42

لاک ڈاؤن کا بڑا فائدہ، ماحولیاتی آلودگی کم ہونے سے اوزون کی تہہ میں بنا شگاف بھرنے لگا

نیویارک (ویب ڈیسک) ماہرین ماحولیات نے بتایا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث ہونے والے لاک ڈاؤن کے بعد سے اوزون کی تہہ میں بنا شگاف خود بہ خود بھرنا شروع ہوگیا۔

ماہرین کے مطابق کرونا وائرس کے بعد دنیا کے مختلف ممالک میں ہونے والے لاک ڈاؤن کی وجہ سے صنعتیں بند ہیں جس کی وجہ سے زہریلی گیس کا اخراج نہیں ہورہا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ زہریلی گیس پھیلانے والی لاکھوں فیکٹریاں بند ہونے سے زمین کو سانس لینا کا موقع مل گیا جس کی وجہ سے اوزون کی تہہ میں پڑنے والا شگاف خود بہ خود بھر رہا ہے۔

ماہرین نے “مونٹریال پروٹوکول” کو اوزون کی تہہ کی بحالی کا نتیجہ قرار دیا ہے، مونٹریال پروٹوکول ایک پروگرام کا نام ہے جس میں اوزون کو بری طرح نقصان پہنچانے والی زہریلی گیسز کے کم استعمال کے عزم کا اظہار کیا گیا تھا۔

ماحولیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین کو زندہ رکھنے کے لیے ابھی ہمیں مزید مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔

خیال رہے کہ اوزون ایک تہہ ہے جو سورج سے نکلنے والی تابکار شعاعوں کو نہ صرف زمین تک پہنچنے سے روکتی ہے بلکہ زمین پر اس کے نقصان دہ اثرات کا خاتمہ بھی کرتی ہے۔

اوزون کی تہہ کا 90 فیصد حصہ زمین کی سطح سے 15 تا 55 کلومیٹر اوپر بالائی فضا میں پایا جاتا ہے۔

ماحولیات پر نظر رکھنے والے ماہرین متعدد بار خبردار کرچکے ہیں کہ زہریلی گیس کاربن مونو آکسائیڈ فضا میں موجود آکسیجن کے ساتھ مل کر کاربن ڈائی آکسائیڈ میں تبدیل ہوجاتی ہے جس کا کاربن کرہ ارض اور انسانوں کی صحت کے لیے بہت زیادہ نقصان دہ ہے اور اس کی وجہ سے ہی اوزون پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے تھے۔

اوزون تہہ کی تباہی سے مراد اس کی موٹائی میں کمی ہونا یا اس میں شگاف پڑنا ہے۔ جس کے ہونے سے سب سے زیادہ اثر برف سے ڈھکے انٹار کٹیکا کے علاقے میں ہوا ۔

اوزون کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے اس علاقے میں سورج کی روشنی پہلے کے مقابلے میں زیادہ آنے لگی جس کی وجہ سے یہاں کے درجہ حرارت میں اضافہ ہوا اور برف تیزی سے پگھلنے لگی اور پھر سمندروں میں پانی کی سطح بلند ہوگئی۔

ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ دنیا بھر میں ہونے والی موسمیاتی تغیراتی تبدیلیاں بھی زہریلی گیس کے اخراج اور اوزون کے کمزور پڑنے کی وجہ سے ہوئیں جس کی وجہ سے دنیا بھر کا درجہ حرارت اور موسموں کی مدت بہت زیادہ متاثر ہوئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں