85

کتاب اور اس کی اہمیت… شعورمیڈیا نیٹ ورک

ازقلم: اللہ ڈتہ انجم
دھنوٹ (لودھراں)

لکھے ہوئے اور چھپے ہوئے صفحات کو یکجا کر کے پشت سے سی دیا گیا ہو،اوراق کا مجموعہ جس کو مجلد شکل میں رکھا جائے یا ایک ایسی تصنیف جو ہاتھ سے تحریر کی گئی ہو یا چھاپی گئی ہو اور وہ ایک یا ایک سے زائد جلدوں پر مشتمل ہواسے کتاب کا نام دیا گیا ہے۔آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق کتاب سے مراد ایک ایسا تحریری یا مطبوعہ مقالہ ہے جو متعدد صفحات پر مشتمل ہو اور جسے تہہ کرکے ایک طرف سے سجا دیا گیا ہو۔قلم، تحریر اور کتاب نے انسانی تہذیب و تمدن کے ارتقا میں ہمیشہ تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے۔ جب انسان کا ذہن کاغذ اور تحریر کے تصور سے ناآشنا تھا وہ ریت اور پتھر کی چٹانوں پر آڑھی ترچھی لکیریں کھینچ کر اپنا مافی الضمیر دوسروں تک پہنچانا جانتا تھا۔ بعد ازاں وہ اپنے خیالات، نظریات اور کارناموں کو مٹی کی الواح اور پیپائرس پر منتقل کرنے لگا۔ تحریروں اور دستاویزات کے ان ذخیروں کو جس جگہ محفوظ کیا گیا وہی کتب خانے کی ابتدائی شکل تھی۔

اس طرح پہلے انفرادی یا ذاتی اور بعد میں عوامی کتب خانے وجود میں آئے۔ کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی بخوبی ہوتا ہے کہ دنیا کے کم و بیش تمام مذاہب کے پاس ان کی اپنی متبرک کتاب موجود ہے۔ ان کتابوں اور صحیفوں میں اس وقت کی اقوام اور فرقوں کو راہ راست اور زندگی کے صحیح اصولوں اور ضابطوں پر عمل پیرا ہونے کی جابجا تلقین کی گئی ہے۔ گویا کہ خدا تعالیٰ نے خود انسانوں کی ہدایت کے لئے اپنے پیغمبروں پر کتابیں نازل فرمائیں اور خدا کے پیغامات کا یہ سلسلہ برابر جاری رہا۔ حتیٰ کہ ذاتِ باری تعالیٰ نے اپنے پیغمبر آخرالزماں حضرت محمد ﷺ کے ذریعے آخری پیغام بھی قرآن مجید کے ذریعے ہی ارسال فرمایا۔

قرآن مجید جو دنیا کے لیے آفاقی پیغام پر مبنی ہے۔ اس کی ابتدا ہی لفظ ”کتاب“ سے ہوتی ہے۔ یعنی ذٰلک الکتاب لا ریب فیہ۔ یوں یہ بات قابل غور ہے کہ انسانوں کی ہدایت اور پیغام رسانی کا بہترین ذریعہ خدائے بزرگ و برتر نے کتاب ہی کو ٹھہرایا ہے۔ کتاب اپنے ارتقائی مراحل سے گزرتے ہوئے مختلف روپ اور شکلیں دھارتی رہی۔ مگر اس کا پیغام لوگوں اور قبیلوں تک کسی نہ کسی طرح متواتر پہنچتا رہا۔ اس پیغام کی روشنی میں اہل دانش اور مفکرین نے اپنی قوموں کے لئے گراں قدر کارنامے انجام دیئے۔ آج کی ترقی بلاشبہ کتاب کی مرہون منت ہے۔ انسان نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنے حالات اپنے ایجاد کردہ آلات کی بدولت کہیں سے کہیں پہنچا دیئے۔جبکہ بیسویں صدی کے اواخر میں انسان نے چاند و سورج پر کمندیں ڈال دیں۔

علم و سائنس کی ترویج و ترقی کے موجودہ دور نے انسان کی ترقی کے گزشتہ تمام ریکارڈز کی بساط الٹ دی۔ سائنس و تحقیق نے دنیا کی طنابیں سمیٹ کر رکھ دیں۔ اطلاعاتی سہولتوں کی بدولت تحقیق اور ایجادات ہر سال ہر ماہ اور ہر لمحہ کوئی نہ کوئی حیرت انگیز کارنامہ انجام دے کر دنیا کو ورطہئ حیرت میں ڈال رہی ہے۔ ان تمام ایجادات و اختراعات کے پس پردہ وہ اطلاعاتی دھماکہ کارفرما ہے جس میں کتاب نے ایک اہم عنصر کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کیا ہے۔

تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کتاب کی ابتدا ء اس وقت سے ہی ہو چکی تھی جب خالقِ کائنات نے حضرت آدم ؑ کو اپنا نائب اور خلیفہ بنا کر زمین پر اتارا۔ باری تعالیٰ نے اس وقت اپنے نائب کو ان تمام علوم سے نواز دیا تھا جن سے فرشتے بھی پوری طرح آگاہ نہیں تھے۔ انسانی تہذیب کے ارتقاء کی داستان کتاب اور کتب خانوں کے تذکرے کے بغیر مکمل ہی نہیں ہوتی۔کتاب کی ابتدا ئی تاریخ جو ہم تک پہنچتی ہے اس کی ابتدا ء ہمیں دو مشہور اقوام کی تہذیبوں کے مطالعہ سے ملتی ہے۔ وادی دجلہ و فرات سے برآمد ہونے والی مٹی کی الواح نما کتابیں اور وادی نیل کی تہذیب مصر سے برآمد ہونے والی پیپائرس یعنی درخت کی چھال سے تیار کئے ہوئے کاغذ پر تحریری مواد۔ یہ دو قدیم تہذیبوں کے ابتدائی زمانے کی تحریریں کتاب کہی جا سکتی ہیں۔

کتاب کی تاریخ کا مطالعہ کرنے والے طالب علم وادی ئدجلہ و فرات اور وادیئ نیل سے برآمد ہونے والی ان تحریروں کو جدید دور کی کتابوں کی ابتدائی شکل کہہ سکتے ہیں۔ موہنجوداڑو (سندھ) ہڑپہ (پنجاب) اور مہر گڑھ (بلوچستان) سے کھدائی کے بعد جو کھنڈرات تہذیب جدید کے افق پر نمودار ہوئے وہاں سے برآمد ہونے والی پتھر کی چھوٹی چھوٹی تختیوں پر تصاویر اور تصوری خاکے دیکھ کر کتاب کے ابتدائی مراحل کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔نینوا (عراق) کے بادشاہ آشور بنی پال کے محل سے کھدائی کے بعد جو ہزاروں الواح برآمد ہوئیں ان سے اس بات کی بخوبی تصدیق ہوتی ہے۔ اصل میں تحریر کے بعد ان مٹی کی تختیوں کو دھوپ میں خشک کر لیا جاتا تھا اور پھر ان کو حفاظت سے تندور میں پکا کر پختہ کر لیا جاتا تھا۔ ان الواح پر باقاعدہ نمبر درج ہوتے تھے تاکہ ان کی بروقت شناخت کی جا سکے۔

اہل یونان سقراط اور سقراط سے پہلے کے علماء کے علوم و نظریات کو زیادہ دیر تک اپنے سینوں میں محفوظ نہیں رکھ سکتے تھے۔ وہ کوئی ایسا ذریعہ تلاش کر رہے تھے جس میں اس بیش قیمت خزانے کو منتقل کر کے حفاظت سے رکھ سکیں اور وہ ذریعہ کتابیں اور کتب خانے ہی ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ یونان کے کلاسیکی عہد میں صرف یونان میں 11 سو سے زائد مصنفین موجود تھے۔ جن کی اپنی تحریروں سے شاندار کتب خانوں کا وجود میں آنا بعید از قیاس نہیں۔ یونان کے قدیم کتب خانوں میں سے جس کتب خانے کے وجود کو دلائل کی روشنی میں اور تاریخی شواہد سے ثابت کیا جا سکتا ہے وہ ارسطو کا کتب خانہ ہے۔ارسطوکا کتب خانہ سینکڑوں کتابوں پر مشتمل تھا۔ ارسطو کا کتب خانوں کی ترقی میں سب سے بڑا حصہ سکندر اعظم کو علم و ادب کی طرف پھیر دینا ہے۔

بطلیموس نے سکندریہ میں بہت بڑا کتب خانہ قائم کیا۔ یہ شاندار کتب خانہ صدیوں تک علم و حکمت کا مینار رہا۔ یہ شاندار کتب خانہ رومیوں اور عیسائیوں کے ہاتھوں تباہ ہوا۔ہارون الرشید اور اس کا بیٹا مامون الرشید کتب خانوں کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ خلیفہ ہارون الرشید نے بغداد میں بیت الحکمت کے نام سے ایک عظیم کتب خانہ قائم کیا۔ جس کا فیض ہلاکو خاں کے حملہ بغداد (تیرھویں صدی) تک جاری رہا۔ یہ پہلا پبلک کتب خانہ تھا جو اعلیٰ پیمانہ پر قائم کیا گیا تھا۔ اس نے مثال کتب خانہ میں عربی، فارسی، سریانی، قبطی اور سنسکرت زبانوں کی 10 لاکھ کتابیں موجود تھیں۔

کتابوں کی اہمیت اور ضرورت کسی بھی دور میں کم نہیں ہو سکتی کیونکہ یہی ہمارا سہارا اور دوست ہوتی ہیں۔ ہر شخص قائل ہے کہ مطالعہ کرنے سے علم میں اضافہ ہوتا ہے۔ لیکن ہر شخص مطالعہ نہیں کرتا البتہ جو لوگ مطالعہ کرتے ہیں وہ اس سے فائدے حاصل کرتے ہیں۔ کسی مفکر کا قول ہے کہ اگر دو دن تک کسی کتاب کا مطالعہ نہ کیا جائے تو تیسرے دن گفتگو میں وہ شیرینی باقی نہیں رہتی یعنی انداز تکلم تبدیل ہوجاتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ کتابوں کے مطالعے سے ہمیں ٹھوس دلائل دینے اور بات کرنے کا سلیقہ آتا ہے۔ آج کے دور میں جو بھی ترقی ہورہی ہے وہ مرقوم علم اور کتابوں کی بنیاد پر کی جارہی ہے۔

کتب بینی سے انسان کی معلومات میں رفتہ رفتہ اس قدر اضافہ ہو جاتا ہے کہ انسان کے لئے کوئی کام ناممکن نہیں رہتا۔ کتابیں فرقہ واریت، علاقائیت اور قومیت جیسے محدود جذبوں سے ہٹ کر معاشرے کو انسان دوستی، بھائی چارہ اور روحانی قدروں کو جِلا بخشتی ہیں۔ جس سے قاری اور اس کے ارد گرد رہنے والے افراد پوری طرح مستفید ہوتے ہیں۔ کتاب اپنے قاری کو ایک جذباتی پیغام ہی نہیں دیتی بلکہ اس کی شخصیت کو پوری طرح معاشرے کے لئے ایک مکمل زندگی گزارنے کا ڈھنگ بھی سکھاتی ہے اور دوسروں کے لئے اس کی شخصیت کو جاذب نظر اور پرکشش بھی بناتی ہے۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ کتاب اور کتب خانے کی مدد سے ہم ان عظیم شخصیتوں سے رابطہ قائم کئے ہوئے ہیں جن کے اقوال زریں ہماری زندگی کی قیادت کرتے ہیں۔ کتاب ہمیں سیدھی راہ پر چلنے کی ہدایت کرتی ہے۔ اس کے ذریعہ ہم ماضی کے سبق آموز واقعات اپنی آئندہ زندگی کے لئے مشعل راہ بناتے ہیں۔ کتاب اور کتب خانے صرف کاغذ کے خشک اوراق کا مجموعہ نہیں ہیں بلکہ زندگی کی گوناگوں عملی مصروفیات، تجربوں، عمل اور عقل، چلنا پھرنا وغیرہ کا ایسا خزانہ ہیں جس کی مدد سے ہر شخص اپنی زندگی کی خامیوں کو دور کر سکتا ہے۔ کتابوں کی مدد سے دماغ اور ذہن تسکین پاتے ہیں۔

اچھی کتاب ہماری رہبری اور عزم مسلسل پیدا کرتی ہے۔ اس کے مطالعے سے ہم اپنی کمزوریوں سے آگاہ ہو کر اپنی فکر کو روشنی بخشتے ہیں۔ اگرچہ آج ہمارے درمیان ارسطو، سقراط، افلاطون، بو علی سینا، غزالی، اقبال اور قائد اعظم جیسے عظیم مفکر اور اہل دانش موجود نہیں ہیں۔ تاہم ان کے خیالات اور افکار پر مبنی جو کتابیں ہمارے کتب خانوں میں اور گھروں میں موجود ہیں انہوں نے ان کو زندہ جاوید بنا دیا ہے۔لاعلمی ایک بڑا جرم ہے۔ اس سے نجات حاصل کرنے کا واحد ذریعہ کتابیں ہیں۔ کتابیں امیر اور غریب، جوان، بوڑھے، بچے، عورت، مرد سب کے لیے یکساں اہمیت کی حامل ہیں۔ ان پر کسی ایک طبقہ یا کسی ایک جنس کا حق نہیں بلکہ اس سے پوری انسانی برادری یکساں طور پر فیض یاب ہو سکتی ہے۔ کتابیں علم کی تشنگی مٹاتی ہیں، قوت عمل کو بڑھا دیتی ہیں اور انسانی زندگی کو سہل اور مہذب بنا دیتی ہیں۔

پڑھنے والے اپنی ضرورت اور دلچسپی کے مطابق کتابوں سے استفادہ کرتے ہیں۔ مشہور فلسفی ایمرسن کا کہنا ہے ”اچھی کتاب مثالی دوست اور سچا ساتھی ہے جو ہمیشہ سیدھے راستہ پر چلنے کی صلاح دیتی ہے“ ایک اور عالم کے مطابق کتابوں کا پیار ہی انسانوں کو اپنے خالق کے پاس پہنچانے والا راکٹ ہے۔ سقراط نے خوب کہا ہے ”جس گھر میں اچھی کتابیں نہیں وہ گھر حقیقتاً گھر کہلانے کا مستحق نہیں وہ تو زندہ مُردوں کا قبرستان ہے۔“کتاب اور کتب خانوں کی افادیت اور اہمیت کو مہذب قوموں نے ہر دور میں تسلیم کیا ہے۔ اہل علم کسی ملک میں پائے جانے والے کتب خانوں کو اس ملک کی ثقافتی، تعلیمی اور صنعتی ترقی کا پیمانہ قرار دیتے ہیں۔

اگر کسی ملک کی ترقی کا جائزہ لینا مقصود ہو تو وہاں پر موجود تعلیمی اداروں کو دیکھا جائے اور تعلیمی اداروں کی ترقی کاجائزہ لیناہوتو وہاں پر موجود کتب خانوں کودیکھا جائے۔ کتب خانے جتنے فعال ہوں گے تعلیمی ادارے بھی اسی قدر تعلیم و تحقیق میں فعال ہوں گے۔ جس کا لازمی نتیجہ ملک کی معاشی و معاشرتی ترقی اور عوام کی خوشحالی ہے۔ بدقسمتی سے ابھی تک ہم اپنے تعلیمی نظام کو جدید سائنسی خطوط پر استوار نہیں کر سکے۔ ملک میں شرح خواندگی افسوس ناک حد تک کم ہونے کی وجہ سے ہم ترقی کے ہر شعبے میں دوسرے ممالک کے مقابلے میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں