43

کورونا وائرس سے جانبحق افراد کی تعداد 21 جبکہ متاثرین کی تعداد 1664 ہو گئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) ملک بھر میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 1664 ہوگئی جبکہ وائرس سے 21 افراد جاں بحق اور 28 صحت یاب ہوچکے ہیں۔

دنیا بھر میں ہزاروں اموات کا سبب بننے والے نوول کورونا وائرس سے پاکستان میں بھی اموات اور نئے کیسز آنے کا سلسلہ نہ رک سکا اور ملک میں متاثرین کی تعداد 1600 سے تجاوز کرگئی جبکہ آج مزید 4 اموات کے بعد اب تک 21 افراد زندگی کی بازی ہار گئے ہیں۔

پاکستان میں ایک روز میں سب سے زیادہ اموات 29 مارچ کو ریکارڈ کی گئیں، جہاں سندھ میں 2، پنجاب، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں ایک، ایک مریض انتقال کرگیا جس کے باعث ایک روز میں 5 اموات سامنے آئیں۔

تاہم آج بھی ڈپٹی کمشنر راولپنڈٰی نے مزید 2 اموات کی تصدیق کی جس کے جس کے بعد اگر ان 2 اموات کو شامل کریں تو پنجاب میں اموات 8 ہیں تاہم ابھی سرکاری سطح پر یہ تعداد 6 بتائی گئی ہے، علاوہ ازیں خیبرپختونخوا میں 5، سندھ میں 5، گلگت بلتستان میں 2 اور بلوچستان میں ایک فرد اس مہلک وائرس سے انتقال کرچکے ہیں۔

اگر مجموعی طور پر ملک میں کیسز کو دیکھیں تو پنجاب سب سے آگے ہے اور وہاں 638 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی جبکہ اس کے بعد سندھ ہے جہاں متاثرین کی تعداد 508 ہے۔

اسی طرح خیبرپختونخوا میں 192، بلوچستان میں 141، گلگت بلتستان میں 128، اسلام آباد 51 اور آزاد کشمیر میں 6 افراد اس وائرس کا شکار ہوچکے ہیں۔

تاہم جہاں اس وائرس سے اتنے افراد متاثر ہوئے وہیں 28 مریض ایسے تھے جو صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔

اگر پیر (30 مارچ) کے اب تک کے اعداد و شمار تو ملک میں متاثرین کی تعداد 1664 تک پہنچ چکی ہے۔

سندھ میں آج بھی مزید 2 اموات سامنے آگئی، جس کے بعد صوبے میں اب تک انتقال کرنے والوں کی افراد 5 ہوگئی۔

محکمہ صحت سندھ کی جانب سے بذریعہ ٹوئٹ بتایا گیا کہ آج صبح کراچی میں کورونا وائرس سے 2 افراد کی موت ہوگئی۔

محکمہ صحت کے مطابق ان کراچی، حیدرآباد اور دادو میں ان 236 کیسز میں سے 177 مقامی سطح پر منتقلی کے ہیں۔

اپنے بیان میں صوبائی محکمہ صحت نے بتایا کہ ایران سے سکھر آنے والے 265 اور لاڑکانہ آنے والے افراد میں سے 7 میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے۔

راولپنڈی میں مزید 2 افراد کا کورونا وائرس سے انتقال ہوگیا۔

ڈپٹی کمشنر راولپنڈی انوار الحق نے دونوں افراد کی موت کی تصدیق کی اور بتایا کہ ایک مریض کی عمر 63 سال تھی جبکہ دوسری خاتون مریضہ 55 سال کی تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ کورونا وائرس سے متاثرہ 63 سالہ شخص کی برطانیہ کی سفری تفصیلات تھیں اور وہ گزشتہ 2 ہفتوں سے سرکاری ہسپتال کے آئیسولیشن وارڈ میں زیر علاج تھا۔

مزید برآں ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ 55 سالہ خاتون ٹیسکلا میں زیر علاج تھیں اور ان میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔

ماہرین طب کے مطابق کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازہ کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیجئے۔ بند کمروں میں اے سی چلاکر بیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں ۔ سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر اُبھری ہوئی پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں ۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پر کوئی اثر نہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔

پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اور ہر ایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اور وہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے ۔ گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔ اس طرح دن میں ایک مرتبہ گرم بھاپ لینے سے سانس کی نالی اور سائینس کی بھی صفائی ہوجاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں