86

یکتا غزل گو کو بچھڑے ایک اورسال بیت گیا… شعورمیڈیا نیٹ ورک

” بہت اداس ہوئے پھول بیچنے والے “
جمال احسانی۔۔ یوم وفات 10 فروری

تحریر: تنویر نعمان ہاشمی
(لودھراں)

احساسات اور خیالات کو مخصوص الفاظ اور انداز میں پیش کردیناہی شاعری نہیں ہے۔ بلکہ یہ وہ اہم ترین ذریعہ اظہار ہے جس میں دلی کیفیات اور ااحساسات کو شدت جذبات کے ساتھ دوسروں تک منتقل کیا جاتا ہے۔ سجاوٹ اور خوبی ہنر کے باعث ہی خواجہ حیدر علی آتش نے شاعر کو مرصع ساز قرار دیا تھا۔ آتش کے استاد مصحفی نے بھی اپنے عروجِ فن کے باوجود ایک ایسی غزل لکھنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا”جس کے ہر حرف سے انداز ِ دگر پیدا ہو”۔

دنیائے غزل میں ” خون جگر سے مصرعہ تر” پیدا کرتے ہوئے اردو ادب کو مالامال کرنے والے اسخیاء میں ایک معتبر نام جمال احسانی ہے۔ جمال احسانی نے ہر سچے تخلیق کار کی طرح صرف اپنی تخلیقات سے مقام پایا اور خاص و عام میں اپنے فن کا لوہا منوایا۔ ان کے اجداد کا تعلق ہندوستان کے قصبے پانی پت سے تھا۔ قیام پاکستان کے بعد ان کے والدین نے ہجرت کی اور پنجاب کے شہر سرگودھا کو اپنا مسکن بنایا۔ 21 اپریل 1951 ء کو سرگودھا ہی میں جمال احسانی کی پیدائش ہوئی۔ نام جمال عثمانی رکھا گیا۔ سرگوودھا ہی سے تعلیم حاصل کی۔ قریباً بیس سال کا عرصہ سرگودھا میں گزارا۔

خاندان کے معاشی حالات زیادہ اچھے نہیں تھے۔ اور والد کا سایہ بھی زیادہ عرصے تک قائم نہیں رہا تھا۔ لہٰذا تلاش روزگار کے سلسلے میں کراچی منتقل ہوگئے اور یہیں زندگی گزاری۔ وہ محکمہ اطلاعات سندھ میں ملازم رہے۔اس کے علاوہ ” روزنامہ حریت اور روزنامہ ” سویرا” سے منسلک رہے۔ انھوں نے ” اظہار” میں بھی معاون مدیر کی ذمہ داریاں انجام دیں۔ اپنا پرچہ ” رازدار ” بھی کچھ مدت تک نکالتے رہے۔

جمال احسانی نے غزل کو ذریعہ اظہار بنایااور بہت کم عرصے میں بہت زیادہ مقبولیت پائی۔ شاعری میں انہوں نے احسان امرو ہوی سے فیض پایا تو احسانی کہلائے اور جمال کو تخلص کے طور پر اختیار کیا۔

ان کے منفرد انداز خوب صورت لہجے نے مختصر عرصے میں عوام و خواص کی توجہ حاصل کی۔ انہوں نے صف اول کے معاصر شعراء احمد ندیم قاسمی، وزیر آغا، منیر نیازی، احمد فراز، پروین شاکر اور جون ایلیا سے اپنی فنی پختگی کی داد پائی اور ساقی فاروقی اور آصف فرخی جیسے نقادوں کو اپنے کلام سے متاثر کیا۔

ان کی شاعری ان کی حقیقی زندگی کے قریب نظر آتی ہے۔ جس میں داخلی و خارجی ہر دو پہلؤوں کا احاطہ کیا گیاہے۔ وہ زندگی بھر معاشی مسائل کا شکار رہے۔ ان کی شاعری میں دکھ، افسردگی اور تھکن کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔

لیکن وہ شکوہ کناں نظر نہیں آتے اس لیے نوحہ خوانی اور ما تم کا سا روایتی تاثر ہر گز نہیں جو اکثر اوقات کلام میں عامیانہ پن پیدا کرتاہے۔ عام طور پر غم ذات اور غم جہاں کی عکاسی کے لیے شعراء کے ہاں ہائے اورآہ کی فضا نظر آتی ہے۔لیکن جمال کی شاعری میں ایسا نہیں۔ جمال کی شاعری پر تھکن اور مصائب کے باوجود ایک با حوصلہ شخص کی افسردہ مسکراہٹ کا گماں ہوتا ہے۔ یہ ایک پریشان حال شخص کی خود کلامی لگتی ہے۔

جمال کے نزدیک شعر کہنا تو جان جوکھو ں کا کام ہے۔اور اگر ان کے بس میں ہوتا تو کب کا ترک کر چکے ہوتے۔ غزل کی خوبصورتی کو انہوں نے یوں بیان کیا کہ

” جمال کھیل نہیں ہے کوئی غزل کہنا
کہ ایک بات بتانی ہے ایک چھپانی ہے

وہ ایک جدید شاعر ہیں۔ لیکن انہوں نے روایت سے قطع تعلق اور کلاسکیت سے روگردانی نہیں کی ہے۔ انہیں ہر رنگ سخن پر مکتبہ میر ” کی چھاپ نظر آتی ہے۔ کرب ذات، غم ہجر اور یاد یار کا ذکر کرتے ہوئے جمال نے اپنے کلام میں چراغ، رات، صبح، تارے، سفر، دیوار، ہوا، آسمان، مکان جیسے الفاظ کا کثرت سے استعمال کیا ہے۔ بلکہ جمال کے تینوں مجموعوں کے ناموں میں بھی یہی الفاظ موجود ہیں۔ تشبیہات، استعارات اور تراکیب کے موزوں ترین استعمال کے ساتھ ساتھ سادگی بھی جمال کے اشعار میں امڈتی ہوئی سی لگتی ہے۔ جمال نے چھوٹی اور درمیانی بحور ہی میں زیادہ تر غزلیات کہی ہیں۔ استادان فن کی زمینوں میں بھی جما ل نے طبع آز مائی کی ہے۔ جمال احسانی کی شاعری میں تحیر کی کیفیت بھی ہے۔ اور اپنی حیرت کے معقول جواز بھی۔ پھر جمال کے ہاں صرف تحیر کا نہیں بلکہ اپنے ساتھ بیپنے والی ہرشے ہی کا جواز موجود ہے۔

مرے ہی گھر میں اندھیرانہیں ہے صرف جمال ؔ
کوئی چراغ فروزاں کسی کے ہاں بھی نہیں

جمال احسانی کی شاعری میں کہیں کہیں شدید طنزیہ انداز بھی موجود ہے۔ لیکن اس سے غزل کی خوبصورتی اور تاثر مجروح نہیں ہوتابلکہ اس کاٹ میں بھی ملائمت ہے اسی سبب سے جمال کی شاعری دل میں اتر جاتی ہے۔

جمال احسانی کی شاعری کی خوشبو نہ صرف پاکستان میں پھیلی بلکہ ہندوستان کے ادبی حلقوں تک بھی پہنچی۔ ان کے دو مجموعے ” ستارہ سفر ” اور ” رات کے جاگے ہوئے ” ان کی زندگی میں شائع ہو کر پسندیدگی حاصل کر چکے تھے۔ آخری شعری مجموعہ ” تارے کو مہتاب کیا” اگرچہ زندگی میں مرتب ہو چکا تھا لیکن اشاعت پذیر ان کی وفات کے بعد ہوا۔ جمال احسانی کو جگر کا عارضہ لاحق ہو گیا تھا۔ قریباً ایک سال تک وہ بیماری سے لڑتے رہے۔ آخری ایام میں انھوں نے ایسے اشعار کہے جس سے محسوس ہوتاہے کہ انہیں زندگی کے اختتام کا یقین ہوگیاتھا۔ ان کا آخری شعر یہ ہے جو ان کی شعری صداقتوں کا اظہار ہے۔

” تمام اسباب خاک و آب کو اب ڈھونڈنے والا ہے
ترا مہمان کچھ لمحوں میں رخصت ہونے والا ہے “

جمال احسانی کے کلام سے انتخاب پیش ہے۔

ہر آن بڑھتا ہی جاتا ہے رفتگاں کا ہجوم
ہوا نے دیکھ لیے ہیں چراغ سب میرے
٭
اس رستے میں پیچھے سے اتنی آئیں آوازیں جمال ؔ
ایک جگہ تو گھوم کے رہ گئی ایڑی سیدھے پاؤں کی
٭
یاد رکھنا ہی محبت میں نہیں ہے سب کچھ
بھول جانا بھی بڑی بات ہوا کرتی ہے
٭
جو تو گیا تھا تو تیرا خیال رہ جاتا
ہمارا کوئی تو پرسان حال رہ جاتا
٭
اسی مقام پہ کل مجھ کو دیکھ کر تنہا
بہت اداس ہوئے پھول بیچنے والے
٭
یہ کس مقام پہ سوجھی تجھے بچھڑنے کی
کہ اب تو جا کے کہیں دن سنوارنے والے تھے
٭
تری نگاہ سے دنیا د کودیکھنے والا
چراغ کو پس محراب دیکھ سکتا ہے
٭
خدا نے خوش مجھے اوقات سے زیادہ کیا
کہ ہاتھ تنگ رکھا اور دل کشادہ کیا
٭
جہاں بدلنے کا وہ بھی گماں رکھتے ہیں
جو گھر کے نقشے میں پہلے دکان رکھتے ہیں
٭
میرے لیے بہت آسان تھا رہا ہونا
مگر میں پھر بھی تیرے دام سے نہیں نکلا

جمال احسانی 10 فروری 1998 ء کو ہم سے رخصت ہوئے۔ لیکن ان کے کلام کی مہک ہمیشہ محسوس کی جاتی رہے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں