36

حکومت کا جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے حوالے سے بل قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ حکومت نے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے لیے قومی اسمبلی میں بل پیش کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

اسلام آباد میں معاون خصوصی اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ وزیراعظم کی سربراہی میں اہم اجلاس منعقد کیا گیا جس میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، چیف سیکریٹری اور آئی جی پنجاب کے ساتھ ساتھ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزرا اور اراکینِ صوبائی و قومی اسمبلی بھی شریک ہوئے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے فیصلہ کیا ہے کہ جنوبی پنجاب صوبے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے قومی اسمبلی میں بل پیش کیا جائے گا اور اس سلسلے میں دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی مشاورت کی جائے گی اور ان کی بھی تائید حاصل کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ دیگر سیاسی جماعتیں بھی یہ سمجھتی ہیں کہ جنوبی پنجاب محرومیوں کا علاقہ ہے جس کی محرومیوں کو ختم ہوجانا چاہیے۔

اجلاس کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا ہے کہ اس سال جو مالی بجٹ بنے گا اس میں آبادی کے تناسب کو مدِ نظر رکھتے ہوئے 35 فیصد فنڈز جنوبی پنجاب کے لیے مختص کیے جائیں گے جسے واپس نہیں لیا جائے گا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ گزشتہ ادوار میں فنڈز مختص کردیے جاتے تھے بجٹ میں نشاندہی کردی جاتی تھی لیکن سال کے دوران انہیں واپس لے لیا جاتا تھا، جب فنڈز کے حقیقی استعمال کا وقت آتا تھا تو جنوبی پنجاب سے کیا گیا وعدہ وفا نہیں ہوپاتا تھا۔

وزیر خارجہ کے مطابق اب بجٹ میں مختص شدہ فنڈز کو ایسا تحفظ دے دیا گیا ہے جسے واپس نہیں لیا جاسکے گا۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ بل کے لیے آئینی ترمیم درکار ہے اور اس کے لیے سیاسی مفاہمت میں وقت لگے گا اس لیے اجلاس میں یہ بھی فیصلہ ہوا کہ عوام کے دیرینہ مطالبے پر بلا تاخیر ان کے مسائل ان کے دہلیز کے قریب حل کرنے کے لیے سیکریٹریٹ قائم کردیا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں جنوبی پنجاب میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری اور ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) کو تعینات کردیا جائے کیوں کہ انفرا اسٹرکچر اور ایک مکمل سیکریٹریٹ بننے میں وقت درکار ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان 2 میں سے ایک عہدیدار بہاولپور جبکہ دوسرا اپنا ہیڈ کوارٹر ملتان میں بنائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں مالیاتی ضروریات کا عمل بھی مکمل کرلیا گیا ہے جس کے تحت چیف سیکریٹری نے آگاہ کیا کہ سیکریٹریٹ کے لیے ساڑھے 3 ارب روپے اور 1350 اضافی آسامیاں درکار ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے سابق قائم مقام وزیر اعظم بلخ شیر مزاری کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔

اس کے ساتھ کا کہنا تھا کہ میں ان تمام افراد کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں جنہوں نے جنوبی پنجاب کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبے کو عملی شکل دینے کے لیے آج ایک تاریخی دن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے اعداد و شمار کا مطالعہ کر کے کہا کہ اس علاقے میں غربت بہت زیادہ ہے اور غربت مٹاؤ کے سلسلے میں اس علاقے پر جس قدر توجہ دی جانی چاہیے تھی وہ ماضی میں نہیں دی گئی۔

وزیر خارجہ کے مطابق یہ ایک بہت بڑی ڈویلپمنٹ ہے جس سے وفاق مضبوط ہوگا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب کے صوبہ بنے کے بعد تمام لوازمات جو باقی صوبوں کو حاصل ہیں مثلاً این ایف سی اور وفاق میں نمائندگی اسے بھی ملے گی جبکہ ترقی کے لیے درکار اقدامات بھی اس صوبے کو حاصل ہوں گے۔

ایک سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا ماضی میں جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے میں پارلیمنٹ کی 2 تہائی اکثریت نہ ہونا سب سے بڑی رکاوٹ تھی تاہم پچھلے ادوار میں 2 تہائی اکثریت کے باجود مسلم لیگ (ن) نے جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لیے کچھ نہیں کیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ محترمہ بینظیر بھٹو اس حوالے سے مؤقف رکھتی تھیں اور بلاول بھٹو نے بھی اس پر بات کی ہے تو توقع ہے کہ پیپلز پارٹی والے اپنے ماضی کو سامنے رکھتے ہوئے جنوبی پنجاب صوبے کے بل کی حمایت کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے بھی ماضی میں کہا ہے کہ جنوبی پنجاب کو اس کا حق ملنا چاہیے اس لیے میں توقع کرتا ہوں کہ مسلم لیگ (ن) کے اراکین بھی اپنی قیادت کو قائل کریں گے کہ محرومی میں جکڑے ہوئے اس علاقے کی آواز بنیں۔

مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی کی تحریک انصاف کے رہنماؤں سے ملاقاتوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم نے انتخابی منشور کے وعدے کو پورا کرتے ہوئے ایک روڈ میپ پیش کیا ہے جس پر عمل کیا جائے گا اور ہماری کوشش اور خواہش ہے ان افراد کو بھی ہم نوا بنائیں۔

بہاولپور اور ملتان میں آدھے سیکریٹریٹ کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ جنوبی پنجاب کا دارالحکومت کہاں بنے کا اس کا فیصلہ عوام اور منتخب نمائندوں کی رائے کو اہمیت دیتے ہوئے اسمبلی کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں