42

مساجد میں اجتماعات پر پابندی، 5 سے زائد افراد نماز نہ پڑھ سکیں گے

پشاور(ویب ڈیسک) مساجد میں منعقد ہونے والے اجتماعات پر پابندی کی ہدایات جاری کردی ہیں اور کورونا وائرس کے سبب سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے لیے پانچ یا اس سے کم افراد کو نماز کی ادائیگی کی اجازت ہو گی۔

صوبائی ریلیف، بحالی اور اسیٹلمنٹ ڈپارٹمنٹ نے اعلامیہ جاری کیا ہے جس کے تحت کووڈ-19 کی وبا کے سبب تمام مکاتب فکر کے علما اور اسکالرز سے رائے طلب کی گئی جنہوں نے متفقہ طور پر فتویٰ جاری کیا کہ اگر طبی وجوہات کے سبب حکومت مناسب سمجھے تو وہ مسجد میں اجتماعی نماز ادا کرنے والوں کی تعداد کو محدود کرسکتی ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ صوبائی حکومت کو طبی ماہرین نے تجاویز دیں لہٰذا پہلے سے اعلان کردہ ایمرجنسی کے تحت مسجد کے نامزد کردہ امام، موذن اور خادم سمیت صرف پانچ یا اس سے کم افراد نماز ادا کر سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: اب ٹک ٹاک گرل بھی رمضان ٹرانسمیشن کرے گی؟

مساجد میں اجتماعات کی پابندی کے نوٹیفیکیشن کے مطابق دوسرے لوگ اپنے گھروں پر نماز پڑھیں گے اور یہ حکم فوراً نافذ العمل ہوگا اور اگلے احکامات تک تمام جماعتوں پر اطلاق ہوگا۔

گزشتہ ہفتے کے اوائل میں سندھ اور بلوچستان نے اجتماعی نمازوں پر پابندی عائد کردی تھی۔

علاوہ ازیں محکموں نے صوبے بھر میں ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ کو ایک ہدایت نامہ بھی جاری کیا ہے جس میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں خدمت اور سروسز کی فراہمی کے مقامات پر جسمانی فاصلے یقینی بنائیں۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ دیکھا گیا ہے کہ بینکوں اور سروس کی فراہمی کے دیگر مقامات کے سامنے رش تھا۔

یہ بھی کہا گیا کہ ‘جسمانی فاصلہ یقینی بنانے کے لیے آپ عملے کو تفصیل سے نشاندہی کریں تاکہ جہاں لوگ انتظار کرتے ہیں کہ وہاں باقاعدہ نشان لگا کر لوگوں کو کم از کم تین فٹ کے فاصلے سے کھڑا کریں اور پولیس کے ذریعے اس پر عملدرآمد یقینی بنائیں’۔

یہ بھی پڑھیں: لاک ڈاؤن کے باعث پاک افغان سرحد 32 ویں روز بھی بند

اس میں کہا گیا کہ بیچنے اور خریدنے والوں کی تعداد بھی کم سے کم رکھنے کی ضرورت ہے، محکموں نے صوبے بھر میں قرنطینہ میں موجود لوگوں کے کنبوں تک راشن کی فراہمی کے لیے میکانزم بھی جاری کردیا ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو محکمہ داخلہ کے توسط سے متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو قرنطینہ میں رکھے گئے افراد کا حتمی پتہ اور رابطے کی تفصیلات فراہم کی جائیں کیونکہ وہ ان کی رہائش گاہ پر کنبے کو پیکج کی فراہمی کا انتظام کرنے کے ذمہ دار ہیں۔

بٹگرام میں تحصیل میونسپل انتظامیہ نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مساجد اور مندروں میں جراثیم کُش اسپرے کا چھڑکاؤ بھی کیا۔

واضح رہے کہ گورنمنٹ کے اعداد وشمار کےمطابق پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد بتدریج بڑھتی جارہی ہے جس سے ہر طبقہ میں تشویش ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں