میں حکومتی اقدامات پر سیاسی جماعتوں کے نمائندگان نے ساتھ ہی سیاسی پوائنٹ سکورنگ بھی شروع کر دی۔ سندھ گورنمنٹ نے مناسب اقدامات اٹھا کر خاطر خواہ کامیابی حاصل کی ۔ دوسرے صوبوں کی حکومتیں پہلے سندھ حکومت کے اقدامات پر تنقید کرتی رہی ازاں بعد ان اقدامات کی پیروی شروع کر دی۔ اچھے اقدامات کی پیروی مثبت عمل ہے اور قابل صد تحسین ہے ۔ لاک ڈاؤن کا فیصلہ ہوا تو تمام کاروباری حلقوں نے اس پر عملدرآمد کیا ۔ تعلیمی اداروں، عدلیہ اور دیگر محکمہ جات میں چھٹیاں کر دی گئیں گئیں۔ پہلی بار ایک مثبت اور لائق ستائش پہلو سامنے آیا ہے کہ تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے دینی مدارس نے بھی سرکاری حکم پر لبیک کہا اور ادارے بند کر دیے۔

نماز کے حوالے سے بھی حکومتی احکامات کی پابندی کی ۔ دینی جماعتوں نے اپنے تمام اجتماعات منسوخ کردیے اجتماعات کے خاتمے کا اعلان سب سے پہلے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کیا یہاں تک کہ اپنے رضاکار بھی حکومت کو دینے کی پیشکش کی۔ جماعت اسلامی اور دیگر دینی جماعتوں نے بھی بڑھ چڑھ کر آگاہی مہم اور فلاحی کاموں میں حصہ لیا۔ باقی دینی جماعتوں جن میں تبلیغی جماعت شامل ہے نے بھی اپنے اپنے اجتماعات اور جلسے فی الفور منسوخ کر دیئے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس اور اس کی آگاہی کمپین میں استعمال ہونے والے پیغامات

اسی دوران حکومتی وزیر سید ذوالفقار بخاری عرف زلفی بخاری پر مبینہ الزام عائد ہوا کہ ان کے احکامات پر ایران سے واپس آنے والے زائرین کو بارڈر پر کرنتینہ کرنے کی بجائے گھروں کی طرف واپس آنے دیا گیا۔ یہی بدانتظامی پاکستان میں کرونا کے پھیلاؤ کا سبب ثابت ہوئی اس امر کو مشیر صحت ظفر مرزا اور مشیر اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بھی اپنی میڈیا بریفنگ کے دوران تسلیم کیا کہ پاکستان میں کرونا کا سب سے بڑا سبب ایران سے آنے والے زائرین بنے ہیں۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے مطابق 49% کرونا ایران سے آنے والے زائرین کی وجہ سے پھیلا جبکہ حکومت اور حکومتی بہی خواہوں نے اس بد انتظامی کو تسلیم کرنے اور اس پر قابو پانے کی بجائے اس پر دلائل دینا شروع کر دیے اور اس کا توڑ ڈھونڈ نے پر لگ گئے۔

آخرکار توڑ ڈھونڈ نکالنے میں کامیاب ہوگئے گئے اور تبلیغی جماعتوں کی پکڑ دھکڑ شروع کر دی اور میڈیا پر شورشروع کر دیا کہ کرو نہ تبلیغی جماعتوں کی وجہ سے پھیلا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ بیرون ممالک سے پاکستان آئے ہوئے مہمانوں کے ساتھ اس حد تک بدسلوکی کی گئی کہ انہیں ہتھکڑیاں لگا کر تھانوں میں بند کر دیا گیا اور ان پر تشدد بھی کیا گیا ۔ ایک لمحہ کے لیے مان لیتے ہیں کہ تبلیغی جماعت والوں میں کرونا کے مریض ہیں تو کیا مریضوں کا علاج کرنے کا یہی طریقہ ہے کہ ہتھکڑیاں لگا کر تھانوں میں بند کیا جائے اور ان سے بدسلوکی کی جائے۔

مولانا فضل الرحمن اور ختم نبوت نے اس عمل کی شدید مذمت کی ۔ شاید میں فضل الرحمن کی بات پر ہم مسلک ہونے کی بنا پر اعتبار نہ کرتا کہ وہ سیاست مخالفت کی بنا پر تبلیغی جماعت کے ساتھ بدسلوکی کرنے کا الزام لگا رہے ہوں لیکن جب دوسرے سیاسی رہنماؤں نے بدسلوکی اور تشدد کی مذمت کی تو مجھے یقین ہوگیا کہ واقعی کچھ غلط ہو رہا ہے ۔ پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال نے بھی تبلیغی جماعت کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کی مذمت کی۔

یہ بھی پڑھیں: کیا ہم واقعی کورونا وائرس سے لڑنا چاہتے ہیں؟

حکومتی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کے رہنما اور سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی نے تو باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا اور میڈیا کے لئے اپنا ویڈیو بیان جاری کیا جس میں انہوں نے انتہائی سخت الفاظ میں تبلیغی جماعت کے ساتھ ہونے والی اس بدسلوکی کی مذمت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس بد سلوکی میں ملوث ہونے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے کیونکہ تبلیغی جماعت ایک پر امن جماعت ہے ۔تبلیغی جماعت والے پوری دنیا میں پاکستان کے سفیر کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

کرونا کے خلاف جو بھی اقدامات ہورہے تھے تمام طبقات نے بالعموم اور مذہبی حلقوں نے بالخصوص ان احکامات پر عمل کیا ۔جب کہ حکومتی رویہ اس کے برعکس ثابت ہوا۔ اور حکومتی صفوں میں موجود لوگوں نے اپوزیشن کا کردار ادا کیا۔ صرف ایک مشیر کی نااہلی کو چھپانے کے لیے غلط اقدامات کیے گئے۔ حکومت کو چاہیے کہ تنقید کو مثبت انداز میں لے کر اس پر عمل کر کے اچھے نتائج حاصل کرے نہ کہ انا، ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم رہ کر کرونا کے خلاف جیتی ہوئی جنگ کو خدانخواستہ ہار میں تبدیل نہ کرے۔ عمران خان صاحب اس جنگ میں پوری قوم آپ کے ساتھ ہے اور ساتھ رہے گی ۔ انشاء اللہ جلد ہم کرونا کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کرلیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں