99

میلہ حضرت عین الدین ؒ عرف میلہ ڈاڈا عینوؒ حاصل والا… شعورمیڈیا نیٹ ورک


ازقلم: اللہ ڈتہ انجم
دھنوٹ (لودھراں)

ثقافت زندگی کے مختلف رنگوں کے مجموعے کانام ہے یعنی زندگی کے مختلف رنگ جب محبت کی لڑی میں پرو دیئے جائیں تو وہ اس علاقے کی ثقافت بن جاتے ہیں۔یہ رنگوں کا مجموعہ لوگوں میں کبھی جھومرکی شکل میں نظر آتا ہے تو کبھی میلے کی صورت میں لوگوں کو تفریح مہیا کرتا ہے۔ سرائیکی وسیب کی ثقافت اپنی منفرد پہچان اور حوالوں سے مشہور ہے۔ اس کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ مختلف شعبہ ہائے زندگی کے ہر پہلو سے نمایاں ہے اور نئی نئی باتیں آشکار ہوتی ہیں۔ خوشی کے اظہار کے طریقوں میں انفرادی و اجتماعی رنگ سامنے آتے ہیں۔ ان میں میلے ٹھیلے وسیب کی ثقافت میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔جو علاقے کی معاشی صورتحال کو بھی بہتر کرنے،بچھڑے ہوؤں کو ملانے اور تھکا دینے والی روزمرّہ کی مصروف ترین زندگی میں ذہنی آسودگی اور تفریح کا باعث ہوتے ہیں۔

ملک بھر میں سیکیورٹی کے مسائل نے میلوں ٹھیلوں کی رونق کو گہنا کر رکھ دیا ہے تاہم“ سارا پیار اپنی ثقافت میں پوشیدہ ہے“ اس طرح کی ثقافتی سرگرمیوں یا میلوں میں خوشی،امید،اتحاد اورہماری ثقافت کے تمام رنگ موجود ہوتے ہیں بچوں سے لیکر بوڑھوں بشمول خواتین تک کی دلچسپی کی چیز یں ان میلوں میں موجود ہوتی ہیں۔ایسے میلوں پر عارضی بازار قائم ہو جاتے تھے کہیں پر لوگ جلیبیاں، امبرسے اور مٹھائیاں کھا رہے ہوتے تھے۔ تفریح کیلئے سرکس، تھیٹر، میجک شو جھولے اور دیگر کھیل تماشے موجود ہوتے تھے۔کہیں پر قوالیاں ہوتیں کہیں پر لوک فنکار سڑکوں پر اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے ہوتے تھے۔ مگر اس پر زیادہ اثرات دہشت گردی کی وجہ سے مرتب ہوئے۔ ان کو سخت حفاظتی انتظامات کے تحت چار دیواری میں محدود کر دیا گیا۔جس سے یقینا شمولیت کرنے والوں کی تعداد میں خوف کی وجہ سے کمی واقع ہوئی۔

 

قومی یکجہتی اور حکومتی اداروں کے اقدامات سے فضا بہتری کی طرف گامزن ہے اورامید ہے کہ انشاء اللہ بہت جلد لوگ آزادانہ طور پر ثقافتی سماجی تہواروں،میلے ٹھیلوں اور میچوں میں بلا خطر و خوف شرکت کر سکیں گے۔ جس سے پاکستان میں سیاحت کے شعبے کو فائدہ ہوگا اور پاکستان کا سافٹ امیج ابھرے گا۔ الیکٹرانک میڈیا،انٹرنیٹ،موبائل فون و دیگر سائنسی ایجادات نے انسان کو محدود کر کے رکھ دیا ہے۔ لیکن سادہ اورمعصوم دیہاتی لوگ خوش قسمت ہیں کہ انہوں نے اپنی ثقافت اور بزرگوں کی بہتر روایا ت کو کسی نہ کسی رنگ میں محفوظ اور زندہ رکھا ہوا ہے۔

ایسے ہی ضلع لودھراں کی تحصیل کہروڑ پکا بستی حاصل والا میں عرس و سرائیکی ثقافتی میلہ حضرت عین الدینؒ عرف ڈاڈا عینوؒہر سال فروری میں منعقد ہوتا ہے۔دیگر ثقافتی رنگوں کے ساتھ ساتھ اس میلے کا خاص آیٹم گھوڑوں کا رقص ہوتا ہے۔ اگر گھوڑوں کی زندگی کا مختصر جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ماہرین کے مطابق گھوڑوں کی ارتقاء کا عمل ساڑھے چار کروڑ سے ساڑھے پانچ کروڑ سال کے دوران ہوا۔ اس کی پہلی نسل کا نام Hyaracotheriumتھاجو صرف لومڑی جتنا بڑا تھا۔ لگ بھگ 4000 ق م میں انسانوں نے پہلی بار گھوڑے کو پالتو بنایا۔ 3000 ق م سے گھوڑوں کوعام طور پر پالا جا رہا ہے۔ قدیم زمانے سے ہی گھوڑے کو جنگوں میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے گھڑ سواری اور گھوڑے کو قابو کرنے کے لیے بہت سارے طریقے وضع کیے گئے ہیں۔اسلام نے بھی گھوڑوں کی اہمیت اور افادیت کو تسلیم کرتے ہوئے اسے پالنے کی ترغیب دی۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے گھوڑوں کی قسم کھائی ہے یعنی ”قسم ہے ان (گھوڑوں) کی جو پھنکارے مارتے ہوئے دوڑ تے ہیں، پھر (اپنی ٹاپوں سے) چنگاریاں جھاڑتے ہیں۔ (العادیات1،2)“۔عربوں کی گھوڑوں سے محبت کی وجہ سے ہی قرآن مجید میں حبِ دنیا کی مثال اس طرح دی گئی ہے یعنی ”لوگوں کیلئے مرغوباتِ نفس،عورتیں، اولاد، سونے چاندی کے ڈھیر، چیدہ گھوڑے،مویشی اور زرعی زمینیں بڑی خوشنما بنادی گئی ہیں مگر یہ سب دنیا کی چند روزہ زندگی کے سامان ہیں، حقیقت میں جو بہتر ٹھکانہ ہے وہ تو اللہ کے پاس ہے۔(آل عمران14)۔حضورﷺ کے زیر استعمال رہنے والے بھی دس یا پندرہ گھوڑے تھے۔ سکُب پیشانی اور تین ہاتھ پیر سفید،بدن کا رنگ کُمَیت (عُنّابی) داہنا ہاتھ بدن کے رنگ کا،گھوڑ دوڑ میں حضور ﷺاس پر سوار ہوئے، وہ آگے بڑھا۔یہ پہلا گھوڑا تھا جس کے حضور ﷺمالک ہوئے۔

ایک جرمن کارل جو ایک عرب قبیلہ کا رکن بن گیا اور کئی سال اُن کے ساتھ رہا۔ جنگوں میں بھی حصہ لیتا رہا۔ اُس نے تمام عرب گھوڑوں کا غور سے مطالعہ کیا اور واپس آکر ایک کتاب لکھی جس کا انگریزی ترجمہ Black Tents of Arabia ہے۔ اس کتاب کے مطابق عربی نسل کے گھوڑوں کی تین اقسام ہیں۔ ایک طاقت میں مشہور ہے، ایک برق رفتار ہے اور تیسری قسم حسن کا پیکر ہے۔ایک انگریز لڑکی بھی جو کسی عرب سردار کی بیٹی بن گئی تھی، وہاں لمبا عرصہ رہنے اور عربی نسل کے گھوڑوں کا وسیع تجربہ حاصل کرکے واپس آئی اور Lady Wentworthکے نام سے مشہور ہوئی۔ اس نے انگلستان میں عربی نسل کے گھوڑوں کی نسل کی افزائش گاہ (Stud) قائم کی۔ اُس کی وفات پر جب اس Stud کے گھوڑے نیلام ہوئے تو اُن میں سے دس عدد گھوڑے پاکستانی فوج نے بھی خریدے جن کی نسل کَشی اب بھی جاری ہے۔

جب توجہ دی گئی توگھوڑے بھی ڈانس کے شوقین نکلے۔جو میوزک کی دُھن،ڈھول کی تھاپ پر ڈانس کرنے لگے۔بعض اوقات تو سدھائے ہوئے گھوڑے کہیں میوزک بجتا سن کر اپنے پیروں پر اچھلتے ہوئے اپنی صلاحیتیں دکھانا شروع کر دیتے ہیں ا ورہاں سے گزرنے والے راہ گیر بے حد محظوظ ہوتے ہیں۔گھوڑوں کو سدھانے والوں کو سوار کہتے ہیں جو گھوڑوں کو ڈوری والا،ٹورا اوردھمالی ناچ وغیرہ سکھاتے ہیں۔سِدھائے ہوئے گھوڑے مختلف تقریبات و میلوں میں اپنے رقص کا مظاہرہ کر کے اس دنیا کے دکھ بھرے انسانوں کیلئے تفریح کا باعث بنتے ہیں۔

تین روزہ عرس و سرائیکی ثقافتی میلہ حضرت عین الدینؒ عرف ڈاڈا عینوپرہر سال فروری میں تین روزہ گھوڑا ڈانس کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔اس میلے میں حویلی نصیر خاں کے مقامی زمیندارحاجی ضمیر خان بلوچ نے 1998ء میں گھوڑوں کے رقص کیلئے پہلا پِڑ(میدان) سجایا۔ میلہ منتظم ملک محمد عثمان وگن و محمد صدیق خان بلوچ کی خصوصی دلچسپی اور نواب احسان اللہ خان کے شوق نے اس میلے میں گھوڑا ناچ کو میلے کا خصوصی آئیٹم بنا دیااور گھوڑوں کے رقص کی فلمبندی کر کے گلفام مووی میکر فداالحسن گلفام نے اسے یاد گار بنا نے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی۔اب بھی ہرسال میلے پر فداالحسن گل گھوڑوں کے رقص کی فلمبندی میں مصروف نظر آتے ہیں۔

علاقائی زمینداروں حاجی ضمیر خان مرحوم کے فرزندآصف ضمیر خان بلوچ، محمد صدیق خان بلوچ،محمد زبیر خان بلوچ،ملک محمد عثمان وگن،اللہ وسایا خان بلوچ،نواب سیف اللہ خاں، نواب احسان اللہ خان مرحوم کے فرزند نواب فرقان حیدر خان سمیت حاجی رائے محمد انور خان کھرل آف فیصل آباد،ملک محمد اویس آف آزاد کشمیر،ریاض حسین پیرزادہ آف بہاولپور،محمد اقبال خان چنڑآف بہاولپور،ناصر عباس خاں مگسی آف لیہ،چوہدری محمد فاروق،جاوید حسین ڈوگر،ناصر خان پٹھان آف ملتان،سپین میں مقیم جیدی گجر آف مظفر آباد آزاد کشمیر،چوہدری محمد عالم گجر، محمد علی سیال آف جھنگ، رندھاوا برادران فیصل آباد،ملک سعات علی آف لاہور،چوہدری ریاض حسین آف شیخوپورہ،علی نواز پیرزادہ آف وہاڑی،منیر گل آف منڈی یزمان، نون برادرز آف گیلے وال،محمد اظہر خان جوئیہ آف کہروڑ پکا،سید اکبر شاہ گیلانی،سید محمد مظہر شاہ گیلانی، سید محمد شاہ گیلانی آف نور شاہ گیلانی و دیگرزمینداروں کے ملک بھر سے آئے ہوئے پرواز،ون ٹو ون،ون ٹو فائیو،دیساں دا راجہ،کلہ کروڑی،جگنو، مہنگا، چمن،سورج،دلشاد،من پسند،بادشاہ، رحمت پاکستان ودیگر نامورگھوڑے میلے میں خوبصورت ڈانس کرکے ہزاروں شائقین کو محظوظ کرتے رہے ہیں۔

اس میلے میں گھوڑوں کے رقص کے کمنٹریٹر نے اپنے مخصوص انداز سے لوگوں کو گھوڑوں کے رقص پر متوجہ رکھا۔ علاقائی میلوں پیر جیون سخی سلطان،تیوت اور چھتن لعل میں بھی گھوڑوں کا رقص دکھایا جاتا ہے۔ اس میلے میں بھی مقررہ تین دن ملک بھر سے ہزاروں عقیدت مندوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہتاہے اور عرس مبارک کی تقریبات روائتی انداز سے جاری رہتی ہیں۔اس سال اس عرس مبارک پر گھوڑا ڈانس کا شاندار مقابلہ بھی ہزاروں شائقین، عوام اور دربار حضرت عین الدینؒ کے عقیدت مندوں کی خصوصی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ گھوڑوں کے دلچسپ رقص و ناچ نے میلے کی رونق کو چار چاند لگا دئیے۔ ملک بھر سے نامور گھوڑوں کو ڈانس کروانے والے ماہرسواروں (ٹرینرز) نے گھوڑوں کو ڈانس کرانے پر اپنے فن کا جادو جگایا۔گھوڑوں کے رقص کے ساتھ ساتھ ڈھولچیوں کا ڈھول بجانے کا انداز بھی لوگوں کے دلوں کو لبھانے والا تھا۔گھوڑے کے خوبصورت رقص پر زمیندار گھوڑوں کو سدھانے والوں پر نوٹ نچھاور کرتے رہے۔

اس میلے پرکھلونوں کی دکانوں پربچوں کا رش تھا۔ سر توڑ مہنگائی کی وجہ سے کھلونوں کی فرمائشیں کرتے بچوں اور ان کے والدین کی تکرار دیدنی ہوتی ہے۔مہنگائی نے معصوم بچوں کی کھلونوں سے کھیلنے کی خوشیاں بھی چھین لی ہیں۔ جھولے بچوں سے بھرے ہوئے تھے۔مٹھائی والوں نے بھی اپنی دکانوں کو سجانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی تھی۔مہنگائی اور غربت کی وجہ سے بچے بھی پانی ویگر اشیاء فروخت کرتے دکھائی دیئے۔ شعبدہ باز اورمختلف یونانی ادویات فروخت کرتے نام نہاد حکیم بھی سادگی کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں کی جیبیں خالی کرتے نظر آئے۔موقع غنیمت جان کر اس ایریا میں خالی پلاٹوں کے مالکان نے کار وموٹرسائیکل سٹیڈ بنا کر اپنی دیہاڑیاں بنائیں۔

قبرستان حضرت عین الدین ؒ کی چار دیواری نہ ہونے سے لڑکے بالے قبرستان میں کھیلتے رہتے ہیں۔جانور وں کا قبروں پر بسیرا ہوتا ہے۔خصوصاًمیلے کے دنوں میں قبروں کی بے حرمتی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ حضرت عین الدین ؒ شہرِ خموشاں کی چار دیواری بلاشبہ کئی کئی منزلہ عمارتوں پرمشتمل گھر بنانے والے اہلِ علاقہ کی توجہ سے ہی مکمل ہو سکتی ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں