31

حکومتی اراکین کا آرڈر 2020 کے حوالے سے تحفظات کا اظہاران کی ذاتی رائے ہے: مشیراطلاعات

اسلام آباد (ویب ڈیسک) مشیر اطلاعات گلگت بلتستان شمس میر اور وزیر قانون اورنگزیب ایڈوکیٹ کی جانب سے میڈیا کو جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ آرڈر 2020 پر صوبائی حکومت کا موقف دیکھو اور انتظار کرو کی بنیاد پر قائم ہے اور جماعتی و حکومتی موقف کا اظہار مناسب وقت پر کیا جائے گا۔ بیان میں کہا گیاہے کہ دیکھنا یہ ہے کہ وفاقی حکومت آرڈر 2020 پر عمل درآمد کے حوالے سے عوامی مفادات ، توقعات اور گلگت بلتستان کے سیاسی، انتظامی، مالی اور پارلیمانی مفادات کا کہاں تک تحفظ کر سکتی ہے۔

مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان مسلم لیگ کی صوبائی حکومت نے وزیر اعلی گلگت بلتستان حفیظ الرحمن کی قیادت میں گلگت بلتستان کے عوام کی ہر مقتدر حلقوں اور فورم میں بھرپور نمائندگی کی اور گلگت بلتستان کے مفادات اور حقوق کا قومی اور بین القوامی سطح پر تحفظ کیا جس کا ہر شخص اور جماعت معترف ہے۔بیان میں کہا گیا کہ صوبائی اسمبلی سے لیکر سپریم کورٹ تک صوبائی حکومت نے گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کیلئے توانا پالیسی کے تحت خدمات سر انجام دی ہیں اور آڈر 2020 کے حوالے سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی صوبائی حکومت اپنے موقف کو وفاقی حکومت کی جانب اس کے نفاذ کے بعد واضح کرے گی اور اپنی پالیسی کو کھل کر بیان کرے گی اور آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن ایک قومی سیاسی جماعت ہے اور گلگت بلتستان کا سب سے بڑا سیاسی اور پارلیمانی مینڈیٹ مسلم لیگ ن کے پاس ہے لہٰذا صوبائی حکومت پر زیادہ ذمہ داریاںہیں اس لئے بھر پور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ قومی اور صوبائی مفادات کی روشنی میں فیصلہ کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اور چند حکومتی ممبران نے آڈر 2020 کے حوالے سے جو موقف اپنایا ھے وہ ان کا ذاتی رائے ہے بلخصوص جن حکومتی اراکین نے آڈر 2020 کے حوالے سے جن تحفظات کا اظہار کیا ہے وہ بھی ان کی ذاتی رائے ہے اور ان کی رائے پاکستان مسلم لیگ ن یا صوبائی حکومت کاموقف ہر گز نہیں ہو سکتا کیونکہ آڈر 2020 کا ابھی نفاذ نہیں ہوا ہے اور جب یہ آرڈر ہی نہیں آیا تو اس پر جماعتی یا صوبائی حکومت کیونکر رائے دے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم جمہوری روایات کے امین ہیں اور ہر شخص کا بنیادی حق ہے کہ وہ سیاسی معاملات پر آزادنہ اظہار خیال کر سکے۔ اپوزیشن اور چند حکومتی ارکان کی رائے کو جمہوری اظہار رائے کے تناظر میں دیکھنا چاہیے اور اس کا احترام کرنا چاہیے۔ جہاں تک بات پاکستان مسلم لیگ ن کی بطور جماعت اور صوبائی حکومت نے پالیسی موقف کی ہے تو اس کا کھل کر اور واضح طور پر اظہار آڈر 2020 کے نفاذ کے بعد کیا جائے گا اور جماعتی پالیسی اور لائحہ عمل کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں