34

کورونا وائرس کے باعث پاک افغان سرحد 32 ویں روز بھی بند

چمن (ویب ڈیسک) كورونا وائرس كے باعث پاک افغان سرحد کو بند ہوئے آج 32 دن ہوگئے ہیں جس كے وجہ سے نیٹو سپلائی سمیت پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ بھی بند ہے اور روزانہ كے بنیاد پر ریونیو جمع نہ ہونے سے كروڑوں روپے كا قومی خزانے كونقصان پہنچ رہا ہے۔

عالمی وباء كورونا وائرس كے خطرے كے پیش نظر پاک افغان سرحد 32 ویں روز بھی بند ہے جس كے وجہ سے نیٹو سپلائی سمیت پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اورمقامی تاجروں كے سینكڑوں لوڈ ٹرک اب بھی راستے میں پھنسے ہوئے ہیں اور پیدل آمد و رفت بھی دونوں جانب سے مكمل طور پر سیل ہے.

سرحد كی بند ش كے وجہ سے قبائل ، تاجر برادری اور مسافر شدید پریشانی كے عالم میں ہیں اور پاک افغان سرحد پر تجارت سے وابسطہ چھوٹے تاجر نان شبینہ كے محتاج ہوكر رہ گئے۔

کورونا سے متعلق عالمی اعداد وشمار بتانے والی ویب سائٹ کے مطابق افغانستان میں 239 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جبکہ اموات کی تعداد 4 ہے.
دوسری جانب ٹرانزٹ ٹریڈ كے لوڈ ٹركوں كے زیادہ دنوں تک رکنے كے وجہ سے كلیئرنس ایجنٹس اور تاجروں كو كروڑوں روپے كا ڈیمرج كے مد میں نقصان پہنچ رہا ہے اور اس كے ساتھ ساتھ روزانہ كی بنیاد پر ریونیو جمع نہ ہونے سے كروڑوں روپے كا قومی خزانے كونقصان پہنچ رہا ہے۔

چمن كے مقامی تاجروں اور كلیرنگ ایجنٹس نے وزیر اعظم پاكستان سے ہمدردانہ اپیل كرتے ہوئے كہا كہ پاک افغان سرحد پر گزشتہ ایک مہینے سے پھنسے ہوئے تاجروں كے لوڈ ٹركوں اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ كو واپس بحال كرنے كے احكامات صادر فرمائیں كیوں كہ یہ ٹرک پاک افغان سرحد پر ہی انلوڈ ہوتے ہیں جس كے وجہ سے كوئی بھی خطرہ پاكستان كو نہیں پہنچتا اس لئے مقامی پاكستان تاجروں كو نقصان سے بچایا جائے۔

واضح رہے کہ اب تک پاکستان میں کورونا سے 31 افراد جانبحق ہو چکے ہیں جبکہ مجموعی کیسز کی تعداد 2291 ہو چکی ہے. یہ بھی پڑھیں..

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں