37

دنیا بھرمیں لاک ڈاؤن کے دوران گھریلو تشدد اور طلاق کی شرح میں اضافہ

لندن (ویب ڈیسک) کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والے لاک ڈاؤن سے دنیا بھر میں طلاقوں اور گھریلو تشدد کی شرح میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا۔

دنیا بھر میں خواتین اور بچوں سے گھروں میں مار پیٹ کے واقعات میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا۔ فرانس کے شہر پیرس میں ایک ہفتے کے دوران گھریلو تشدد کے واقعات 36 فیصد تک بڑھنے پر عارضی قیام گاہیں بنادی گئیں۔

برطانیہ میں مقامی حکومتوں نے ڈیلیوری کرنے والوں کو گھریلو تشدد کی جاسوسی پر لگا دیا جبکہ آسٹریلوی حکومت نے بڑھتی شکایات پر گھریلو تشدد کی روک تھام کے لیے فنڈنگ میں 10 کروڑ ڈالر کا اضافہ کردیا۔

فرانس کے وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ پہلے ہی یورپ میں گھریلو تشدد کی سب سے زیادہ شرح فرانس میں ہے اب لاک ڈاؤن کے دوران بھی پولیس گھریلو جھگڑوں کی شکایات پر دوڑتی رہتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق فرانس میں ہرسال 2 لاکھ 19 ہزار خواتین کو تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں 18 سے 75 سال تک عمر کی خواتین شامل ہوتی ہیں جبکہ ان میں سے صرف 20 فیصد خواتین رپورٹ درج کراتی ہیں۔

سرکاری اعدادو شمار کے مطابق ہر تیسرے دن ایک خاتون اپنے موجودہ یا سابقہ ساتھی کے ہاتھوں قتل کردی جاتی ہے۔

فرانس میں گھریلو جھگڑے کی شکایت کےلیے 3919 ایمرجنسی نمبر جاری گئے ہیں تاہم وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کے دوران ایسی شکایات کے لیے کوڈ سسٹم کا اجرا کیا جارہا جس کے ذریعے کسی فارمیسی پر بھی جاکر خفیہ کوڈ ورڈ کے ذریعے شکایت درج کرائی جاسکے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں