42

نگر میں ہنگامی بنیادوں پر سکریننگ لیب کا قیام عمل میں لایا جائے: وزیراعلیٰ

گلگت (ویب ڈیسک) وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے صوبائی سیکریٹری صحت کو ہدایت کی ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر نگر میں سکریننگ لیب کا قیام عمل میں لایا جائے۔ حکومت چین کی جانب سے کرونا وائرس سے متعلق ملنے والے طبی آلات اور مشینری کا سٹاک جی بی ڈی ایم اے میں رکھا جائے۔ تمام اضلاع کو ڈیمانڈ کے مطابق فراہم کیاجائے۔

کرونا وائرس اور محققین میں راشن کی تقسیم کے حوالے سے منعقدہ اجلاس میں ہدایات جاری کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اداروں کے مابین کوآرڈنیشن کو بہتر بنایا جائے۔ تمام ہسپتالوں میں ڈیوٹی پر معمور ڈاکٹرز کو میڈیکل پروٹیکٹیو کٹس فراہم کئے جائیں اورموجودہ حالات کے تناظر میں خصوصی ایس او پی مرتب کی جائے جس کے تحت مریضوں کا چیک اپ کیا جائے۔ صوبے کے کسی بڑے ہسپتال کی او پی ڈی بند نہیں ہونی چاہئے۔

تمام ہسپتالوں کے ایمرجنسی نمبرز کو بروقت جواب (Response) کو یقینی بنایا جائے۔ صوبے میں کام کرنے والے مختلف فلاحی اور خیراتی اداروں کے مابین کوآرڈنیشن کا نظام وضع کیا جائے ۔ لاک ڈائون کی وجہ سے پیدا صورتحال کے تحت مستحق خاندانوں کو راشن کی فراہمی کا عمل جلد شروع کیاجائے۔وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ حکومت گلگت بلتستان صوبے میں گندم کی کمی نہیں ہونے دے گی۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان کے دس اضلاع میں قرنطینہ سنٹر قائم

دوسری جانب وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن اور چیف سیکریٹری گلگت بلتستان خرم آغا نے وزیر اعظم پاکستان کے زیر صدارت ہونے والی نیشنل کوآرڈنیشن کمیٹی کے اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ صوبے میں آنے والے تمام زائرین کی سکریننگ کو یقینی بنایا گیا ہے اور قرنطینہ سنٹرز میں رکھا گیا ہے۔ جن میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے ان کو آئیسولیشن سنٹرز میں رکھا گیا ہے۔ صوبے میں کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ کی استعداد کار (Capacity) میں اضافہ کیا جارہاہے۔ آئندہ چند دنوں میں ایک دن میں 100لوگوں کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ ممکن بنایا جارہاہے۔

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ سنکیانگ حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی ریپڈ ٹیسٹنگ کٹس کے ذریعے ان علاقوں میں لوگوں کے ریپڈ ٹیسٹنگ لیبارٹریز قائم کی جارہی ہیں جہاں پر کورونا وائرس کے زیادہ کیسز ہیں۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ گلگت بلتستان کے طالب علم اور فیملیز ملک کے دیگر صوبوں میں موجود ہیں جو گلگت بلتستان آنا چاہتے ہیں۔ حکومت گلگت بلتستان دیگر صوبوں میں زیر تعلیم طالب علموں اور فیملیز کو گلگت بلتستان لانا چاہتی ہے۔ صوبہ سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کی حکومتوں کو ہدایت کی جائے کہ ان کو لانے کی اجازت دیں۔

صوبائی حکومت نیٹکو کے ذریعے ملک کے دیگر صوبوں میں موجود طالب علموں اور فیملیز کو گلگت بلتستان لائے گی جہاں پر ان کی سکریننگ کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے کا دورانیہ تقریباً چار مہینوں پر مشتمل ہوتا ہے جس کو مدنظر رکھتے ہوئے این ایل سی اور ایف ڈبلیو او کو ہدایت دی جائے کہ جو منصوبے این ایل سی اور ایف ڈبلیو او کے پاس ہیں ان منصوبوں پر کنٹرول انوارنمنٹ میں کام جاری رکھیں تاکہ صوبے میں جاری تعمیر و ترقی کا سفر متاثر نہ ہو۔

واضح رہے کہ اعداد وشمار کے مطابق دنیا بھرمیں اس وقت 9 لاکھ 36 ہزار سے زائد افراد کورونا کے شکار ہو چکے ہیں اور 47 ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں