220

دیر نہ ہو جائے … شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: علاؤالدین ہاشمی
قطب پور

کوووڈ -19 یعنی کورونا وائرس اب تک دو سو سے زائد ممالک کو متاثر کرچکا ہے۔ دس لاکھ سے زائد متاثرہ مریض جبکہ 54ہزار سے زائد اموات رپورٹ ہو چکی ہیں جو بلاشک ایک الارمنگ صورتحال ہے۔تمام ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے اس کے پھیلاؤ کوروکنے کی سعی کر رہے ہیں اور کرنا بھی چاہیے کہ کہیں دیرنہ ہوجائے.

ایسی ہی ایک کوشش سوشل ڈسٹنس یعنی معاشرتی فاصلہ بھی ہے جس کے خاطر خواہ نتائج بھی سامنے آرہے ہیں۔لیکن دوسری طرف اس میں نقصانات بھی مضمرہیں۔فوائد کی بات کریں تو بلا شبہ کورونا کے پھیلاؤ میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے اور وائرس سے پاکستان میں اتنے زیادہ لوگ متاثر نہیں ہوئے جتنے دیگر ممالک میں اس اسٹیج پر ہو چکے تھے۔

اگر ابتدا میں ملکی سرحدیں لاک ڈاؤن کی جاتی تو اندرونی لاک ڈاؤن سے بچا جا سکتا تھا۔مگر ہم نے فیصلہ کرنے میں دیر کی جس سے وائرس کو اندر پہنچنے میں مدد ملی وگرنہ ہم اس سے محفوظ رہ سکتے تھے کیونکہ یہ وائرس مقامی نہیں تھا بلکہ اسے امپورٹ کیا گیا ہے۔غلطی کس سے ہوئی؟کوتاہی کا کون مرتکب ہوا؟یہ ایسے سوال ہیں جن کی جواب طلبی ہونا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا ہم واقعی کورونا وائرس سے لڑنا چاہتے ہیں؟

لاک ڈاؤن کی وجہ سے تمام ممالک کی معیشت بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ترقی پذیر ممالک تو کسی نہ کسی طرح اس صورتحال پر قابو پالیں گے لیکن ترقی پذیر ممالک کے لئے صورتحال بہت کٹھن ثابت ہونے والی ہے۔بات کریں مملکت خدا داد کی تو ہم ترقی پذیر ممالک کی لسٹ میں بھی کہیں بہت نیچے آتے ہیں۔جس کی آدھے سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر کے نیچے زندہ ہے۔ہم اس طویل لاک ڈاؤن میں بغیر امداد کے کیسے زندہ رہ سکتے ہیں؟یہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے جس کا جواب تا حال ہمارے حکمران تلاش کر رہے ہیں۔

لاک ڈاؤن چلتے دو ہفتے سے اوپر ہو چکا لیکن ابھی تک ہمارے بہترین دماغ والے منصوبہ ساز یہ فیصلہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے کہ ضرورت مندوں کو امداد کیسے بہم پہنچا ئی جائے جبکہ تاحال صرف اعلانات کر کے ڈھارس دینے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔ حکوت ہوش کے ناخن لے کہیں دیر نہ ہوجائے.
کبھی ایک کبھی دوسرااور کبھی تیسرا طریقہ کار اپنانے کی ہدایات دی جاتی ہیں لیکن امداد اور راشن ابھی تک ضرورت مندوں تک نہیں پہنچ سکا۔جبکہ عوام جن کی اکثریت غیر تعلیم یافتہ ہے خود کو فارمز یا موبائلز کے ذریعے رجسٹرڈ کروانے کی اہلیت نہ ہونے کے باعث موقع پرستوں کے ہاتھوں لٹتے رہے اور موقع پرست مرے کو ماریں شاہ مدار کے مصداق اپنی جیبیں گرم کرتے رہے۔

یہ وقت نت نئے تجربات کرنے کا نہیں ہے کیونکہ صورتحال سنگینی کا رخ اختیار کرنے لگی ہے۔اگر حکومت ضرورت مند کی مدد کرنے میں مخلص ہے تو بجائے کوئی نئی فورس بنانے میں وقت ضائع کرنے کے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ہیلتھ ورکرزاور سکول ٹیچرز کو اس کام کے لئے استعمال کر سکتی ہے۔ انتہائی ضرورت مند طبقہ پہلے سے ہی گزشتہ دنوں کئے جانے والے آن لائن خوشحٓالی سروے کے ذریعے گورنمنٹ کے پاس رجسٹرڈ ہے جو بی آئی ایس پی یا دیگر پروگرامز میں پہلے سے شامل ہیں ان تک امداد فوری طورپر پہنچا ئی جاسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس اور اس کی آگاہی کمپین میں استعمال ہونے والے پیغامات

دیگر لوگوں تک ووٹر لسٹوں اور نادرا کے ڈیٹا بیس سے مدد لے کر امداد پہنچائی جاسکتی ہے کیونکہ موجودہ صورتحال میں ہر پاکستانی ہی ضرورتمند ہے کیونکہ دیہاڑی دار مزدور اور چھوٹے دکاندار جو روزانہ کی بنیاد پر روزی کماتے تھے گزشتہ دو ہفتے سے گھروں میں قیداپنی جمع پونجی ختم کر چکے ہیں اور ان کے معاشی اور مالی حالات سنگین ہوتے جا رہے ہیں اندیشہ ہے کہ ان کی زندگی کے لئے کورونا سے زیادہ بھوک خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

اس سے پہلے کہ حالات کشیدہ ہوں اور دیر ہو جائے حکومت کو ضرورت مندوں تک راشن اور امداد پہنچانے کے لئے کوئی منظم میکنزم ترتیب دینے میں جلدی کرنا ہوگی کیونکہ انسان خود بھوک برداشت کر سکتا ہے مگر اپنے بچوں کو بھوک سے تڑپتاہوا نہیں دیکھ سکتا۔ اس سلسلے میں عملی اقدامات کی ضرورت ہے ایسا نہ ہو کہ دیر ہوجائے.

اب تک عوام میں اتنا شعور بیدار ہو چکا ہے کہ وہ اس مہلک وائرس سے بچاؤ کے لئے حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں لہٰذا لاک ڈاؤن میں نرمی کی طرف جانا چاہئے اور دن کے کچھ مخصوص گھنٹے حفاظتی اصولوں کو مدنظر رکھ کر معاشرتی فاصلے کا خیال رکھتے ہوئے بازار کھولنے کی اجازت دینا چاہئے تاکہ سفید پوش طبقہ جو ہاتھ نہیں پھیلا سکتا کم سے کم اتنا کما سکے کہ اپنے خاندان کاپیٹ پال کر بھوک کے عفریت کو قابو کرسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں