125

مذہبی ہم آہنگی کے لیے پارسی کمیونٹی کا معاشرتی کردار… شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: محمد احمد نواز

پی ایچ ڈی اسکالر (میڈیا اسٹڈیز)

پارسی کمیونٹی کی اکثریت ایران سے ہجرت کے بعد برصغیرپاک وہند میں مقیم ہے۔ پاکستان میں پارسی کمیونٹی کے تقریباً 1100افراد مقیم ہیں جن میں سے زیادہ افراد شہرکراچی کے باسی ہیں۔ ملتان میں رہائش پذیر پارسی کمیونٹی کے افراد کی تعداد7 ہے جو کہ عرصہ40سالوں سے ملتان میں مقیم ہیں اور اسے ہی اپنے مسکن بنائے ہوئے ہیں۔حیران کن بات یہ ہے کہ اس تیزی سے معدوم ہوتی ہوئی کمیونٹی میں تعلیم کی شرح 97 فیصد ہے۔ پارسی کمیونٹی کے لوگ اپنی مہمان نوازی کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہورہیں۔ پارسی کمیونٹی کے لوگ اپنی تعلیم کو بروئے کار لاتے ہوئے ملکی ترقی میں بھرپورکردار ادا کررہے ہیں۔

                                                              پاکستانی سفارتکار جمشید مارکر

پارسی کمیونٹی کے مشہورافراد میں ڈان اخبار کے معروف کالمسٹ اردشیرکاؤسجی، سپریم کورٹ کے سابق جسٹس دوراب پٹیل،معروف بزنس مین بائرام ڈی ایواری، ایشین گیمز میں پاکستان کی پہلی خاتون گولڈ میڈلسٹ گوشپی اواری، پاکستانی سفارتکارجمشید مارکر، معروف ناول نگار باپسی سدھوا، معروف شیف زرنک سدہوا، معروف فیشن ڈیزائنر نادیہ مسٹری، گلوکارزوئے وکاجی و دیگر شامل ہیں جو کہ اپنے اپنے شعبے میں ملک و قوم کا نام روشن کر رہے ہیں۔

پارسی کمیونٹی کے مذہبی تہواروں میں نوروز ایک بڑا تہوار ہے جو کہ مارچ میں منایا جاتا ہے جس کا جشن ایک ہفتے تک جاری رہتا ہے۔ اس جشن کے دوران پارسی کمیونٹی کی جانب سے دیگر کمیونٹی کے افراد کو بھی مدعو کیا جاتا ہے۔ جو پارسی کمیونٹی کے لوگوں کے ساتھ ان کی خوشی میں بھر پور شرکت کرتے ہیں۔

                                                معروف کالمسٹ آردشیر کاؤسجی

ملتان میں مقیم بومن جی جمشید نے بتایا کہ چونکہ ہماری کمیونٹی کے افراد کی تعداد بہت کم ہے تو ہماری سب دوستیاں ہی دیگر کمیونٹی کے افراد سے ہیں جنہوں نے ہمیں کبھی بھی یہ باور نہیں کرایا کہ ہم کسی اور مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کے گھروں میں تواتر سے آتے ہیں اور اکٹھے کھاتے پیتے ہیں ہمیں کبھی بھی خوف کا احساس نہیں ہوا کہ ہم تعداد میں کم ہیں بلکہ ہمارے دیگر کمیونٹی کے دوست ہمارے دکھ سکھ میں ہماری فیملی کے لوگوں سے پہلے پہنچے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے مابین عزت واحترام کا رشتہ بن گیا ہے ۔

بومن جی نے مزید بتایا کہ ہمارے نوروز کے مذہبی تہوارمیں دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے دوست دوست بھی بھرپورشرکت کرتے ہیں اسی طرح ہماری فیملی میں کسی کی شادی ہو تو بھی دوسری کمیونٹی کے لوگ بھر پور شرکت کرتے ہیں اس طرح ایکدوسرے کے کلچر وروایات کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے اوردوسرے مذاہب سے جڑی غلط روایات اور غلط فہمیوں کے بارے میں بھی صیح آگاہی ہوتی ہے۔ اسی لیے ہم بھی اپنے دوستوں کے تہواروں میں بھرپورشرکت کرتے ہیں جس سے ہمارے مابین محبت، بھائی چارے اور ہم آہنگی کی فضاء ہموار ہوتی ہے۔

                                                          معروف شیف زرنک سدہوا

اس وقت پاکستان میں پارسی کمیونٹی کی زیر نگرانی پانچ بڑے ٹرسٹ چل رہے ہیں جو کہ پارسی کمیونٹی کے علاوہ دیگر کمیونٹیز کو بھی مالی مدد فراہم کر رہے ہیں اس کے علاوہ ملک پاکستا ن کو درپیش کسی بھی ناآگہانی آفت کے موقع پر بھی یہ ٹرسٹ بغیر کسی مذہبی یا مسلکی تخصیص کے اپنے پاکستانی بھائیوں کی بھرپور مدد کرتے ہیں جو کہ اس با ت کہ منہ بولتا ثبوت ہے کہ مذہب چاہے کو ئی بھی ہو سب کا بنیادی سبق انسانیت کی خدمت ہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں